Daily Mashriq

میاں شہباز شریف‘ بڑی ذمہ داری بڑا چیلنج

میاں شہباز شریف‘ بڑی ذمہ داری بڑا چیلنج

مسلم لیگ ن میں قیادت کی تبدیلی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا اور میاںنوازشریف کی تجویز پر پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے میاں شہباز شریف کو قائمقام صدر منتخب کر دیا ۔میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوا زنے شہباز شریف کو پارٹی کا قائمقام صد ر منتخب ہونے پر مبارکبا ددی اوریوں مسلم لیگ ن میں دھڑے بندی کی افواہیں اس مرحلے پر دم توڑ گئیں ۔جب تک نواز شریف کے بیانیے کو عوام میں پذیرائی ملتی رہے گی کوئی قوت ان کو سیاست میں بے معنی نہیں کر سکتی سپریم کورٹ سے نااہلی تاحیات ہے یا نہیں اس کا فیصلہ ہونا تو باقی ہے لیکن مسلم لیگ ن نے نواز شریف کو تاحیات قائد منتخب کر کے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ کو پھر مسترد کر دیا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قائد قائد ہوتا ہے اور اسے کسی عدالت سے صادق اور امین کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔مسلم لیگ ن کی مجلس عاملہ کے فیصلے کے قانونی اور اخلاقی پہلوئوں میں جائے بغیر یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ نواز شریف کو اگر تاحیات کے لاحقے کے ساتھ قائد مقرر نہ بھی کیا جاتا تب بھی وہ ہی پارٹی کے روح رواں ہیں اور رہیں گے کیونکہ یہ جماعت ہی ان کی ہے اور ان ہی کے نام سے موسوم ہے۔قائد بن کر نواز شریف پارٹی کے اہم فیصلے تو کرتے رہیں گے اور پارٹی ان کی توثیق کرتی رہے گی لیکن عملی سیاست میں نواز شریف کے دوبارہ آنے کے بارے میں فی الوقت یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ابھی آئین کی شق 62 کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین ہونا باقی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں جب جمہوری روایات کی بات ہوتی ہے تو سب ہی جماعتوں کا ایک ہی حال ہے۔ یہ جماعتیں ملک میں تو جمہوری نظام دیکھنا چاہتی ہیں لیکن اپنی صفوں میں جمہوری روایات کو فروغ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔بہرحال مسلم لیگ ن کے لئے مجموعی طور پر موسم اچھا نہیں رہا ۔ساڑھے تین عشروں سے بالخصوص پنجاب اور بالعموم ملک بھر کی سیاست اور اقتدار پر غلبہ رکھنے والی جماعت ایک بار پھر بحران کا سامنا کر رہی ہے ۔مرکز اور پنجاب میں اس جماعت کی حکومت تو موجود ہے مگر یوں لگتا ہے کہ حالات کی باگ اب اس کے ہاتھ میں نہیں رہی۔اب پنجاب کی سیاست میں مسلم لیگ ن کے مدمقابل جو فریق کھڑا ہے وہ میثاق جمہوریت کو مانتا ہے نہ اس میں شامل جماعتوں کو تسلیم کر رہا ہے۔پارلیمان کے ذریعے ملک کے قوانین ،عسکری اور سیاسی کردار کو تبدیل کرنے کی خواہش میں ملک کی ہیئت مقتدرہ کے ساتھ ان کی جو معاصرانہ چشمک چل پڑی ہے کسی طور کم ہونے میں نہیں آئی ۔اس خلیج کو پاٹنا اب قریب قریب ناممکن ہو چکا ہے ۔شہباز شریف اس خلیج کو کم کر سکتے ہیں مگر سردست حالات ان کے لئے بھی زیادہ موافق نظر نہیں آتے ۔اس خلیج کو دور کرنے کے لئے مسلم لیگ ن کے لئے امید کی واحد کرن شہباز شریف ہی ہیں کیونکہ نوازشریف کے مقابلے میں ملک کی ہیئت مقتدرہ انہیں معتدل قراردیتی رہی ہے۔بہر حال مسلم لیگ میں جراحت کا جو عمل مطلوب تھا جراحوں کے نقطہ نظر کے مطابق ان کا کام تو پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہوگا لیکن سیاست کا منہ زور گھوڑا اس قدر اڑیل اور جراحت سے علیحدہ کئے جانے والا عنصر اس قدر سخت جان اور مضبوط اعصاب رکھنے والا ہے کہ اس حوالے سے کسی اندازے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ جس طاقتور بیانیہ کے ساتھ عوام میں آئے ہیں ان کی مقبولیت کے جراحوں سمیت ان کے سیاسی مخالفین معترف ہیں اس کا اشارہ خود تحریک انصاف کے قائد کے بیانات سے بھی ملتا ہے۔ اگر سیاسی طور پر اس عمل جراحت کا جائزہ لیا جائے تو غار کے دہانے کا یہ بھاری پتھر الٹا اپنے اٹھانے والوں پر گرتا دکھائی دیتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) تمام تر حالات میں اب تک تو متحد رہی ہے ایک ایسے موقع پر بھی جب پارٹی کی حکومت مشکلات کے دور سے گزری مگر درون خانہ پیچ ڈھیلے کرنے کی تمام تر کوشش کامیاب نہیں رہیں اور پارٹی متحد رہی فی الوقت تو بعد از اختتام اقتدار بھی اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں لیکن بہر حال اس کی حتمی صورتحال سامنے آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا چونکہ شہباز شریف کی صورت میں ایک متبادل اور قابل قبول قیادت اور نواز شریف کی صورت میں مضبوط بیانیہ رکھنے والا ایک مقبول قائد موجود ہے جن کی سرکردگی میں آئندہ عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ(ن) فیورٹ پارٹی نظر آتی ہے علاوہ ازیں ماضی میں اپنی جماعتوں سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کا راندہ درگاہ ہونا بھی کوئی مخفی امر نہیں۔ تمام تر معاملات سے قطع نظر شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) ناقابل قبول جماعت سے قابل قبول میں تبدیل ہونے جا رہی ہے اس لئے اس کے عناصر کی علیحدگی کے امکانات کچھ زیادہ نہیں دکھائی دیتے۔اس وقت مسلم لیگ ن کی نئی قیادت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ ملک کی طاقتور ہیئت مقتدرہ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو کہ وہ دل میں تنہا بڑے فیصلوں کا شوق اور جنون نہیں رکھتی ۔شہباز شریف اپنا یہ تاثر اور پیغام اصل مقام تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے تو مسلم لیگ حالات کی دلدل سے باآسانی باہر نکل سکتی ہے۔

اداریہ