Daily Mashriq


زندگی کی حقیقت

زندگی کی حقیقت

صوفی شاعر میاں محمد بخش فرماتے ہیںکہ وہ انسان جس سے سب پیار کرتے نہیں تھکتے مگر بعد از مرگ اس کا جسد خاکی گھر کے صحن میں پڑا ہوتا ہے وقت رخصت وہ اتنا ڈرائونا ہوجاتا ہے کہ اس کے اپنے گھر والے بھی اسے ہاتھ لگاتے ڈرتے ہیںوہ بڑے دردناک انداز میں پوچھتے ہیںکہ جن بچوں کے لیے تم نے گناہوں کی تجارت کی تھی آج وہ کہاں ہیں؟آج تجھے رشتے دار اور بہن بھائی بھی ہاتھ لگاتے ڈرتے ہیںتم پائوں پھیلائے صحن میں پڑے ہوتے ہو اور سارے اسے جلدی نکالوجلدی نکالو کی صدائیں بلند کرتے ہیںدوست قبر پر مٹھیاں بھر بھر کر مٹی ڈالتے ہیں،دعا مانگ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور پھر لوٹ کر کبھی خبر بھی نہیں لیتے !اور جن کے بغیر اس دنیا میں ایک لمحہ بھی نہیں گزرتا تھا اب وہ شکلیں بھی یاد نہیں رہتیںاس دنیا میں جوکچھ بنایا جاتا ہے اس نے ایک دن اجڑناہوتا ہے اور جو پیدا ہوتا ہے اس نے ایک دن مرنا ہوتا ہے ماں کے مرنے سے والدین مرجاتے ہیں اور باپ مرے تو گھر سنسان ہوجاتا ہے اور اگر بھائی مرجائے تو یوں لگتا ہے جیسے میلہ اجڑ گیا ہو!دو چار اشعار میں درویش نے زندگی کی ساری کہانی اور اس کی حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے ! ہم اس چند روزہ فانی دنیا کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے ایسے جیتے ہیں جیسے کبھی مرنا نہیں !منصوبہ بندی کی صورت یہ ہوتی ہے جیسے سینکڑوں برس اس جہاں ناپائیدار میں رہنا ہے !ہمیں اس دنیا میں سب کچھ یاد رہتا ہے جو یاد نہیں رہتی وہ موت ہے ! انسان کی ناعاقبت اندیشی تو دیکھئے ! انسان کا سب سے پہلا شکار اس کا اپنا بھائی تھا انسانیت اس وقت تڑپ اٹھی ہوگی جب قابیل نے اپنے بھائی ہا بیل کا شکار کیا اور پھر اس کے بعد حضرت انسان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا انسان کا سب سے بڑا شکاری انسان ہے !آج اکیسویں صدی میں انسان مہذب اور تہذیب یافتہ ہونے کے دعوے کرنے کے باوجود انسان کا شکار کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اب شکار کے انداز بدل گئے ہیںاب انسان کی جان سے زیادہ اس کے مال کا شکار کیا جاتا ہے انسان اپنے ہی بھائی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے کئی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے اور یہ بددیانتی اور دھوکا صرف کسی ایک طبقے تک محدود نہیںہے شکار کی یہ کہانی نیچے سے شروع ہو کر اوپر بہت اوپر تک چلی جاتی ہے ہتھ ریڑھی پر پھل بیچنے والے بڑی چابک دستی اور صفائی کے ساتھ آپ کے شاپر میں گلے سڑے پھل ڈال دیتے ہیں اس دھاندلی کا علم آپ کو اس وقت ہوتا ہے جب آپ اپنے گھر پہنچ کر شاپر کھولتے ہیںدراصل یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو جہاں بھی ہو جس مقام پر بھی ہو حلال حرام سے بے نیاز ہوکر آپ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے سرکاری دفاتر میں کام کی رفتا ر سب کو معلوم ہے فائل ایک میز سے دوسری میز تک پہنچنے کے لیے چیونٹی کی رفتار سے سفر کرتی ہے ایک دن کے کام پر بسا اوقات کئی کئی ہفتے لگ جاتے ہیں اور جس فائل کا وارث ہوشیار ہو وہ متعلقہ اہل کار کی مٹھی گرم کرکے اپنی فائل کو منزل مقصود تک پہنچا نے میں دیر نہیں لگاتا ہمارے ایک مہربان کی ایک فائل اسی طرح کسی دفتر میں پھنسی ہوئی تھی انہوں نے کئی مرتبہ سر کے بل کوچہ محبوب کا طواف کیا لیکن زمین جنبد نہ جنبدگل محمد کے مصداق ان کی فائل فائلوں کے انبار میں دبی رہی وہ تو ان کی خوش قسمتی تھی کہ اپنے ایک دوست سے اپنی پریشانی کا تذکرہ کر بیٹھے وہ دوسرے دن ان کے ساتھ متعلقہ دفتر گئے اور وہاں موجود کلرک سے کہا جناب یہ مرے دوست انتہائی سادہ لوح ہیں یہ آپ کے پیٹ کی دعا نہیں لیتے تو ان کا کام کیسے ہوگا ؟پھر انہوں نے اپنی جیب سے پانچ سو روپے کا ایک نوٹ نکالا کلرک کے پیٹ کی دعا لی دوسرے دن جب ہمارے سادہ لوح مہربان متعلقہ دفتر پہنچے تو ان کا کام ہو چکا تھااب یہ وبا اس قدر پھیل چکی ہے کہ لوگ اپنے جائز کام کروانے کے لیے بھی ذہنی طور پر رشوت دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

جب تک فرد اپنے آپ کو درست نہیں کرتا اور جب تک ہمارا کلمہ ہمارے دلوں میں نہیں اترتا اور ہمارے اندر یہ احساس پیدا نہ ہو کہ ایک دن میں نے مرنا بھی ہے اور میرے ساتھ حساب کتاب بھی ہونا ہے میں نے رب کریم کے سامنے بھی پیش ہونا ہے اگر یہ احساس ایک مرتبہ پختہ ہوجائے تو یقین کیجیے ہمارا کردار سنور جائے گا ہماری عبادات بھی دکھاوے کی ہیں ریا کاری بہت ہے اور اخلاص کم ہے اگر صرف بسم اللہ بھی اخلاص کے ساتھ پڑھ لی جائے تو بہت ہے لیکن اخلاص ناپید ہے اگر ایک مرتبہ اخلاص پیدا ہوگیا تو پھر ہم رزق کے لیے چوری بھی نہیں کریں گے بچوں کو حرام رزق بھی نہیں کھلائیں گے کسی انسان کو نقصان بھی نہیں پہنچائیں گے اور ہمارے تو سارے معاملات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ صرف اور صرف اللہ کریم کا فضل ہی ہمارے کام آسکتا ہے ورنہ ہم نے خیر کا ہر دروازہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنے اوپر بند کر رکھا ہے ! صرف ایک فرد نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی سارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے سب دوسروں کو ہدف تنقید بنانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں مگر اپنے گریباں میں جھانکنے کی زحمت کوئی بھی گوارا نہیں کرتا بس اللہ پاک ہمارے حال پر رحم کرے اگر اللہ کریم اپنی بے پایاں رحمت سے ہماری مغفرت فرمادے تو اور بات ہے اور اگر بات حساب کتاب کی ہو تو پھر یقین کیجیے کسی کی بھی خیر نہیں ہے حمام میں سب ننگے ہیںاللہ تعالیٰ ہمیں اچھا انسان بننے کی توفیق نصیب فرمائے ! ۔

متعلقہ خبریں