Daily Mashriq

قرآنی تعلیمات اور ہمارا تعلیمی نصاب

قرآنی تعلیمات اور ہمارا تعلیمی نصاب

وطن عزیز میں کچھ عرصے بعد یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ قرآن پاک کی تعلیمات کو تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنایا جارہا ہے اب چند دن پہلے قائمہ کمیٹی کے حوالے سے پھریہ خبر پڑھنے کو ملی ہے کہ سکول و کالج کے تعلیمی نصاب میںقرآن پاک کی تعلیم کو شامل کیا جارہا ہے ۔ دو ہزار آٹھ میں بھی یہ اعلان کیا گیا تھا کہ سکولوں میں قرآن اور عربی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے وفاقی حکومت نے ملک کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں قرآن پاک بمعہ ترجمہ اور عربی زبان کی تعلیم لازمی طور پر پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے تمام صوبوں سے سفارشات طلب کر لی گئی ہیں آج پھر قرآن مجید کی لازمی تعلیم کے حوالے سے خبریں سننے کو مل رہی ہیں اگر قرآن پاک کی تعلیم کو سکولوں اور کالجوں میں طلبہ کے لیے لازمی قرار دیا جاتا ہے تو اس سے بڑی خوشخبری اور کیا ہوسکتی ہے اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کو قومی دھارے میں شامل کر کے باعزت روزگار کے مواقع مل جائیں گے۔ یہ فیصلہ اگر عملی طور پر نافذ ہوجاتا ہے تو یقینا یہ بہت ہی اچھی سوچ کا ایک راست قدم ہے قوموں کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں اور قومیں اپنے اعمال کے سبب اچھے بر ے دن دیکھتی رہتی ہیں انگریز جب برصغیر پر قابض ہوا تو اپنی زبان اور تہذیب بھی ساتھ لے کر آیا اور اس نے سب سے پہلے یہاں کی محکوم اقوام سے ان کی زبان چھین لی۔ جب آپ کسی قوم سے اس کی زبان چھین لیں تو وہ اپنا تشخص کھو دیتی ہے۔ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا قرآن پاک جو ہر مسلمان کے لیے مشام جان ہے جس کی زبان عربی ہے اور جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ پاک نے لے رکھا ہے اور جو آج کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی اپنی اصل شکل و صورت میں موجود ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس کی تعلیمات کا منبع قرآن و حدیث ہیں جو یقینا عربی زبان میں ہیں اور دین اسلام کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے قرآن و حدیث کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور اسی لیے ملت اسلامیہ کے حوالے سے عربی زبان امت مسلمہ کی اساس ہے اور پاکستان اپنی تخلیق کے حوالے سے شاید دنیا میں اپنی مثال آپ اس وجہ سے ہے کہ ہر ملک اپنی مخصوص قومیت اور جغرافیے کی وجہ سے اپنی علیحدہ شناخت رکھتا ہے جبکہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اس کی پیدائش ہی لا الہ الا اللہ کے عالمگیر نظریے کی بدولت ہے۔ اس میں مختلف قومیتیں رہائش پذیر ہیں لیکن دین اسلام ہی ان کے درمیان وجہ اتحاد و قومیت ہے جس نے پاکستان کی تمام قومیتوں کو ایک اکائی کی صورت باندھ رکھا ہے قرآن پاک کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کا جاننا بہت ضروری ہے اور اس حوالے سے سب سے بڑی دلیل جو تاریخ اسلام سے دی جاسکتی ہے وہ عربوں کی قرآن فہمی کی وجہ سے سبک رفتار ترقی ہے۔ قرآن پاک ہی وہ انقلاب آفرین کتاب ہے جس نے عربوں کی زندگی میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا کیا مشہور انگریز مورخ ایچ جی ویلز لکھتا ہے اسلام اپنے ابتدائی دور میں ان لاہوتی پیچیدگیوں سے بالکل خالی تھا جس کی دلدل میں نصرانیت ایک مدت تک پھنسی رہی اور جنہوں نے نہایت سخت اختلاف پیدا کرکے نصرانی روح کو ختم کردیا اسلام میں کاہنوں کا طبقہ نہیں ہے بلکہ صرف علماء معلم اور واعظ ہیں جس طرح اسلام تہور و شجاعت کے جذبات پر جو صحرائی قوموں کا خاصا ہیں مشتمل ہے اسی طرح وہ رحمت، فیاضی و کشادہ دلی اور اخوت و محبت سے معمور ہے اس لیے وہ عوام کی فطرت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کیے بغیر ان کے دلوں میں اتر گیا۔ایک دوسرے عظیم مصنف کی رائے بھی دیکھ لیجیے۔The decline and fall of the Roman Empire کا مصنف ایڈورڈ گبن لکھتا ہے شریعت'' محمدی ۖ کے احکام عام ہیں جن کے سامنے بڑے بڑے بادشاہوں سے لے کر ادنیٰ محتاج تک سب سر جھکاتے ہیں اسلامی شریعت نہایت مضبوط قانونی اصولوں کے مطابق بنائی گئی ہے جس کی مثال سارے عالم میں نہیں ہے''۔ ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے قرآن پاک کو چھوڑ دیا عربی زبان کو پس پشت ڈال دیا قرآن پاک کی تعلیمات کو دل کی گہرائیوں سے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اس طرح ہم اسلام کی سچی روح سے دور ہوتے چلے گئے ہم نے قرآن و حدیث کو چھوڑ دیا ان علوم کی اصل روح سے بے خبری نے ہم پر زوال کے دروازے کھول دیئے ۔ اگر آج ہم اور ہماری نوجوان نسل عربی زبان کے توسط سے قرآن پاک کی روح کو سمجھنے کے قابل ہوجائیں تو وہ دن دور نہیں جب ہم نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی اقدار کو پالیں گے بلکہ اپنی عظمت رفتہ کو بھی حاصل کر لیں گے خالق کائنات کے کلام اور حدیث رسول مقبولۖ کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے عہد حاضر کے علوم سے باخبری ہمیں اسی وقت فائدہ دے سکتی ہے جب ہم قرآن پاک کے مفاہیم کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح تک رسائی حاصل کرلیں۔

اداریہ