Daily Mashriq

پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا احسن اقدام

پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا احسن اقدام

پاکستان کی جانب سے مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات سلامتی کی مجبوری اور قومی ضرورت ہے ۔ طورخم سرحد پر گیٹ کی تنصیب اور آمد ورفت کو قانونی اور باقاعدہ بنانے کے بعد طورخم سرحد سے دہشت گردوں مشکوک عناصر اور غیر قانونی طور پر آنے والوں کی روک تھام کا تجربہ خاصا کامیاب رہا لیکن طویل پاک افغان سرحد پر غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے کے خاتمے کیلئے صرف سرحد ی گیٹ اور معروف راستے سے آمد ورفت کی چیکنگ کا انتظام کافی نہیں بلکہ غیر معروف اور دشوار گزار مقامات سے دہشت گردوں سمیت دیگر افراد کی بھی چھپ کر آمد ورفت روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں ۔دوسرے مرحلے پر سرحد پر باڑلگانے کا جو اصولی فیصلہ کیا گیا ہے یہ ایک قابل عمل اور قابل اعتماد طریقہ ہوگا جسے اختیار کرکے غیر قانونی آمد ورفت اور خصوصاً مذموم مقاصد کے حامل عناصر کی روک تھام ممکن ہوگی ۔سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں بعض عناصر تو مغربی سرحد کو سرے سے سرحد ماننے ہی پر تیار نہیں اور اسے پختونوں کی تقسیم کا نام دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دو الگ ممالک اور دونوں ملکوں کی سرحد ایک حقیقت ہے جو صدی قبل انگریزوں کے دور میں بھی موجود تھی اور تقسیم بر صغیر کے بعد بھی اسے سرحد تسلیم کیا گیا ۔ بہر حال بہتر تو یہ ہوگا کہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے اور جہاں حقیقی اور اصولی اختلافات ہوں وہاں سرحد کے تعین اور باڑلگانے کے مقامات پر سرحد ی حکام کی بات چیت بھی ہونی چاہیئے ۔ تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش نہ آئے۔ ہمارے تئیں افغانستان کو سرحد پر باڑ لگانے کے اقدام میں تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے یہ اس کے بھی مفاد میں ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں صرف پاکستان کو غیر قانونی آمد ورفت روکنے میں آسانی ہوگی بلکہ افغانستان کو بھی پاکستان کی جانب سے جن شکایات کا سامنارہتا ہے اس کے بھی ممکنہ حد تک ازالہ کی صورت نکل آئے گی ۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگاکر محفوظ بنانے کے اقدم میں عملی طور پر جس قدر جلد کام شروع ہو اتنا ہی بہتر ہوگا۔
جائیں تو جائیں کہاں
شرینگل پولیس کی جانب سے چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی کا آئی جی خیبر پختونخوا اور ڈی آئی جی ملاکنڈ کو فوری نوٹس لینا چاہیے ۔ خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے سے دعویٰ تو اس امر کا کیا جاتا ہے کہ صوبے کی پولیس مثالی پولیس بن چکی ہے مگر عملی طور پر اس طرح کے اقدامات کا سامنے آنا ان دعوئوں کی سراسر نفی ہے ۔ کسی تھانے کے ایس ایچ او سمیت کسی بھی پولیس اہلکار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر ے ۔پویس کافرض قانون کی مدداور شہر یوں کا تحفظ ہے اگر خود پولیس کی جانب سے اس طرح کی لا قانونیت کا مظاہر ہ سامنے آئے گا جس کے خلاف رکن صوبائی اسمبلی میڈیا کے سامنے احتجاج پر مجبور ہو جائیں جو اس معاملے کو سنجید ہ سمجھنے اور عوام کی بے بسی کے ثبوت کیلئے کافی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس طرح کے معاملات ہی ہوتے ہیں جو من حیث المجموع پولیس کی کارکردگی اور پولیس کے نظام اور ادارے کے بارے میںمنفی تاثرات کا باعث بنتے ہیں۔ پولیس کے سینئر افسروں کو اپنے ماتحتوں کو اس طرح کے اقدامات سے باز رہنے کی بار بار تاکید کرنے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت تادیبی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پولیس عمال اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک مرتبہ ضرور سوچنے پر مجبور ہوں کہ ان کے اس اقدام کا رد عمل اور انجام کیا ہوگا ۔ دو ردراز کے علاقوں میں تھانیدار کے با دشاہت اور تھانے کی سیاہ و سفید کا مالک ہونے میں شک نہیں اس کی ایک بڑی وجہ علاقہ کے عوام کی بے بسی سادہ لوحی اعلیٰ حکام اور میڈیا تک عدم رسائی ہے۔ علاقے کے عوام کے پاس یہ سہولت اور شعور نہیں ہوتی کہ وہ پولیس گردی کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ گزشتہ روز ہی پولیس کے حوالے سے دکانداروں سے اشیائے خور دنی مفت حصول کی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اگر متعلقہ حکام کوپولیس کے وقار کے مجروح ہونے کا احساس ہوتا تو وہ کم از کم اس کا نوٹس ضرور لیتے اب تو آئے روز پولیس کے حوالے سے مختلف قسم کی رپورٹیں سامنے آتی ہیںمگر ان کا صدابصحرا ہونا یقینی ہونے کے باعث اب پولیس اہلکار ان کو پر کاہ کی بھی حیثیت نہیں دیتے ۔ ایسے میں عوام جائیں تو جائیں کہاں ۔

اداریہ