Daily Mashriq


چین بھارت مخاصمت میں موافقت کے آثار

چین بھارت مخاصمت میں موافقت کے آثار

بھارت چین اور بھارت پاکستان تعلقات اس وقت مخاصمت اور مخالفت کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔بالادستی اور پچھاڑ اور نیچا دکھانے کی ایک میراتھن جاری ہے ۔ خوفناک مخاصمت کی ان فضائوں میں اچانک موافقت کے بادل سایہ فگن ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے ترکی میں ایک بار پھر اشاروں کنایوں میں بھارت کو خیر سگالی کا پیغام دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ اچھا ہمسایہ بن کر رہنا چاہتے ہیں۔دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف سازشیں نہیں کرنا چاہئے بھارت سے بڑے پیمانے پر تجارت چاہتے ہیں ۔ میاںنوازشریف کے بیان کے چند دن کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اترپردیش میںبہت بھولپن کے ساتھ جوابی اشاروں کی زبان میں ہی کہا کہ بھارت نے کبھی پڑوسی ملک کا برا نہیں چاہا۔امن کی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی ۔ پاکستان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے ہم خطے میں امن و ترقی چاہتے ہیں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان اشاروں کی زبان اور پیغام اور جوابی پیغام کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا پاک بھارت امن کی کونپل دوبارہ پھوٹ پڑے گی؟اشاروں کی زبان کا یہ تبادلہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے حکومت نے جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کو نظر بند کر دیا ۔جس پر بھارت نے نہایت محتاط ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ یہ نظر بندی حقیقی ہے یا مصنوعی ؟اس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے فرانس میں حافظ سعید کو خطرہ قرار دیا اور ان کی تنظیم کے خلاف مزید اقدامات کا عندیہ دیا۔ ایک طرف پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادتوں کے درمیان اشاروں اور کن اکھیوں سے پیغام رسانی ہوئی تو دوسری طرف دونوں طرف کی فوجی قیادتوں کے لہجوں کی سختی پوری طرح برقرار رہی ۔ اشاروں کی زبان کے تبادلے سے چند ہی دن پہلے ایک اہم سرگرمی ہوئی ۔جس کا تعلق خطے میں دومتحارب مگر اُبھرتی ہوئی معیشتوں چین اور بھارت کے درمیان تنازعات کے اور موجودہ کشمکش کے پائیدار حل کی پہلی موثر کوشش سے تھا۔یہ بھارت کے سیکرٹری خارجہ جے شنکر اور چین کے نائب منتظم مشیربرائے امور خارجہ زہینگ یسوئی کے درمیان ہونے والی ملاقات تھی جسے پہلا سٹریٹجک ڈائیلاگ کہا گیا۔اخبار نے اس ملاقات کا احوال لکھتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکام کچھ کامیابیوں کے باوجود مایوس اور قنوطیت کا شکار ہیں۔بھارت نے چین سے نیوکلئر سپلائرز گروپ اور جیش محمد کے سربراہ کے حوالے سے شکوے کئے چینی نمائندے نے ان معاملات کو دوطرفہ نہیں بلکہ ہمہ پہلو کہا گویاکہ یہ چین اور بھارت کے درمیان محدود معاملات نہیں بلکہ ان کے کئی اور فریق ہیں اور ظاہر ہے پاکستان ان میں سرفہرست ہے ۔گویاکہ چین بھارت کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے تنازعات کو بھی سامنے رکھنا چاہتا ہے ۔ایسا نہیں کہ چین بھارت کے ساتھ اپنے مسائل حل کرکے پاکستان اور بھارت کے مسائل کو ان کے حال پر چھوڑدے ۔چینی اخبار لکھتا ہے کہ بھارت اور چین دونوں اقتصادی دیو ہیں لیکن دونوں معیشتوں کا فرق سمجھنا چاہئے ۔اس فرق کو سمجھنا دونوں ملکوں کو ترقی کے نئے ادوار سے آشنا کرسکتا ہے ۔اخبار نے پاک چین اقتصادی راہداری کا ذکر کئے بغیر لکھا ہے کہ کچھ حقائق کو تسلیم کرنے کے بعد اس منصوبے پر پیش رفت ہوسکتی ہے جس کا تعلق چین ،بھارت ،بنگلہ دیش اور میانماراقتصادی راہداری کے مجوزہ منصوبے سے ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس فرق کو سمجھتا ہے یا وہ امریکہ اور مغربی ملکوں کے شہ دلانے پر فرنٹ سیٹ پر قبضہ جمانے کی بے مقصد کوششیں جاری رکھتا ہے؟چین نے بھارت کو ایک واضح پیغام دے دیا ہے عین ممکن ہے کہ بھارتی فیصلہ ساز وں کا ایک حلقہ چین کی طرف سے دوستی کے بڑھے ہوئے اس ہاتھ کو تھامنے پر آمادہ ہورہا ہو۔ اس ملاقات کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک خوش کن آغاز کہا جارہا ہے مگر اس کا اصل احوال اور نچوڑ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے ترجمان گلوبل ٹائمزنے بیان کیا ہے ۔ اس دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے الجھی ہوئی ڈور یعنی کشمیر کے حوالے سے بھارت کے اندر سے کچھ اور حوصلہ افزا اور معتدل آوازیں بلند ہونے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے ۔ چین اور بھارت کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کی ابتدا ہو چکی ہے ۔بھارت اور پاکستان کے تنازعات اس ڈائیلاگ کا لازمی جزو ہیں ۔ چین نے کچھ مسائل کوBilateral کی بجائے Multilateral کہہ کر صاف پیغام دیا کہ چین اور بھارت کے کچھ معاملات میں پاکستان کوبیچ میں رکھ کر انہیں حل کرنا پڑے گا ۔بھارت کو بلوچستان ،کراچی اور قبائلی علاقوں میں بدترین شکست ہو رہی ہے ۔ان علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال ہو چکی ہے ۔بھارت کا آخری کارڈ پاکستان اور چین کو افغانستان کے ذریعے وسط ایشیا تک پہنچنے سے روکنا تھا ۔بھارت کو اس میں جزوی کامیابی تو ہوئی مگر پاکستان نے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے خنجراب کے ذریعے وسط ایشیائی ریاستوں سے روابط کا طریقہ ڈھونڈ لیا۔جس سے بھارت کی سٹریٹجی عملی طور پر بساط پر پٹ چکی ہے ۔ بھارت کی سٹریٹجی کو بہت سے محاذوں پر شکست دینے کے بعد ہی پاکستان کی فوجی قیادت نے بھارت کوکچھ عرصہ قبل سازشیں چھوڑ کر اقتصادی راہداری منصوبے سے مستفید ہونے کی پیشکش کی تھی ۔چین او ربھارت کے درمیان مخاصمت اور دشمنی کی حدوں سے گزرتی ہوئی مسابقت کے موافقت میں تبدیل ہونے کا بظاہر تو امکان نہیں مگر یہ ناممکن بھی نہیں ۔مغرب بھارتی قیادت کو مصنوعی طریقے سے چین کے مقابل کھڑ اکرنے کی کوششیں ترک کردے تو یہ معجزہ رونما بھی ہوسکتا ہے اور اس سے جنوبی ایشیا میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں