Daily Mashriq


کوئی حل بھی ہے یا نہیں ؟؟

کوئی حل بھی ہے یا نہیں ؟؟

خیال عجب چیزیں ہوتے ہیں ۔ اچانک ہی وقت کی شاہراہ کے کنارے سے اُچھل کر کسی سوچنے سمجھنے والے کے لباس پرچپک جاتے ہیں اور رینگتے رینگتے اسکے دماغ جا پہنچتے ہیں ۔ پھر با وجود کوشش کے اس شخص کے ذہن سے جدا ہی نہیں ہوتے ۔ بچپن میں میں نے ایک کہانی پڑھی تھی ، یقینا قارئین کی نظر سے بھی گزر ی ہوگی ۔ یہ اس وقت کی کہانی ہے جب ابھی حکیم اور جراح ہی ہوا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر جیسے کہ اب ہیں معرض وجود میں ہی نہ آئے تھے ۔ اس وقت تو C.T scanکسی کے حاشیہ خیال میں ہی نہ تھا X.rayاور Eco cardiography کی قماش کی چیز یں بھی کہیں موجود نہ تھیں ۔ سادہ زمانہ تھا ۔ لوگ اکثر زمین پر ہی سویا کرتے تھے ۔ پلنگ اور چارپائیاں بھی تعیشات میں شمار ہوتے ۔ ایسے ہی کسی امین پر سونے والے شخص کے کان میں ایک کنکھجورا چلا گیا جو اس کے کان کے راستے اسکے دماغ تک پہنچ گیا ۔ اس کنکجھورے نے جب اس شخص کے دماغ پر گرفت کرنی شروع کی تو اسے بے تحاشا درد ہوتا اور وہ چیختا چلاتا ۔ کئی حکیموں کے پاس اسے لے جایا گیا لیکن کوئی اس کا علاج نہ کر سکا ۔ ایک روز اسکے گھر والوں کو کسی نے ایک یونانی حکیم کا بتایا ۔ چنانچہ لمبی مسافت طے کرکے اسے یونان میں اس حکیم کے پاس لے کر گئے ۔ اس حکیم نے اسکی آنکھیں دیکھنے کے بعد بتایا کہ اس شخص کے کان کے ذریعے کوئی شئے اس کے دماغ تک چلی گئی ہے اور اسے نکالنے کے لیے گرم چمٹی کا استعمال کرنا ہوگا ۔ سوچنے سمجھنے والا دماغ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ خیال کنکھجوروں کی مانند دماغ سے چمٹ جاتے ہیں ۔ اور جب تک کوئی گرم چمٹی انہیں دماغ سے علیحدہ نہ کرے و ہ تکلیف دیتے رہتے ہیں ۔ یا تو اس خیال کا کوئی حل نکل آئے تو پھر اس کی گرفت مدہم پڑنے لگتی ہے ۔ پاکستان اس وقت بے شمار مشکلات کا شکار ہے ۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اسکے نامساعد حالات کے حوالے سے سوچتے ، اسکے بارے میں تجزیہ کرتے ، ایک طویل عرصہ گزرگیا ۔ کئی معاملات ایسے ہیں جن کا کوئی حل آج بھی سجھائی نہیں دیتا اور کئی باتوں کا حل تلاش کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگتا ۔ یہ صرف میرانہیں اس ملک کے ہر با شندے کا کمال ہے ۔ اس ملک میں ایک عام گھروں میں کام کرنے والے شخص سے لے کر گریڈ 22کے افسر تک ، رکشے والے سے لے کر ایک بزنس ٹائیکون تک ، ایک عام سیاسی کارندے سے لے کر اس ملک کے صدر تک سب کے پاس اس ملک کے تمام معاشی ، معاشرتی اور سیاسی مسائل کا مسلسل تجزیہ موجود ہے ۔ جس سے بات کرو وہ مسلسل ملکی مسائل پر بات کرتا ہے ۔ بڑی بڑی دور کی کوڑیاں لائی جاتی ہیں ۔ ایسی ایسی جہتیں تلاش کی جاتی ہیں کہ دماغ دنگ رہ جاتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود سوہان روح یہ ہے کہ تجزیے ہی تجزیے ہیں اور حل کہیں نہیں ۔ اور جانے یہ حل کیوں نہیں ہے ۔ ہم ایک طویل عرصے سے اپنے سیاست دانوں کی مفاداتی سیاست کے باعث ان کے غلط فیصلوں کے باعث معاشی ذلت کا شکار ہیں ۔ قرضے لیتے لیتے اب تو شاید یہ حساب بھی چوکنے لگا ہے کہ ہم میں سے کون کتنی رقم واپس کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ دنیا میں معیشت کے دو رنگ ہوا کرتے ہیں سیاہ اور سفید اور ہمارے ہاں معیشت کے کئی رنگ ہیں ۔ وزیر اعظم کو دیکھ لیجئے وہ وزیر اعظم ہیں اس لیے سفید ہیں اور ان کی ملیں ان کے بزنس ، کبھی سیا ہ ، کبھی سفید ، کبھی لال ، کبھی نیلے ، کبھی پیلے ، کبھی سلیٹی جانے کیا کیا رنگ بدلتے ہیں ۔ پاناما کیس میں ان کے رنگ کبھی سرخ تھے تو کبھی نیلے اور اب جب فیصلہ آنے والا ہے تو پیلے نظر آتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کی کیفیت یہ ہے کہ اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے ۔ میڈیا میںان ڈراموں اور ان باتوں کی بہتات ہے جسکے بارے میں آج سے پندرہ سال قبل کبھی کوئی بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ ہماری اخلاقیات اور زبان کا یہ عالم رہاہے کہ ہم ابھی تک Extra marital affairsکا کوئی آسان نام تجویز نہیں کر پائے لیکن میڈیا کے ڈرامے دیکھئے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ ایک ہی اور کام اہم ہے اور وہ لڑکی کا بھاگ جانا ہے۔ سمجھ نہیں آتی ہم کس معاشرے میں اپنی اولادوں کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔ ایک وہ گروہ ہے جنہیں ہم سیاست دان کہتے ہیں وہ بھی کمال لوگ ہیں ۔ان کے پاس دعوے ہیں وعدے ہیں ، جھانسے ہیں لیکن دل کسی کے پاس نہیں ۔ انہیں تو شاید حل کی تلاش بھی نہیں ۔لیکن پھر ان کے بارے میں کیا کہا جائے جو پروفیسر ہیں ، راستہ دکھانے والے ہیں لیکن وہ بھی راستہ نہیں دکھاتے ۔ طالب علموں کو مخمصوں میں ڈالے رکھتے ہیں ۔ بے چارے طالبعلم اس پریشانی کا شکار رہتے ہیں کہ انہیں او لیول کرنا ہے یا میٹرک ۔ وہ ماں باپ جو انہیں یہ سمجھائیں کہ ہمارے ملک میںہی اگر رہنا ہے تو ا و لیول کی ضرورت نہیں بچے ان سے شاکی رہتے ہیں ۔ ادھر والدین کہیں کی معاشرتی انگیخت کے باعث خود صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں وہ نہ تو حلال و حرام کی کوئی تمیز اپنے بچوں کو بتا سکتے ہیں اور نہ ہی اب اس بارے میں سنجیدہ رہ سکتے ہیں ۔ غرض یہ کہ معاشرے کی جتنی پرتیںکھلتی چلے جائیں ہر جگہ تجزیہ موجود ہے کہیں کہیں دعویٰ بھی ہے ۔ راستے ہیں ، بے شمار راستے ، کہیں دعوے بھی ہیں ، کہیں دھونس بھی ہے ، اکثر جگہ دھاندلی ہے ۔ لیکن منزل کا کوئی نشان ہی نہیں ۔ کوئی آواز بھی کسی کو ہ ندا سے نہیں آتی کہ کم از کم اسے ہی اپنی منزل جان کر اس کی جانب چل پڑیں ۔ جانے ایسا کیوں ہے ؟کیا ہم کند ذہن قوم ہیں ایسا لگتا تو نہیں شاید ہم پریشان ،پشرمردہ اورمضمحل ہو چکے ہیں ، تبھی تو کسی قسم کا حل تلاش نہیں کرپاتے ۔ لیکن آخر ایسا کب تک رہے گا ، کب تک راستے تو رہیں گے لیکن منزلیں کہیں دکھائی نہ دیں گی ، ہمارے مسائل کا کاکوئی حل ہے بھی یا نہیں ۔

متعلقہ خبریں