Daily Mashriq

اب آخری سطروں میں کہیں نام ہے اس ک

اب آخری سطروں میں کہیں نام ہے اس ک

مریم نواز کی ٹویٹ کو اگر بروقت تسلیم کرلیا جائے تو اتنا ضرور ہوا ہے کہ مخالفین کے ممکنہ تبصروں کی راہ روک لی گئی ہے ، حالانکہ پھر بھی کچھ نہ کچھ تبصرے ضرور آسکتے ہیں تاہم ان کی اب وہ وقعت نہیں رہے گی جتنی اس ٹویٹ کے نہ آنے کی صورت میں ہوتی ۔ ٹویٹ میںمریم نواز نے ان تبصروں کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے جو لیگ (ن) کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں چوہدری نثار علی خان کی شرکت کے حوالے سے کئے جارہے تھے اور تقریباً تمام چینلز پر خبروں میں یہ بتایا جارہا تھا کہ چوہدری نثار علی خان کو اس اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت میاں نواز شریف کے کہنے پر نہیں دی گئی ۔ اور یہ کہ تین اہم رہنمائوں کے اصرار کے باوجود سابق وزیر اعظم نواز شریف چوہدی نثار علی خان کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے پر آمادہ نہ ہو سکے ۔ اب حقیقت کیا ہے اور چوہدری نثارعلی خان کی اجلاس میں عدم شرکت کی وجوہات کیا ہیں ، اس بارے میں اس کالم کے چھپنے تک شاید صورتحال واضح ہو چکی ہو ۔ کیونکہ جب یہ اجلاس منعقدہوا جس میں میاں نواز شریف نے لیگ (ن) کی صدارت کیلئے شہباز شریف کا نام پیش کیا اور چوہدری نثار علی خان نے اس میں شرکت نہیں کی ۔ حالانکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان میں گاڑھی چھنتی ہے یعنی دونوں میںبڑی گہری دوستی ہے ، اور مختلف چینلز پر خبریں اور تبصرے سامنے آئے تو چوہدری نثار کے ترجمان کا ایک بیان بھی ٹکر کی صورت میں ملنے لگا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نثار علی خان ایک دوروز میں صورتحال پر تبصرہ کر کے وضاحت کریں گے ۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ ان سطور کے شائع ہونے تک یا تو چوہدری نثار کی پریس کانفرنس منعقد ہوچکی ہو یا پھر منعقد ہونے والی ہو اور عوام کے سامنے صورتحال واضح ہو چکی ہو ۔ جس کے بعد ہی درست تجزیہ اور تبصرہ ممکن ہو سکے گا ۔ تاہم یہ سوال پھر بھی پیدا ہوتا ہے آخروہ کیا وجہ تھی کہ چوہدری نثار علی خان کو یا تو دعوت نہیں دی گئی یا پھر انہوں نے خود ہی شرکت سے گریز کی راہ اختیار کر لی تھی ۔ دوسری جانب لیگ (ن) کی جانب سے اس حوالے سے کسی وضاحت کے نہ آنے کی وجہ سے ان خبروں کو زیادہ غلط بھی قرار نہیں دیا جا سکتا جن پر اگر چہ مریم نواز نے ٹویٹ کر کے انہیں غلط قرار دیا ۔ تاہم مریم نواز کی ٹویٹ بھی صرف ایک پہلو کی وضاحت لئے ہوئے تھی کہ جس تناظر میں خبریں چل رہی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یعنی ان کا اشارہ میاں نواز شریف پر لگنے والے الزامات کی جانب تھا کہ میاں نواز شریف کے کہنے پر چوہدری نثارعلی خان کو شرکت کی دعوت نہیںدی گئی ۔ تاہم اس ساری صورتحال پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ
اب آخری سطروںمیں کہیں نام ہے اس کا
احباب کی فہرست میں پہلا تھا جو اک شخص
بات انائو ں کے ٹکرائوکی ہو سکتی ہے ۔ اور یہ مسئلہ صرف ایک جماعت یا کسی مخصوص سیاسی جماعت تک محدود نہیں ۔ اس ملک کی سیاست پر چند سیاسی خانوادے قابض ہیں اور وہ اپنی اپنی جماعت کے لیڈروں سے لیکر ورکروں تک کو اپنا سیاسی غلام سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک جمہوریت صحیح معنوں میں پنپ ہی نہیں سکی ، دوسری جماعتوں پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے فی الحال لیگ (ن) کو ہی زیر بحث لاتے ہیں کہ کالم کا آغاز ہی اس جماعت کے معاملات سے ہوا ہے ، بد قسمتی سے میاں نواز شریف بھی اپنے سامنے کسی اور کاچراغ روشن ہوتا نہیں دیکھ سکتے ۔ یہاں تک کہ خود اپنے بھائی شہباز شریف کو بھی انہوں نے بہ امر مجبوری ہی لیگ (ن) کی صدارت کیلئے نامزد کیا ، وگرنہ جب انہیں سپریم کورٹ سے پہلی بار نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا تو اس وقت بھی شہباز شریف کا نام لیگ (ن) کی صدارت کیلئے لیا جارہا تھا مگر تب بلوچستان کے سردار یعقوب ناصر کو قائمقام صدر بنا کر قومی اسمبلی سے قانون پاس کروا کر اپنے لئے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی راہ ہموار کی گئی ۔ اس وقت چوہدری نثار علی خان نے اس قسم کی حکمت عملی کی مخالفت کرتے ہوئے تصادم سے گریز کا مشورہ دیا تھا ۔ اس کے بعد ایک انٹر ویو میں چوہدری نثار نے اپنے سے جونیئر کے ساتھ کام کرنے سے صاف انکار کر کے مستقبل میں مریم نواز کی (ممکنہ)قیادت میں چلنے کے تاثر کو واضح طور پر مسترد کر کے اپنے قد کاٹھ میں اضافہ کر دیا تھا برعکس پیپلز پارٹی کے ان بڑے بڑے لیڈروں کے جو ایک مبینہ طور پر (جھوٹی وصیت)کی بنیاد پر اوپر سے مسلط کردہ بلاول بھٹو زرداری کے سامنے غلاموں کی طرح سرجھکا کر کھڑے رہنے پر آمادہ و مجبور ہیں ۔ ظاہر ہے چوہدری نثار علی خان کی یہ ادا میاں نواز شریف جیسے نرگسیت کے شکار رہنما کو کب قبول ہو سکتی ہے ۔ تاہم اگر یہ صورتحال یو نہی جاری رہی اور نثار علی خان کو میاں نواز شریف نے باہر کی راہ دکھائی تو یہ ان سنگین غلطیوں میں ایک اور غلطی کا اضافہ ہوگا جو اس سے پہلے میاں نواز شریف کر کے ان حالات تک پہنچے ہیں ۔پہلی غلطی تو مخدوم جاوید ہاشمی سے باوجو دقربانیاں دینے کے منہموڑ نا تھا جس کی وجہ سے مخدوم جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف میں پناہ لی تھی ( اگرچہ وہاں بھی ان کو جائز مقام نہیں دیا گیا ) اور دوسری غلطی شیخ رشید کو دھتکار کر اسے اپنا دشمن بنانے کی راہ دکھائی ۔ اور اگر چوہدری نثار کو بھی لیگ ن چھوڑ نے پر مجبور کر دیا گیا تو یہ لیگ (ن)کیلئے ایک ناقابل برداشت نقصان ہو سکتا ہے
یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا اور اس پہ چھائو ں تلاش کرنا
کھڑے بھی ہونا تو دلدلوں پہ پھر اپنے پائوں تلاش کرنا

اداریہ