پا ک رہو بے باک رہو

پا ک رہو بے باک رہو

خیبر پختونخوا میں اطلاعات تک رسائی کے قانون میں ترامیم کی تجویز اگر منظور ہوجاتی ہے تو اس کے بعد اس کے موثر ہونے کا سوال اس لئے اٹھے گا کہ پھراس قانون سے استفادہ کرنا اور مطلوبہ معلومات کا حصول استحقاق نہیں رہے گا بلکہ متعلقہ حکام کی صوابدید پر ہوگا جن سے کم ہی اس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ مطلوبہ حقائق اور معلومات کو چھپانے اور درخواست گزار کو بدنیت قرار دے کر معلومات کی فراہمی سے انکار نہیں کریں گے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2013 میں اطلاعات تک رسائی کے حق کا قانون منظور کیا تھا اور اس قانون پر حکومت اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین فخر کرتے رہے ہیں اس طرح کا قانون کسی اور صوبے نے منظور نہیں کیا۔ماہرین نے بھی اسے بہتر قانون قرار دیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب صوبائی حکومت کو اس حوالے سے خود مشکلات کا سامنا ہے اور معاملات کو عوام سے چھپانے کی شاید ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے اب حق چھینا جا رہا ہے اور اب اطلاعات یا معلومات حاصل کرنے والے کو بتانا ہوگا کہ وہ کس نیت سے یہ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر متعلقہ افسر کو یہ لگے کہ یہ معلومات فراہم کرنا عوامی مفاد میں نہیں تو پھر شہری معلوم کے حق سے محروم رہیگا۔اطلاعات فراہم کرنے والے افسر کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ سمجھے کہ یہ معلومات فراہم کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے تو پھر افسر متعلقہ محکمے کے مجاز افسر سے معلومات فراہم کرنے کے لیے اجازت حاصل کرے گا۔اس بل کے حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے گو کہ لا علمی کا اظہار کیا ہے لیکن ایسا شاید ہی ممکن ہو۔ بہر حال اس سے قطع نظر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قانون میں ایسا کیا تھا جو گلے پڑ گئی ہے اور اس میں خواہ مخواہ تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ کہیں اس کا تعلق ان معاملات سے تو نہیں جن کا نیب نے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے تئیں صوبے میں اس قانون کے تحت شہری جاننے کا حق استعمال کرکے جو مقاصد حاصل کرسکتے تھے اس پر کم ہی کسی نے توجہ دی ہے۔ علاوہ ازیں دیکھا جائے تو میڈیا نے بھی اس قانون سے کم ہی استفادہ کیا ہے اس کے باوجود قانون اب خود اس کے بنانے والوں کو کھٹکنے لگا ہے۔ اصولی امر یہ ہے کہ جہاں شفافیت ہو وہاں چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ پاک رہو بے باک رہو‘ ایک ضرب المثل ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر اس قانون میں ترمیم کے پیچھے بھی چھپنا اب اس لئے مشکل ہوگا کہ اب معاملات چھپانا اتنا آسان نہیں رہا۔ صوبائی حکومت اب مدت تکمیل کے قریب ہے دم واپسیں کوئی افسا فیصلہ نہ کیا جائے جو جگ ہنسائی کا سبب بن جائے۔
براہ راست مذاکرات کی صورت کیا ہوگی؟
طالبان کا افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکا کو اسلامی امارات کے سیاسی دفتر میں براہِ راست مذاکرات کی پیش کش طالبان قیادت کی سوچ میں بڑی تبدیلی کا عندیہ ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کابل کے دورے پر ایلس ویلز نے افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے۔طالبان کمانڈر نے کہا کہ طالبان اور امریکا دو فریق ہیں اس لیے تیسرے فریق(پاکستان یا افغانستان)کو شامل کیے بغیر براہِ راست مذاکرات کریں۔واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے امریکا کو مذاکرات کی اتنی کھلی دعوت پہلے کبھی سامنے نہیں آئی کیونکہ طالبان کو ہمیشہ سے دعویٰ رہا کہ جب تک غیر ملکی فوجیں افغانستان میں موجو دہیں ، مذاکرات کی گنجائش پیدا نہیں ہوتی ۔ طالبان نے ماضی میں ہمیشہ مذاکرات سے انکار کیا اس لیے کیا یہ دونوں مذاکرات کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں؟ اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔اس وقت ارضی حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امریکا کا 16واں برس ہے اور صورتحال یہ ہے کہ واشنگٹن یا افغان حکومت ابتک60فیصد سے بھی کم رقبے پر پائوں جما سکے ہیں جبکہ باقی ماندہ شہروں اور دیہاتوں میں طالبان کا کنٹرول ہے۔ امریکہ افغانستان میں جنگی محاذ پر اپنے ڈھائی ہزار فوجیوں سمیت10کھرب ڈالر کی خطیر رقم کی قربانی دے چکا ہے لیکن افغانستان کا دارالحکومت تاحال نشانے پر ہے جبکہ جنگ کے اختتام کا دور دور تک کوئی امکان نہیں جبکہ گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ تیز کرنے کے لیے 1ہزار عسکری مشیروں کو افغانستان میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس ساری صورتحال میں اس امر کا یقین کافی مشکل ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے اس مشکل مرحلے میں مذاکرات ہوں گے بھی یا نہیں یا پھر مذاکرات کی دعوت صرف دعوت کی حد تک ہی رہے گی اور اگر مذاکرات کے عمل کا واقعی آغاز ہوتا ہے تو پھر بھی متعلقہ فریقوں کو شامل کئے بغیر براہ راست مذاکرات کیسے ہوں گے ان کا نتیجہ کیا ہوگا اور ان کی کامیابی کی کیا صورت ہوگی۔یہ امر بہر حال مشکل نظر آتا ہے کہ متعلقہ فریقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست مذاکرات کئے جائیں اور وہ نتیجہ خیز بھی ثابت ہوں۔

اداریہ