Daily Mashriq

صحت کارڈ اور بلاسود قرضہ سکیم

صحت کارڈ اور بلاسود قرضہ سکیم

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار پورے صوبے میں پھیلانے،آئندہ بجٹ میں صحت کے لئے اضافی خطیر رقم مختص کرنے اور نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے کا اعلان اپنی جگہ خوش آئند ضرور ہے لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہی سے مشروط قرار پائے گا۔ وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق صحت انصاف کارڈ کی سہولت صوبے کے تمام خاندانوں کو بلاتفریق میسر ہو گی ۔ قبائلی اضلاع کے عوام انصاف کارڈ کی فراہمی تک قومی شناختی کارڈ کو بطور صحت انصاف کارڈ استعمال کرنے سے ان کو فوری طور پر صحت کی مفت سہولیات کے حصول میں آسانی ہوگی۔ محمود خان نے مزید اعلان کیا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کا فیصلہ بھی کر چکی ہے جس کے تحت مستحق نوجوانوں کو 5 سے 10 لاکھ تک کا قرض فراہم کیا جائے گا اور قرض کی واپسی پر کوئی سود نہیں لیا جائے گا۔مفت علاج کی فراہمی اور بلاسود قرضوں کا اجراء ہر دوایسے اقدامات ہیں جن کی افادیت سے انکار نہیں لیکن سرکاری امور میں اتنی پیچیدگیاں مشکلات اور تاخیرہر روز کا تجربہ ہے جس کی مثال ایک دریا عبور کرنے جیسی ہے،جن لوگوں کے پاس صحت کارڈ کی سہولت پہلے سے موجود ہے وہ اس سے صرف داخل مریض کے مفت علاج کی شرط کی بناء پر کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاپائے اور ان کے علاج معالجہ کے ضمن میں مشکلات کا ازالہ نہیں ہوا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہسپتالوں میں کوئی ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے کہ داخلے کے بغیر مریضوں کو بھی علاج کی سہولت دی جا سکے تاکہ عوام کی شکایات میں کمی آئے بلا سود قرضوں کی فراہمی احسن اقدام ہوگا ہمارے تئیں حکومت ناتجربہ کار ہاتھوں میں رقم دینے کی بجائے قرض لینے والے نوجوانوں کو اس رقم کے درست استعمال اور کاروبار میں لگانے کی تربیت اور رہنمائی کا بھی اہتمام کرے اور نوجوانوں کوقرضدار بنا کر قرضوں کی واپسی کے قابل نہ رہنے کے امکان کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ قرضے کی رقم کی واپسی اور اس سے فائدہ اٹھانا اپنی جگہ ایک مشکل کام رہا ہے اور ماضی میں اس قسم کی سکیمیں لاحاصل رہی ہیں جس کے اعادے کو روکنے کیلئے اقدامات پر توجہ دی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ نوجوان قرض کی رقم سے فائدہ اٹھائیں اور یہ رقم ضائع نہ ہو۔

قبروں کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ

میاں گجر غازی بابا قبرستان میں نامعلوم افراد کی طرف سے مبینہ طور پر خزانے کی تلاش میں قبروں کی مسماری صرف افسوسناک نہیں بلکہ بد ترین واقعہ ہے اپنے آبائو اجداد کے مقابر کی بے حرمتی پر اہالیان علاقہ کا سخت مشتعل ہونا فطری امر ہے۔یہ پہلا واقعہ نہیںبلکہ غلط فہمی یا پھر سازش کی بناء پر پہلے بھی اس قسم کے واقعات ہو چکے ہیں معمولی غلط فہمی یا افواہ پر لالچی عناصر کا قبروں کی بے حرمتی کے فعل کا ارتکاب المیہ ہے ایسا واقعہ چونکہ غیر متوقع اور اچانک ہوتا ہے اس لئے پولیس اور انتظامیہ کو بھی اس کی روک تھا م میں ناکامی کا الزام نہیں دیا جا سکتا ۔ ممکن ہے قبضہ مافیا بھی اس قسم کے واقعات میں ملوث ہو اور ان کا مقصد پہلے قبریں مسمار کر کے بعد میں آہستہ آہستہ قبرستان کی زمین پر قبضہ جمانا ہو۔اس افسوسناک واقعہ کی جلد سے جلدتحقیقات کے بعد ملزمان کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچانے میں پولیس اور انتظامیہ کو تساہل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے اہالیان علاقہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کی مد میں پولیس سے پوری طرح تعاون کریں اور ان کے علم میں کوئی بات آجائے یا پھر کوئی شکوک وشبہات پر مبنی افراد سامنے آئیں اور ان کے حوالے سے لوگوں کو مبہم سے مبہم اور کوئی چھوٹی سی بات کا بھی علم ہو تو پولیس کے علم میں لایا جائے تاکہ تحقیقات کے عمل میں آسانی ہو اورملوث عناصر تک پہنچ کر ان کو قانون کی گرفت میں لایا جاسکے۔

کرایوں میں سرکاری اور خود ساختہ اضافہ

شہریوں اور دور دراز کے علاقوں کی طرف عید کے موقع پر سفر کرنے والے مسافروں کی جانب سے شکایت سامنے آئی ہے کہ ٹرانسپورٹرز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عیدی کے نام پر مسافروںسے اضافی کرایہ وصول کرنے لگے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ عید کے موقع پر کرایوں میں خود ساختہ اور من مانا اضافہ روایت رہی ہے سرکاری طور پر بھی کرایوں کی شرح میںردوبدل کیا گیا ہے لیکن ٹرانسپورٹر شائد اسے کافی نہیں سمجھتے اور یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع بلکہ یقینی اضافے کے پیش نظرکرایوں میں مزید اضافہ کر رہے ہیں عوام یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کس کے دروازے پر اپنی فریاد لے کر جائیں۔ہر صورت میں بیچارہ عام آدمی ہی پس رہا ہے اور اس کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں ۔

متعلقہ خبریں