Daily Mashriq

چھٹی مردم شماری کی ضرورت و اہمیت

چھٹی مردم شماری کی ضرورت و اہمیت

ترقی یافتہ قومیں اپنی جامع منصوبہ بندی کے لئے ہر 10 سال بعد مردم شماری کرتی ہیں۔ پاکستان میں ہم 1951 سے 1981 تک پہلی چار مردم شماریاں بروقت کرنے کے بعد پانچویں اور چھٹی مردم شماریوں میں بہت تاخیر کا شکار ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر چھٹی مردم شماری کیلئے تو 2008 سے کوششیں جاری تھیں اور آخرکاریہ اس سال 15 مارچ سے 26 مئی تک دومراحل میں ہونا طے پائی ہے۔ ہم نے پانچویں مردم شماری اپنی معینہ مدت کے 7 سال بعد کرائی اوراب چھٹی مردم شماری اپنی معینہ مدت کے 9 سال بعد کرانے جا رہے ہیں۔ یہ بھی بھلا ہو سپریم کورٹ کا وگرنہ تو ہم نو سال کو انیس سال بھی کرسکتے تھے۔ مردم شماری کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے بہت اہم ہوتی ہے کیونکہ یہ ملکی وسائل کی تقسیم سے لیکر انتخابی حلقوں کی حد بندیوں کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ 

چاروں صوبوں میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار سات سو اٹھانوے تربیت یافتہ عملہ مردم شماری کا سروے کرے گا اور عملے کے ہر فرد کے ساتھ ایک فوجی جوان ہوگا۔ بہتر انتظامات کیلئے سارے ملک کو ایک لاکھ چھیاسی ہزارایک سو بیس بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر بلاک میں دو سو سے دو سو پچاس گھر شامل ہونگے۔ اس مردم شماری میں جنس کے خانوں میں مرد اور عورت کے علاوہ تیسری جنس کا اندراج بھی ممکن ہوگا۔ اس مردم شماری کو لیکر کچھ حلقوں سے کافی آوازیں آ رہی ہیں۔ مثلاًسندھ کی طرف سے نادرا کو حالیہ لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں 30 فیصد سے زیادہ لوگوں کی رجسٹریشن نہیں جو انکی مردم شماری میں شمولیت کو مشکل بنادیگا۔ اسی طرح کے خدشات کا اظہار بلوچستان کی طرف سے بھی کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں لوگوں کی نقل مکانی، افغان مہاجرین کی موجودگی اورسیکورٹی مسائل توجہ طلب مسائل ہیں۔ سندھ میں سندھی اور اردو بولنے والوں میں مادری زبان کے اندراج کو لیکر بھی عوامی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں بشمول پیپلزپارٹی تمام سیاسی جماعتیں سرگرم نظر آرہی ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں موسم سے وابستہ لوگوں کی نقل مکانی اور مقامی زبانوں ''شینا''اور ''بلتی''کے اندراج کے خانے کا نہ ہونا بھی بحث کا سبب ہے۔ لیکن ان سارے مسائل اور پیچیدگیوں کے باوجود، مردم شماری کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ خاص طور پر ہمارا ملک جن مسائل سے دو چار ہے ان میں یہ مردم شماری بہت ساری مشکلوں پر قابو پانے میں مدد گار ہو سکتی ہے۔ لیکن آج ہم مردم شماری سے حاصل ہونے والے کچھ اور اہم فائدوں کا تذکرہ کرینگے جن کا پاکستان کی ترقی و حفاظت میں اہم کردار ہوگا۔
اور یہ ہیں پاکستان کے نوجوان اور بچے۔ مختلف اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان کی آبادی کا تقریباً 38 فیصد یعنی ایک تہائی سے بھی زیادہ حصہ چودہ سال کی عمر سے کم ہے اور 64 فیصد یعنی دوتہائی حصہ 25 سال کی عمر سے کم ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ آبادی کا یہ حصہ آئندہ دس سالوں میں روزگار اور امن جیسے بڑے مسائل میں اضافہ کا سبب بھی بن سکتا ہے اور کمی کا پیش خیمہ بھی۔ اس مردم شماری سے ملنے والے اعدادوشمار کی بنا پر سرکاری، نجی اور غیر سرکاری اداروں کو جامع منصوبہ بندی کے ذریعے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ جن سے ہماری آنے والی یہ نسل بہتر پاکستان کی ضمانت بنے۔ بچوں اور نوجوانوں کے لئے اہم اقدامات میں سے کچھ درج ذیل ہیں-مردم شماری کے نتائج کی مدد سے 15 سال سے کم عمر کے بچے اور بچیوں کی جغرافیائی تقسیم کا جائزہ لیتے ہوئے انکی تعلیم اور ہنر کا انتظام کیا جائے۔ اس ضمن میں سی پیک منصوبوں سے منسلک علاقوں کے ہنرمند افراد کے لئے خاص ادارے اور کورس متعارف کرائے جائیں تاکہ یہ نوجوان بڑے ہوکر تعلیم کی کمی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا شکار بن کر مجرموں اور دہشتگردوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائیں۔ یہ دو تہائی آبادی اپنے ساتھ کچھ نئے رجحانات بھی لیکر آئے گی جن کا بروقت ادراک ہماری منصوبہ بندی کو معنی خیز بنا سکتا ہے۔ مثلاً، دنیا بھر میں مختلف تجزیاتی رپورٹس نے ثابت کیا ہے کہ نوجوان موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال بڑوں کی بنسبت زیادہ کرتے ہیں۔ یہ تجزیہ ہمارے ملک کے حساب سے بھی زیادہ انوکھا نہیں۔ موبائل فون کا حصول، اسکی قیمت اور استعمال ہماری نوجوان نسل میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے ہر قسم کی معلومات نوجوانوں کے ہاتھوں تک پہنچادی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہوگی کہ معلومات کے اس دریا کو نوجوانوں کے خوابوں کی آبیاری کیلئے استعمال کیا جائے اور موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے بنیادی اور پیشہ ورانہ تعلیم ان نوجوانوں تک پہنچا دی جائے۔ ویب ٹی وی (Web TV) اور کمیونٹی ٹی وی ان نوجوانوں تک رسائی اور انکی ترقی کا ایک اور مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایسے مختلف سنجیدہ اور معیاری پروگرام بنائے جا سکتے ہیں جن سے نوجوانوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جا سکے۔مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر قومی یوتھ پالیسی بنانی ہوگی اور موجودہ تعلیمی اور داخلی پالیسیوں کا بھی ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔ آئندہ دس سال کی محنت اس ملک کی ہمیشہ آنے والی تاریخ بدل سکتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب پاکستانی مل کرآنے والی مردم شماری میں بھرپور تعاون کریں اور اپنی معلومات کا اندراج کرائیں۔

اداریہ