Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

عام الرمادة میں سیدنا عمر فاروق کی خدمت میں گھی اور روٹی کا چورا بنا کر لایاگیا ۔ انہوںنے ایک بدوی کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی ۔ بدوی روٹی کے ساتھ پیالے کے کناروں سے چکنائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ سیدنا عمر فاروق نے فرمایا: شاید تو نے عرصہ دراز سے چکنائی نہیں چکھی ۔ اس نے کہا : جی ہاں ! ہم نے مدت سے گھی اور تیل نہیں دیکھا۔ نہ کسی کو گھی اور تیل کھاتے دیکھاہے۔ یہ سن کرسیدناعمر فاروق نے قسم کھائی کہ جب تک سب لوگ خوشحال نہ ہوجائیں گے میں بھی گوشت اور گھی نہیں کھائوں گا۔ سب راوی اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عمر فاروق نے اپنی قسم پوری کر دکھائی ۔ اس کا ثبوت یہ واقعہ ہے کہ ایک دفعہ بازار میں گھی کا ڈبہ اور دودھ کا کٹورا بکنے کے لئے آیا۔ سیدنا عمر فاروق کے غلام نے چالیس درہم کے عوض یہ دونوں چیزیں خرید لیں اور سیدنا عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : امیر المومنین ! اللہ نے آپ کی قسم کو پورا کر دیا اور آپ کو اجر عظیم سے نوازا ۔ بازار میں یہ ڈبہ اورکٹورا بکنے کیلئے آیا تو میں نے آپ کے لئے یہ دونوں اشیاء چالیس درہم میں خرید لیں۔ سیدنا عمر فاروق نے فرمایا تو نے یہ چیزیں بہت مہنگی خریدی ہیں۔ لہٰذا ان دونوں کو صدقہ کر دے۔ میں نہیں چاہتا کہ کھانے میں اسراف سے کام لوں پھر فرمایا: مجھے عوام کے احوال کا اس وقت تک صحیح ادراک نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ میں خود انہی جیسے حالات سے نہ گزاروں۔(تاریخ الطبری)

سیدنا فاروق اعظم بازار میں تجارت کرنے والوں پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ انہیں شریعت کے مطابق معاملات طے کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ انہوںنے بازار کے احوال کی دیکھ بھال کے لئے بہت سے نگران مقرر کر رکھے تھے۔ انہوںنے سائب بن یزید کو مدینہ کے بازار اور عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کو دیگر بازاروں کا نگران مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا عمر بازاروں کے معاملات میں سخت ترین احتساب کا اہتمام فرماتے تھے۔ وہ اپنادرہ سنبھال کر بنفس نفیس بازاروں کا دورہ کرتے تھے۔ جو تاجر تادیب کا مستحق ہوتاسے ادب سکھاتے تھے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں میں نے سیدنا عمر فاروق کو ایک لباس میں ملبوس دیکھا۔ اس میں چودہ (14)پیوند لگے ہوئے تھے۔ ایک پیوند چمڑے کا تھا ۔ وہ ہاتھ میں اپنا درہ اٹھائے اس حالت میں بازاروں میں چکر لگا رہے تھے کہ سوائے اس پیوند لگے ازار کے ان کے بدن پر کوئی قمیض تھی نہ گرمی سے بچائو کیلئے سر پر لپیٹنے کی کوئی چادر!علامہ حافظ ذہبی فرماتے ہیں کہ قتادہ نے بیا ن کیا ۔ سیدنا عمر خلیفہ ہونے کے باوجود بے حد سادہ مزاج تھے وہ اون کا لمبا کرتا پہنتے تھے۔ اس میں چمڑے کے پیوند لگے ہوتے تھے۔ وہ اپنا درہ کندھے پر رکھے بازاروں کی خبر گیری فرماتے تھے۔ سیدنا عمر کے احتساب کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ انہوںنے بازار میں ایک آدمی کو دیکھا اس نے دودھ میں پانی ملا رکھا تھا۔ انہوںنے اس کا دودھ زمین پر بہا دیا۔

متعلقہ خبریں