Daily Mashriq


وہی بچپن کے لمحے لوٹ آئیں

وہی بچپن کے لمحے لوٹ آئیں

آج کے بچے تختی کے بارے میں بھلا کیا جانتے ہوں گے بلکہ اب تو سکولوں، کالجوں میں تختہ سیاہ کی جگہ بھی وائٹ بورڈ نے لے لی ہے جس پر آسانی سے مٹ جانے والے مارکر سے ہی لکھ کر اساتذہ انہیں اسباق سکھاتے رہتے ہیں، جبکہ ہماری نسل وہ ہے جو پرائمری جماعت تک ٹاٹ سکولوں میں پڑھتی رہی، اکثر سکولوں میں پنکھے تو کہاں ہوتے تھے کہ یہ سہولت ہر گھر میں بھی نہیں ہوتی تھی بلکہ کلاس روم میں چھت کیساتھ ایک بہت بڑے جھالر نما کپڑے کو لٹکا کر اس کی رسی باری باری طالبعلم کھینچ کر نیچے بیٹھے ہوئے طلبہ پر ہوا چھوڑتے تھے گویا ہاتھ کے بنے ہوئے پنکھے کی طرح گرمی کی شدت کو کم کیا جاتا۔ تب نہ صرف بلیک بورڈ پر استاد چاک کیساتھ سبق لکھ کر تعلیم کو ارزاں کرتا، جسے مٹانے کیلئے کپڑے کا ایک جھاڑن استعمال کیا جاتا جو گھس جاتا تو اس کی جگہ نیا جھاڑن لا کر رکھ دیا جاتا اور بلیک بورڈ کو صاف کرنے کی ذمہ داری بھی طلبہ ہی سے لی جاتی۔ اس کے کافی عرصہ بعد ایسے برش بنائے گئے جس طرح جوتے پالش کرنے والے برش ہوتے ہیں مگر ان لکڑی کے ٹکڑوں پر بال نہیں بلکہ کمبل نما کپڑا لگا ہوتا، یوں جھاڑن کے مقابلے میں یہ دیرپا بھی ہوتا اور اس سے بورڈ کو رگڑتے ہوئے چاک بھی کم کم ہی ہاتھوں پر لگتا، اب بلیک بورڈ کی جگہ وائٹ بورڈ اور مارکر نے قبضہ جما لیا ہے جبکہ تختی کا استعمال بالکل ترک کیا جا چکا ہے جس کے کئی فائدے ہوتے تھے۔ یعنی ایک تو کاپیوں، پنسلوں پر اُٹھنے والے خرچ سے جان چھوٹی ہوئی تھی، جس نے آج کے والدین کو مسلسل عذاب سے دوچار کر رکھا ہے کیونکہ اب سکولوں میں ایک عمومی ’’بیماری‘‘ جنم لے چکی ہے کہ اکثر ’’نام بڑے اور درشن چھوٹے‘‘ قسم کے تعلیمی اداروں نے اپنے اپنے سکولوں کی کاپیاں چھپوا کر بازار کے مقابلے میں مہنگے داموں تھمانا شروع کر دی ہیں، جس سے بے چارے والدین بھاری فیسوں کیساتھ ساتھ اس اضافی خرچے کا بار اُٹھانے پر بھی مجبور ہوتے ہیں، جبکہ تختی ایک بار خرید لی تو سال ہاسال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ چلتی تھی جس پر ایک خاص قسم کے قلم سے جو بازار سے دو پیسے کا مل جاتا، روشنائی سے لکھا جاتا جسے عمومی زبان میں سیاہی کہا جاتا، اس سیاہی کی پڑیاں بھی بازار میں دستیاب تھیں اور تاج مارکہ روشنائی کا ایک چھوٹا پیکٹ کسی بھی دوائی کی چھوٹی شیشی میں ڈال کر ساتھ کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا ڈال دیا جاتا، تاکہ وہ روشنائی اس کپڑے کے ٹکڑے میں جذب ہو کر محفوظ ہو جائے اور اس میں قلم، جسے ضرورت کے مطابق چاقو یا بلیڈ سے کاڑھ لیا جاتا، ڈبوڈبو کر تختی پر نہ صرف سبق آموختہ کے طور پر اتارا جاتا بلکہ کبھی کبھی کلاس میں خوشخطی کے مقابلے بھی منعقد کرائے جاتے اور خوبصورت لکھائی کرنے والوں کو سکول ماسٹر نمبر دیکر حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ آج بعض اوقات فیس بک پر خطاطی کے جو نمونے دیکھنے کو مل جاتے ہیں، یہ اسی دور کی یادگار ہیں کہ جن لوگوں نے ابتداء میں خوشخطی سیکھی وہ آگے جا کر مزید پریکٹس اور خطاطوں کی تربیت سے اسی میدان میں آگے بڑھے اور ان کی خطاطی کے شہ پارے ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں۔ یہی لوگ اخبارات اور رسائل میں شعبۂ کتابت سے وابستہ رہتے تھے، البتہ اب تو کمپیوٹر ڈیزائننگ میں بھی تجربات کئے جارہے ہیں اور خطاطی کے نت نئے نمونے سامنے آتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ بات کسی اور سمت مڑ جائے واپس بچپن اور لڑکپن کے دور میں جھانکتے ہیں جس پر خود میرا ایک شعر ہے کہ

وہی بچپن کے لمحے لوٹ آئیں

ہمارے ہاتھ میں پھر جھنجھنے ہوں

خیر وہ دور جھن جھنوں والا بھی نہیں تھا بلکہ سکول جانے کا زمانہ جھن جھنوں کو بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے، تو جس تختی کی بات ہم کر رہے تھے وہ بازار سے بہ آسانی (چھوٹے سائز کی دس بارہ آنے) اور بڑے سائز کی ایک روپیہ تک میں) دستیاب ہو جاتی تھی، مگر ایک بات آج تک ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ جب بھی نئی تختی خریدی جاتی تو ساتھ ہی یہ مشورہ مفت میں ملتا کہ اس پر انڈے کی زردی لگا کر دھوپ میں خشک کرو اور پھر استعمال کرو، ویسے تو ہم یہی کرتے کہ بازار سے دو انڈے لا کر ان کی زردی تختی کے دونوں طرف لگا کر دھوپ میں رکھ دیتے اور باری باری دونوں جانب لگے ہوئے انڈے کو سوکھنے دیتے، بعد میں اسے دھوکر اس پر گاچی مٹی سے اس کی سطح ایسے ہو جاتی کہ خواہ روشنائی سے قلم کے ذریعے کچھ تحریر کیا جائے یا پھر جمع تفریق اور تقسیم کے سوالات پنسل کے ذریعے لکھے جائیں، یہ سب نمایاں نظر آتا، تختی پر انڈے کی زردی کی مانند جب بعد میں ہائی سکول کے زمانے میں ہم نے کرکٹ کھیلنا شروع کی تو بازار سے نیا بیٹ جب بھی لایا جاتا تو ’’ماہرین‘‘ جو ہماری ہی طرح کے اور ہمارے ہی ہم عمر کھلاڑی ہوتے، یہ مشورہ دیتے کہ بیٹ کو مضبوط، نرم وگداز اور خوبصورت ہٹ لگانے کیلئے السی کے تیل میں رکھو اور تیل کی مالش بھی کرو، ہم ایک چھوٹے سے کٹورانما برتن میں السی کا تل قصہ خوانی کے دکانداروں سے حاصل کرتے اور اس سے بیٹ کی نہ صرف مالش کرتے بلکہ اسی کٹورے میں اسے دیوار کیساتھ ٹکا کر کھڑا کر دیتے اور دو تین روز کی مشقت کے بعد اسے کسی کپڑے سے خوب صاف کر کے اور اس کے ہینڈل پر سائیکل ٹیوب کا ٹکڑا چڑھا کر نہ صرف اس پر لپٹے ہوئے دھاگے کو محفوظ کر لیتے بلکہ اس کے گرپ بھی مضبوط کرلیتے۔ پھر کھیل کا میدان ہوتا اور ہم ہوتے۔(باقی باقی ہے)

متعلقہ خبریں