Daily Mashriq

مشیر خزانہ یا آئی ایم ایف کے ترجمان؟

مشیر خزانہ یا آئی ایم ایف کے ترجمان؟

تحریک انصاف کی کور کمیٹی ان دنوں بہت پریشان ہے، وہ سمجھتی ہے کہ اگر قرضوں کی ری شیڈولنگ بروقت کرلی ہوتی تو معاشی مسائل کی شدت میں اب تک بہت کمی آچکی ہوتی۔ کابینہ میں تبدیلی سے تحریک انصاف کی پہچان اور نعرے کو نقصان پہنچا ہے، ٹیکنوکریٹس کی ٹیم بھی اگر کارکردگی نہیں دکھاتی تو عمران خان حکومت کو نقصان ہوگا۔ عمران خان نے اسدعمر کو معاشی شعبے میں بہتری نہ لانے کی صورت میں بتادیا تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور پھر وہی ہوا۔ فی الحال انہیں اس بات کا بھی اطمینان ہے کہ اپوزیشن منظم نہیں، اور اس کے پاس کوئی بیانیہ بھی نہیں۔ مریم نواز کے پاس پارلیمنٹ ہے اور نہ حکومت۔ بلاول بھٹو کی سیاسی قابلیت کا بھی حکومت کی سیاسی ٹیم کو ادراک ہوچکا ہے۔حکومت کو سب سے بڑا امتحان بجٹ کے موقع پر پیش آئے گا۔ اس کی اتحادی جماعت کے سربراہ اخترمینگل بجٹ پر ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں، اگر وہ اپنا فیصلہ برقرار رکھتے ہیں تو پھر یہ حکومت بجٹ منظور نہیں کرا سکے گی اور پارلیمانی نظام میں بجٹ منظور نہ کراسکنے والی حکومت اسمبلی کا اعتماد کھوکر ختم ہوجاتی ہے۔ حکومت کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ اخترمینگل کو راضی رکھے، دوسری صورت میں عمران خان کی حکومت بجٹ پاس نہ کراسکی تو برطرف ہوجائے گی، کیونکہ یہ حکومت اسمبلی میں محض چھ ووٹوں کی برتری کے ساتھ موجود ہے اور اخترمینگل کے پاس چار ووٹ ہیں۔ اخترمینگل کی طرح جی ڈی اے بھی حکومت سے نالاں ہے۔ وزیراعظم کے قریبی چار سینئر پارٹی ارکان نے انہیں ایک ورکنگ پیپر دیا ہے، لیکن اب فیصلے ٹیکنوکریٹس کے ہاتھوں میں جاچکے ہیں جو اس ملک کی اکانومی کو دستاویزی شکل میں ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ انہیں کچھ مشکلات ہیں، وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملک میں وسائل کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، بنیادی مسئلہ نظام پر عدم اعتماد ہے، قانون پر عمل درآمد نہ ہونا اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ کوئی بھی حکومت کل جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے زیادہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ملک پر مسلط نہیں کرے گی۔ لیکن اس وقت ملک پر قرضوں کا بوجھ کل قومی پیداوار کے75 فیصد سے بڑھ چکا ہے۔ سرکاری سطح پر اخراجات میں کمی کا اعلان اور دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عملاً ایسا نہیں ہے، سرکاری اعداد و شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ ملک گزشتہ چالیس سال سے ادائیگیوں کے عدم توازن کا شکار چلا آرہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ روپے کی قیمت میں مسلسل کمی ہورہی ہے ہم زرمبادلہ کمانے کے لیے برآمدات بڑھانے کے بجائے روپے کی قیمت میں کمی کرتے چلے جارہے ہیں۔ اگر ملک پر کل قرض کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے ذمے قرض میں70 فیصد اضافہ روپے کی قدر میں کمی کرنے سے ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدہ بھی روپے کی قدر میں کمی لانے کا سبب بنا ہے اسی لیے آئی ایم ایف سے معاہدے کی منظوری تک شرائط منظرعام پر نہیں لائی جائیں گی۔ بنیادی طور پر آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو معاشی پیکیج دیتے ہوئے اسے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں مدد فراہم کرتا ہے، یہ کسی ملک کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیسے نہیں دیتا۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اب آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد بھی سعودی عرب سے ادھار تیل لینے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ یہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ دفاعی بجٹ مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے، تیل درآمد کرنے کے اخراجات بچاکر حکومت دوسری ضروریات پوری کرنا چاہتی ہے، لیکن تین سال کے بعد مع سود تیل کی قیمت کی واپسی بھی ایک مسئلہ بن جائے گی۔یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹامپ پیپر پرمعاہدہ کیا جارہا ہے۔ یہ تین سال کا پروگرام ہے، اس پر شرح سود 3.2 فیصد ہوگی۔ مشیر خزانہ کہتے ہیں کہ بجٹ میں حکومتی اخراجات اور سول کے ساتھ فوج میں بھی اخراجات کم کیے جائیں گے۔ بجلی کے خسارے کوکم کیا جائے گا، ہر ماہ ہونے والے 36 ارب روپے خسارے کو 26 ارب تک لایا جائے گا، اور ایف بھی آر کو 5550 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف دیا جارہا ہے۔ حکومت نے اگرچہ اعلان کیا ہے کہ غریب صارفین کے لیے بجلی، گیس استعمال کرنے پر سبسڈی دے گی لیکن جس روز بجٹ پیش ہوا اسی روز دس لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے چلے جائیں گے، اگلے چھ ماہ میں تعداد پچاس لاکھ تک جاپہنچے گی۔یہ تمام فیصلے مشیر خزانہ کے اپنے ہیں، ان کا تحریک انصاف کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مرضی کے فیصلوں کے لیے اپنی ٹیم لاچکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے سربراہ کی تبدیلی کے بعد اب سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا کو فارغ کردیا گیا ہے اور کہا گیا کہ حکومت اور ایوانِ وزیراعظم میں نوازشریف کی لابی کے افراد تعینات ہیں جو ہر فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ہی نوازشریف کو اطلاع کردیتے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے چیئرمین کے بعد اب یونس ڈھاگا بھی اسی لیے ہٹائے گئے۔ یونس ڈھاگا ایک فرض شناس افسر ہیں، نوازشریف جب طیارہ سازش کیس میں کراچی لانڈھی جیل میں تھے تو یونس ڈھاگا ان دنوں کراچی میں کمشنر تھے، حکومت سمجھتی ہے کہ اس وقت انہوں نے نوازشریف کو بہت ریلیف دیا تھا، اسی لیے انہیں نوازشریف کی لابی کا آدمی سمجھا گیا، جب کہ حقائق کچھ اور ہیں اور سچ یہ ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پرانی ٹیم کی جگہ اپنی ٹیم لانا چاہتے ہیں۔مشیر خزانہ ایک ایسی ٹیم کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جو آئی ایم ایف کے سامنے مکمل سرینڈر کرے، وہ مخالفت کرنے یا قومی مفاد میں مشورہ دینے اور نصیحت کرنے والوں سے کام نہیں لینا چاہتے۔ ان حقائق کی روشنی میں ہمارامعاشی مستقبل کیا ہو سکتا ہے اسے سمجھنے کیلئے افلاطون کی عقل کی ضرورت نہیں بلکہ یہ نوشتہ دیوار ہے جو سب کو دکھائی دے رہا ہے اگر کسی کو دکھائی نہیں دے رہا تو وہ حکومت ہے۔

متعلقہ خبریں