Daily Mashriq

ہند اسرائیل تعلقات' تاریخی پس منظر اور مضمرات

ہند اسرائیل تعلقات' تاریخی پس منظر اور مضمرات

بعض افراد و قبائل اور ملکوں کے درمیان تعلقات اور معاملات میں ایک فطری لگائو تاریخ کے دھاروں میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض دیگر عناصر بھی دو قوموں اور ملکوں کو قریب لانے اور ایک دوسرے کے لئے معاون بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مذہب اور مفادات و سیاسیات سب سے زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے بنی اسرائیل اور ہندو مت کے مذہبیات اور فطرت میں بہت بڑی مشابہتیں نظر آتی ہیں۔ اس میں سب سے اہم مشابہت کا تعلق مذہب کے ساتھ ہے اور وہ گئوسالہ پرستی ہے۔ فرعونیوں سے حضرت موسیٰ کی قیادت میں نجات پانے کے بعدبنی اسرائیل جب جزیرہ نمائے سینا پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو تورات دینے کے لئے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا۔ حضرت موسیٰ کے وہاں تشریف لے جانے کے بعد بنی اسرائیل نے سامری کے پیچھے لگ کر بچھڑے کی پوجا شروع کی۔ ہندو آج بھی گائے کی پوجا کو جس انداز میں کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے دلوں سے گائے کی عظمت اور قابل پرستش ہونے کے عقیدے کو نکالنے اور اس کے گوشت کے ذریعے ایک معجزہ دکھانے کے لئے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ بنی اسرائیل اللہ کے حکم پر کسی بھی گائے کوذبح کر دیتے تو حکم الٰہی پر عمل ہو جاتا لیکن انہوں نے اس حکم پر سیدھے طریقے سے عمل کرنے کے بجائے سوال پر سوال کرتے ہوئے بات اس گائے تک (سنہرے رنگ کی گائے) پہنچائی جو ان کو بہت عزیز اور محبوب تھی۔ ہندوستان کے ہندوئوں کے ہاں آج بھی سنہرے رنگ کی گائے سب کی چہیتی ہے اور پورے ہندوستان میں آزادانہ پھرتی ہے۔ اس کے گوبر اور پیشاب کو مذہبی تقدس حاصل ہے۔ بنی اسرائیل پیغمبروں کی تعلیمات کے باعث گئو سالہ پرستی اور کھلی بت پرستی سے تو بازآئے لیکن دولت و مایہ اور سونا چاندی کی شدید محبت میں ہندوئوںکے ساتھ زبردست مشابہت کے حامل ہیں۔ تجوریوں کو دولت سے بھرے رکھنے کے لئے دونوں اقوام سودی و ساہو کاری نظام کو قائم کرنے اور پوری دنیا کو اس میں جکڑے رکھنے میں ایک ہی فلسفہ و نظریہ کی قائل ہیں۔ ہندوئوں اور یہودیوں کے درمیان مذہبی' اور فطری طور پر پائے جانے والے ان گہرے میلانات و رجحانات کا اثر ان دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے سے پہلے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ہندو سیاست دانوں کی چالاکی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1948ء میں جب اسرائیل قائم ہوا تو ہندوستان نے کھلے لفظوں میں اس کی حمایت نہیں کی اور 1949ء میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ بھلا کیوں؟ اس لئے کہ ہندو بہت سیانا ہے' کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے۔ ظاہری طور پر اہل فلسطین کے ساتھ ہمدردی کے اظہار سے عرب ممالک کے ساتھ قربت حاصل کرنا چاہتا تھا اور دوسری طرف گاندھی جی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''اسرائیل کا قیام بجا ہے لیکن مذہبی بنیاد پر ملکوں کی تقسیم غلط ہے''۔ اس سے بیک وقت ایک تیر سے تین شکار کئے۔ فلسطینی خوش' کہ ہندوستان نے اسرائیل کے خلاف ووٹ دیا۔ اسرائیل خوش کہ چلو قیام کو تو جائز قرار دیا اور تیسرا یہ کہ پاکستان کا قیام چونکہ اسلام (مذہب) کی بنیاد پر ہوا تھا لہٰذا اس کو غلط کہنے سے اپنا کام بھی کرلیا۔ 1999ء میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خفیہ رہنے کی بجائے عام ہوگئے۔ بی جے پی چونکہ مذہبی شدت پسندوں کی جماعت ہے لہٰذا اسرائیل کے صیہونیوں کے ساتھ بہت جلد شیر و شکر ہوگئے۔ نریندر مودی اورنیتن یاہو تو گویا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ 2014ء میں امریکہ کے دورہ میں نریندر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے خصوصی طور پر علیحدہ ملاقات کی اور اس کے بعد تقریباً دو برسوں میں ایک درجن سے زیادہ ہندوستانی وزراء نے بشمول وزیر خارجہ اور صدر کے اسرائیل کے دورے کئے۔نومبر 2016ء میں اسرائیل کے صدر ارون نے ایک تجارتی وفدکے ساتھ بھارت کا تاریخی دورہ کیا اور یوں تجارتی اور دفاعی معاہدوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات استوار ہوگئے۔ نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد یہودیوں اور ہندوئوں کے درمیان کئی مشترکہ مذہبی کانفرنسیں بھی ہو چکی ہیں جن کے شرکاء نے تاریخی حوالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہندو مت اوریہودیت میں بہت ساری مشترکات ہیں۔ اسرائیلی اخبار یرو شلم پوسٹ کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی قربت اور گہرے تعلقات کی ایک اہم وجہ کشمیر پر ہندوستان کو اسرائیل کی ملنے والی حمایت بھی ہے ۔ ہندوستان اس وقت روس کے بعد اسرائیل سے سب سے زیادہ دفاعی سامان خریدنے والا ملک ہے۔ اربوں ڈالر کا جنگی سامان بھارت ہر سال اسرائیل سے خریدتا ہے اور یہ دونوں ملک فلسطین اور کشمیر میں معصوم و مظلوم عوام کو بربریت کے ساتھ قتل کرنے میں گہری مشابہت رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ ظالم کا دوست ظالم ہی ہوسکتا ہے۔ مودی فلسطین کے عوام پر اسرائیلی دہشت گردی کو کشمیر کے عوام پر ظلم کے لئے جواز کے طور پر استعمال کرتا ہے اوروہ اپنی افواج کو اسرائیلی فوج کی طرز ٹریننگ دے رہا ہے۔ کیا ان دو ظالم ملکوں کے ظلم سے انسانیت کو نجات دلانے کے لئے عالم اسلام متحدہ ہونے کا سوچے گا۔ 

اداریہ