Daily Mashriq

جواب عوامی نمائندوں کو دینا پڑے گا

جواب عوامی نمائندوں کو دینا پڑے گا

ہمارے عوام اس مخمصے میں ہیں وہ خوشی منائیں یاماتم کریں انہوں نے جب سے سنا ہے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ دوبارہ سے مشیر خزانہ(ہونے والے ) بن چکے ہیںاس سے پہلے انہوں نے پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے بجٹ پیش کیاتو اس میں روٹی کپڑا اور مکان کا خاص طورپر خیال رکھا گیا ہے جس سے ’’عوام‘‘ یقینا خوش رہے اور ایک بار پھر پرامید ہیں آنے والا بجٹ بھی عوامی امنگوں کے ’’عین‘‘ مطابق ہوگا۔ تحریک انصاف کے وزیر اعظم عمران خان نے وزارت ِ خزانہ کو آئندہ بجٹ کے لئے ابھی سے ہدایات دینا شروع کردی ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیر اعظم کو معیشت کی صورتحال اور اس کے استحکام کے لئے آئندہ منصوبوں کے بارے میںبھرپور انداز میں بتادیا ہوگا۔وزیراعظم نے ہدایت دے دی کہ نئے بجٹ میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ وفاقی حکومت کے مالیاتی منتظمین سے کہا کہ وہ اقتصادی استحکام پیدا کرنے اور موثر مالیاتی پالیسیاں تشکیل دینے پر بھی توجہ دیں۔ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو اقتصادی استحکام اور کساد بازاری کے خاتمے میں مددگارہوں۔مہنگائی میں کمی عوامی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں موسم کے گرم ہونے سے سیاست میںگرمی کے خواہاں ہیں۔سیاست میں گرمی آئے نہ آئے موسم گرم سے گرم تر ہورہا ہے جون سے موسم کی تمازت بڑھتی جائے گی ۔ اس موسم میں ملک عزیز میں درجہ حرارت اپنے نقطہ عروج کو پہنچتا ہے یہ مہینہ صرف گرمی ہی نہیں بجٹ کا بھی ہے اور اسی ماہ ہماری حکومت چاہے وہ سیاسی ہو یا کسی آمر کی ایک بجٹ بناتی ہے جسے حکومت والے عوام کی توقعات کے عین مطابق گردانتے ہیں لیکن عوام سے نہ کبھی پوچھا گیا ہے اور نہ ہی پوچھا جانا ہے ۔عوام کو بجٹ بنانے سے لے کر بجٹ پر عمل درآمد تک کسی بھی چیز میں براہ راست شامل نہیں کیا جاتا ہاں البتہ یہ بجٹ چونکہ عوام کے لئے ہوتا ہے اس لئے عوام کو’’ لگ پتا‘‘ جاتاہے۔یہ بجٹ کی گرمی ہوتی ہے کہ موسم کی کہ عوام غصے سے پاگل ہوجاتے ہیں نہ دن کو آرام ملتا ہے نہ رات کو چین کی کوئی شکل نظر آتی ہے۔ہر طرف ہو کا عالم ہوتاہے گلیاں بازار جیسے کسی ویرانے کی طرح معلوم ہوتے ہیں ۔بازار والے رو رہے ہیں کہ ان کے روزگار تباہ ہوگئے ہیںکوئی بازاروں کا رخ ہی نہیں کرتا لیکن دوسری طرف اگر عوام کے پاس جایا جائے تو سننے کو ملتا ہے کہ مہنگائی نے ان کی کمر توڑدی اور موجودہ بجٹ نے تو انہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ بازار جانا تو درکنار وہ گھروں سے باہر بھی نکل سکیں ۔غریب آدمی سارادن محنت مزدوری کرکے جو کماتا ہے وہ مشکل سے ان کے بجلی کے بل اور کھانے پینے کے اخراجات پر نکل جاتاہے۔ بازاروں سے بڑی بڑی شاپنگ کرنا اب صرف خواب اور خیال رہ گیاہے۔ہر موسم میں نت نئے کپڑے پہننے والے اب تن بھی ڈھانپ لیں تو بڑی بات ہے ۔موسموں کی مناسبت سے کپڑے پہننا تک نصیب نہیں تو فیشن اور عیاشی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہمارے بازار سنسان تو کیا کھنڈر بھی بن جائیں عام آدمی کی پہنچ سے سب کچھ باہر ہے وہ آٹادال اور چاول کے چکر میں ہی سرگرداں ہے۔ آئے روز نئے برانڈڈ ملبوسات متعارف کروانے والی کمپنیاں بھی پریشان ہیں کہ یہاں کے عام آدمی کو اس فیشن کو دیکھنے تک کا وقت نہیں مل رہا ۔اس ملک خداداد میں غریب کی تعداد دن بہ دن برھتی جارہی ہے ۔جو پاکستانی چند سال پہلے کہتا تھا کہ اس کاگزارہ خوب ہورہا ہے اور وہ سفید پوشوں کی طرح زندگی گزار رہا ہے آج اسکا گزارہ بھی مشکل ہے اور وہ بھی اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے میں مگن ہے۔ہمارے فارن کوالیفائڈمشیراور ہونے والے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے دور میں فرماتے رہے ہیں کہ دنیا بھر میں کساد بازاری کے باوجود پاکستان کی معیشت میں مثبت رجحان ہے اور رواں مالی سال کا آدھا حصہ گزرجانے پراربوں روپے ٹیکس وصول ہوچکے ہیں باقی ماندہ چند ماہ میں اور بھی اربوں روپے ملیں گے لیکن انہوں نے عوامی حکومت کو یہ نہیں بتایا کہ یہ اربوں روپے اکٹھے تو ہورہے ہیں لیکن جاکہاں رہے ہیں اور خزانہ ابھی بھی خالی کا خالی کیوں ہے اور اس سے عوام کو کوئی فائدہ یا ریلیف کیوں نہیں مل رہا ؟ کیوں پیٹرول اور گیس روز بہ روز مہنگے ہورہے ہیں؟ کیوں عوام مہنگائی کے ہاتھوں اتنے تنگ ہیںکہ فریاد کرنے کی بھی ہمت نہیں رہی اس پر طرہ یہ کہ اگر وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو نہیں بتایا تو اس وقت کے عوام کے ہر دلعزیز وزیر اعظم نے بھی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ و ہ آخر پوچھ ہی لیتے کہ میرے ہونہار وزیر خزانہ تمہارے یہ اہداف اور اربوں کی ٹیکس وصولی تو میں مانتا ہوں لیکن کیوں تم ہر سال مجھے اغیار سے قرض لینے اور اس پر ڈھیروں روپے سود دینے کا مشور ہ دیتے ہو۔مجھے امید کامل ہے کہ اب کی تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر اعظم عمران خان یہ ضرور پوچھیں گے اور اگر نہیں پوچھا تو جان لیں پھر عوام ان سے پوچھیں گے جب نئے الیکشن ہوں گے اور یہ پھر سے گلی گلی ووٹ مانگنے جائیں گے تب عوام خود ہی پوچھ لیںگے اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ فارن کوالیفائڈ وزیر ماضی کی طرح اب بھی بھاگ کر فارن جاچکے ہوں گے اور عوام کو آپ کو اکیلے ہی فیس کرنا ہے۔

ہمارے عوام اس مخمصے میں ہیں وہ خوشی منائیں یاماتم کریں انہوں نے جب سے سنا ہے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ دوبارہ سے مشیر خزانہ(ہونے والے ) بن چکے ہیںاس سے پہلے انہوں نے پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے بجٹ پیش کیاتو اس میں روٹی کپڑا اور مکان کا خاص طورپر خیال رکھا گیا ہے جس سے ’’عوام‘‘ یقینا خوش رہے اور ایک بار پھر پرامید ہیں آنے والا بجٹ بھی عوامی امنگوں کے ’’عین‘‘ مطابق ہوگا۔ تحریک انصاف کے وزیر اعظم عمران خان نے وزارت ِ خزانہ کو آئندہ بجٹ کے لئے ابھی سے ہدایات دینا شروع کردی ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیر اعظم کو معیشت کی صورتحال اور اس کے استحکام کے لئے آئندہ منصوبوں کے بارے میںبھرپور انداز میں بتادیا ہوگا۔وزیراعظم نے ہدایت دے دی کہ نئے بجٹ میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ وفاقی حکومت کے مالیاتی منتظمین سے کہا کہ وہ اقتصادی استحکام پیدا کرنے اور موثر مالیاتی پالیسیاں تشکیل دینے پر بھی توجہ دیں۔ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو اقتصادی استحکام اور کساد بازاری کے خاتمے میں مددگارہوں۔مہنگائی میں کمی عوامی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں موسم کے گرم ہونے سے سیاست میںگرمی کے خواہاں ہیں۔سیاست میں گرمی آئے نہ آئے موسم گرم سے گرم تر ہورہا ہے جون سے موسم کی تمازت بڑھتی جائے گی ۔ اس موسم میں ملک عزیز میں درجہ حرارت اپنے نقطہ عروج کو پہنچتا ہے یہ مہینہ صرف گرمی ہی نہیں بجٹ کا بھی ہے اور اسی ماہ ہماری حکومت چاہے وہ سیاسی ہو یا کسی آمر کی ایک بجٹ بناتی ہے جسے حکومت والے عوام کی توقعات کے عین مطابق گردانتے ہیں لیکن عوام سے نہ کبھی پوچھا گیا ہے اور نہ ہی پوچھا جانا ہے ۔عوام کو بجٹ بنانے سے لے کر بجٹ پر عمل درآمد تک کسی بھی چیز میں براہ راست شامل نہیں کیا جاتا ہاں البتہ یہ بجٹ چونکہ عوام کے لئے ہوتا ہے اس لئے عوام کو’’ لگ پتا‘‘ جاتاہے۔یہ بجٹ کی گرمی ہوتی ہے کہ موسم کی کہ عوام غصے سے پاگل ہوجاتے ہیں نہ دن کو آرام ملتا ہے نہ رات کو چین کی کوئی شکل نظر آتی ہے۔ہر طرف ہو کا عالم ہوتاہے گلیاں بازار جیسے کسی ویرانے کی طرح معلوم ہوتے ہیں ۔بازار والے رو رہے ہیں کہ ان کے روزگار تباہ ہوگئے ہیںکوئی بازاروں کا رخ ہی نہیں کرتا لیکن دوسری طرف اگر عوام کے پاس جایا جائے تو سننے کو ملتا ہے کہ مہنگائی نے ان کی کمر توڑدی اور موجودہ بجٹ نے تو انہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ بازار جانا تو درکنار وہ گھروں سے باہر بھی نکل سکیں ۔غریب آدمی سارادن محنت مزدوری کرکے جو کماتا ہے وہ مشکل سے ان کے بجلی کے بل اور کھانے پینے کے اخراجات پر نکل جاتاہے۔ بازاروں سے بڑی بڑی شاپنگ کرنا اب صرف خواب اور خیال رہ گیاہے۔ہر موسم میں نت نئے کپڑے پہننے والے اب تن بھی ڈھانپ لیں تو بڑی بات ہے ۔موسموں کی مناسبت سے کپڑے پہننا تک نصیب نہیں تو فیشن اور عیاشی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہمارے بازار سنسان تو کیا کھنڈر بھی بن جائیں عام آدمی کی پہنچ سے سب کچھ باہر ہے وہ آٹادال اور چاول کے چکر میں ہی سرگرداں ہے۔ آئے روز نئے برانڈڈ ملبوسات متعارف کروانے والی کمپنیاں بھی پریشان ہیں کہ یہاں کے عام آدمی کو اس فیشن کو دیکھنے تک کا وقت نہیں مل رہا ۔اس ملک خداداد میں غریب کی تعداد دن بہ دن برھتی جارہی ہے ۔جو پاکستانی چند سال پہلے کہتا تھا کہ اس کاگزارہ خوب ہورہا ہے اور وہ سفید پوشوں کی طرح زندگی گزار رہا ہے آج اسکا گزارہ بھی مشکل ہے اور وہ بھی اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے میں مگن ہے۔ہمارے فارن کوالیفائڈمشیراور ہونے والے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے دور میں فرماتے رہے ہیں کہ دنیا بھر میں کساد بازاری کے باوجود پاکستان کی معیشت میں مثبت رجحان ہے اور رواں مالی سال کا آدھا حصہ گزرجانے پراربوں روپے ٹیکس وصول ہوچکے ہیں باقی ماندہ چند ماہ میں اور بھی اربوں روپے ملیں گے لیکن انہوں نے عوامی حکومت کو یہ نہیں بتایا کہ یہ اربوں روپے اکٹھے تو ہورہے ہیں لیکن جاکہاں رہے ہیں اور خزانہ ابھی بھی خالی کا خالی کیوں ہے اور اس سے عوام کو کوئی فائدہ یا ریلیف کیوں نہیں مل رہا ؟ کیوں پیٹرول اور گیس روز بہ روز مہنگے ہورہے ہیں؟ کیوں عوام مہنگائی کے ہاتھوں اتنے تنگ ہیںکہ فریاد کرنے کی بھی ہمت نہیں رہی اس پر طرہ یہ کہ اگر وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو نہیں بتایا تو اس وقت کے عوام کے ہر دلعزیز وزیر اعظم نے بھی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ و ہ آخر پوچھ ہی لیتے کہ میرے ہونہار وزیر خزانہ تمہارے یہ اہداف اور اربوں کی ٹیکس وصولی تو میں مانتا ہوں لیکن کیوں تم ہر سال مجھے اغیار سے قرض لینے اور اس پر ڈھیروں روپے سود دینے کا مشور ہ دیتے ہو۔مجھے امید کامل ہے کہ اب کی تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر اعظم عمران خان یہ ضرور پوچھیں گے اور اگر نہیں پوچھا تو جان لیں پھر عوام ان سے پوچھیں گے جب نئے الیکشن ہوں گے اور یہ پھر سے گلی گلی ووٹ مانگنے جائیں گے تب عوام خود ہی پوچھ لیںگے اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ فارن کوالیفائڈ وزیر ماضی کی طرح اب بھی بھاگ کر فارن جاچکے ہوں گے اور عوام کو آپ کو اکیلے ہی فیس کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں