Daily Mashriq


پی ایس فائنل میچ کا لاہور میں انعقاد

پی ایس فائنل میچ کا لاہور میں انعقاد

پی ایس ایل کا فائنل میچ لاہور میں کرانے کا فیصلہ جاری حالات میں دل گردے کا فیصلہ ضرور محسوس ہوتا ہے لیکن پاکستان میں کرکٹ کی بحالی اور ہر قسم کے دہشت گردوں کو ایک بڑا چیلنج دینا ہی تھا۔ اگر پی ایس ایل کے فائنل کو لاہور میں منعقد کرانے کے فیصلے کو اس تناظر میں لیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ وطن عزیز میں اگرچہ دہشت گردی کا مفہوم بم دھماکوں اور خود کش حملوں کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔تخریب کاری سبوتاژکی کارروائیوں اور اس نوعیت کی دیگر سازشوں کو ہم دہشت گردی میں شمار نہیں کرتے حالانکہ یہ سب معاملات ہی یا تو دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی طرح اس سے مربوط امور ضرور ہیں۔ اگر کھیل کے اس بڑے موقع کے خلاف سازشوں کو ہم دیکھیں تو جن عناصر کو ہم نے دہشت گردی کے طور پر معروف سمجھ رکھا ہے اور ہماری ساری توجہ ان ہی پر مرکوز ہے وہ اپنی جگہ مگر کھیلوں کے کسی بڑے مقابلے کے انعقاد پر محولہ عناصر ہی سے نہیں دنیا کے ان تمام ممالک اور بیرونی ایجنسیوں سے بھی برابر کے خطرات ہیں جن کو پاکستان میں امن وامان ا ور تعمیرو ترقی کھٹکتے ہیں خاص طور پر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد تو ان کے پیٹ کے مروڑ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ کھیلوں کی مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کا کسی ملک میں انعقاد خوش آئند اور باعث وقار شمار ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کسی بڑے موقع کی میزبانی کا موقع آتا ہے دشمن اور سازشی عناصر کی ریشہ دوانیوں میں تیزی آتی ہے ۔ اگرچہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے حوالے سے وثوق سے کچھ کہنا تو مشکل ہے لیکن یہ واقعات ایک ایسے موقع پر پیش آئے جب پی ایس ایل کے میچز شروع ہوئے اور فائنل میچ لاہور میں منعقد کرانے کے امکانا ت زیر بحث آئے ۔ دہشت گردوں اور ان کے منصوبہ سازوں کا ان واقعات سے سی پیک کے منصوبے میں رخنہ پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد میں پیشگی رکاوٹیں ڈالنا اور حالات خراب کرنے کی سازش کی ناپاک سعی خارج از امکان نہیں بلکہ عین ممکنات میں سے ہے۔ اس کے باوجود حکومت پنجاب اور پی سی بی کا لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد کا اعلان ایک جراتمندانہ اقدام ہے ۔ جسے پوری قوم کی تائید حاصل ہے۔ اس ضمن میں خدشات کا اظہار کرنے والوں کی نیت پر شبہ نہیں اور ان کے نقطہ نظر کا احترام کیا جانا چاہیے نہ کہ ان کو طعن و تشنیع کا موقع بنایا جائے۔ ناقدین کو بھی مناسب الفاظ کے ساتھ اپنے موقف کا اظہار کرنا چاہیے بہر حال یہ موقع نہ سیاست کا ہے اور نہ ہی اسے سیاسی تناظر میں دیکھا جائے یہ ایک قومی وقار اور ملکی معاملہ ہے اگر عام حالات ہوتے تو اسے محض پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد جتنی دقعت دی جاتی مگر چونکہ یہ ایک ایسے ماحول میں منعقد ہو رہا ہے جب دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے واقعات کے ذریعے کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔ حاسد ممالک کی بھی ریشہ دوانیاں اور اغیار کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس فضا میں پی ایس ایل کے فائنل میچ کے کامیاب انعقاد کیلئے بلاشبہ سیکورٹی کے سخت اور نا قابل عبور اقدامات تو اولین ضرورت ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ اس شاندار موقع کو کامیاب بنانے کیلئے ہمیں من حیث القوم کوشاں رہنے کی ضرورت ہے۔ اس یاد گار موقع کو کامیاب بنانے کیلئے ہر پاکستانی کے دل میں خواہش کی موجودگی کافی نہیں بلکہ اس کا اظہار اور اس ضمن میں ہر شہری جو بھی حصہ ڈال سکے اس میں بخل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ اس موقع پر ہمیں ایک بڑے اور اہم قومی موقع کی طرح کامیاب بنانے کیلئے من حیث القوم مساعی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اس خدشے کا اندیشہ ہونے کے باوجود کہ خدا نخواستہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو جائے تو پاکستان میں کرکٹ کے کھیل پر اس کے اثرات اور آئندہ کسی بڑے موقع کے انعقاد کی توقع سے بھی محروم ہونے کے اندیشے سے ماورا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس موقع کے انعقاد کیلئے ہمیں ہر اقدام کر گزرنے کی ضرورت ہے ۔ مناسب ہوگا کہ اس موقع پرہم لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے واقعے اور اس حوالے سے سیکورٹی انتظامات میں کوتاہیوں کا ایک مرتبہ پھر جا ئزہ لیں اور اس غلطی کو دہرانے کا تصور بھی مٹا دیں کیونکہ اس طرح کے کسی دوسرے واقعے کے ہم سرے سے متحمل ہی نہیں ہو سکتے ۔ سری لنکا کی ٹیم کو سیکورٹی دینے کے جو اعلانات کئے گئے تھے افسوسناک حد تک ان اعلانا ت کو عملی طور پر ممکن نہ بنا یا جا سکا جس کے باعث دہشت گردوں کو موقع ملا ۔پی ایس ایل کے فائنل کے قذافی سٹیڈیم میں انعقاد کے حوالے سے جن انتظامات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اس میں ذرا بھی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں یقینا لاہور کی آبادی کے کافی حصے کو مشکلات کا بھی سامنا ہوگا ان کو کاروبار اور مالی نقصان کی بھی قربانی دینی پڑے گی آمد ورفت و تلاشی اور ناخوشگوار صورتحال کا بھی یقینا سامنا ہوگا مگر ان کو اس صورتحال کو قومی مفاد اور قومی مفاد میں قربانی متصور کرکے برداشت کرنا ہوگا ۔پی ایس ایل فائنل میچ کے لاہور میں کامیاب انعقاد کا مطلب صرف ایک میچ کا انعقاد نہ ہوگا بلکہ اس سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی بڑی سرگرمی کا انعقاد محفوظ ہے جبکہ اس کے بعد کرکٹ کی بین الاقوامی ٹیموں اور کھلاڑیوں کی پاکستان میں کھیلنے پر آمادگی فطری بات ہوگی۔ اس کے کامیاب انعقاد سے کھیلوں کے مواقع میں اضافہ اور کھیلوں کے مواقع کیلئے فضاسازگار ہوگی۔ علاوہ ازیں یہ قوم کے لئے ایک گونا اطمیان کی بات ہوگی جس کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی بڑھے گی ۔

متعلقہ خبریں