نواز شریف بیانیے کی شکست

نواز شریف بیانیے کی شکست

شہباز شریف کو قائم مقام صدر بنانے سے ایک بات واضح ہے ، نواز شریف کو اپنے وضع کردہ بیانیے سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ نواز شریف کو دونوں میں سے ایک چیز بچانی تھی ‘ پارٹی یا اپنا بیانیہ ! انہوں نے پارٹی کو ٹوٹنے سے بچا لیا۔ ظاہر ہے کہ پارٹی قائم رہے گی تو بیانیہ بھی ساتھ ساتھ چلے گا۔ شہباز شریف کی صدارت کا پہلا تجربہ صدر مشرف کے دور میں کیا گیا تھا جو اس اعتبار سے نواز شریف کے ہوتے ہوئے انہیں کوئی پوچھتا نہ تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے لندن کے ہلٹن ہوٹل میں وہ مناظر دیکھے ہیں کہ پارٹی رہنما دیوانہ وار نواز شریف کی جانب تصاویر کھنچوانے کے لیے لپکتے تھے جب کہ شہباز ہال میں ایک جانب کھڑے اس انتظار میں ہوتے کہ کوئی آ کر ان سے کہے گا میاں صاحب آپ کے ساتھ ایک تصویر بنانی ہے۔ باضابطہ میٹنگز کے دوران بھی شہباز شریف کی حیثیت ثانوی رہتی تھی۔ میاں نواز شریف باضابطہ اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے اور ساتھ والی نشست پر راجہ ظفر الحق براجمان ہوتے تھے۔ شہباز شریف کی رائے مقدم نہ تھی بلکہ ان کی حیثیت پارٹی کے دیگر قد آور رہنماؤں جیسی ہی تھی۔ اب حالات نسبتاً مختلف ہیں۔ شہباز شریف مسلسل دو مرتبہ وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے کے بعد اپنا مقام بنا بیٹھے ہیں۔ اب عملی طور پر ان کی پوزیشن پارٹی میںسیکنڈان کمانڈ کی ہے ۔ چنانچہ شہباز شریف کا یہ عہدِ صدارت ماضی کی طرح بے ضرر اور نمائشی نہ ہوگا۔ ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ شہباز شریف جماعتی پالیسیوں پر خاصے اثر انداز ہوں گے۔ ان کی موجودگی میں یہ ممکن نہ ہو گا کہ مریم اپنی ترجیحات اور مرضی کے مطابق پالیسی ترتیب دیں۔ مسلم لیگ ن کی پالیسی اب وہ لوگ بنائیں گے جو ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کی بات کرتے ہیں۔ ممکن ہے نواز شریف کے پیش نظر ماضی کا تجربہ ہو جب وہ شہباز شریف کو اعتماد میں لے کر وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے تھے۔ ایک جانب جنرل مشرف سے لڑائی جاری تھی جبکہ درون خانہ معاملات طے کرنے کی حکمت عملی بھی ترتیب دی گئی تھی۔محترمہ بے نظیر بھٹو کو آگے بڑھنے کا ’’گرین سگنل‘‘ دینے والے نواز شریف تھے لیکن پارٹی رہنماؤں کے سامنے وہ تاثر دیتے تھے کہ فوجی آمر سے کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔ یوں ’’لڑائی‘‘ اور ’’مفاہمت‘‘ کی دورُخی پالیسی اپنا کر نواز شریف اپنے لیے واپسی کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب رہے۔ اب بھی شاید وہ انہی خطوط پر اپنی جدوجہد استوار کریں گے مگر ان کی کامیابی کے امکانات اب کم دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی نااہلی سے شہباز شریف کی وزیر اعظم بننے کی دیرینہ خواہش پوری ہو رہی ہے لہٰذا شہباز شریف اپنے بھائی کے لیے صرف اس حد تک معاون ضرور ہوں گے کہ ان کے خلاف بننے والے نیب مقدمات سے ان کی جان چھوٹ جائے مگر وہ یہ کبھی نہ چاہیں گے کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی سیٹ پر بٹھا کر وہ اپنے لیے دوبارہ درجہ دوم کا انتخاب کر لیں۔ مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جو تلخی پیدا ہو چکی ہے اس کے نتیجے میں نواز شریف کی واپسی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسلم لیگ ن نے بقا کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو مفاہمت اور صرف مفاہمت کی پالیسی بنے گی اور یہ بات پارٹی کے سینئر رہنما اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ شہباز شریف کے پارٹی کے قائمقام صدربننے کیبعد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کا پیش کردہ بیانیہ بھی لازمی طور پر تبدیل ہو گا۔ اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس تبدیل شدہ پالیسی کے بعد آئندہ انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن دوبارہ اقتدار حاصل کر پائے گی۔ میرے نزدیک مسلم لیگ ن کو مرکز اقتدار ملنے کے امکانات نہایت معدوم ہیں۔
بروقت الیکشن ہونے کی صورت میں مسلم لیگ ن کی کامیابی اس بات کی مرہون منت ہو گی کہ عدلیہ اور فوج کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جس جماعت کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے خلاف ہے اور وہ اسے آنے نہیں دے گی تو اس کے بیس تیس فیصد ووٹ جھڑ جاتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے بارے میں تیزی سے یہ رائے بن رہی ہے۔جوں جوں یہ رائے پختہ ہو گی، ووٹر بھی ن لیگ سے بھاگے گا اور الیکشن لڑنے والے امیدواران بھی اُڑان بھرنے لگیں گے۔ تازہ خبر ہے کہ سنٹرل پنجاب گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے طارق محمود اور دو سابق ایم پی ایز صاحبان نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ چھوڑنے کی وجوہات لوکل پالیٹکس کے تناظر میں ہوں لیکن ن لیگ کے لیے اپنے تئیں یہ بات تشویش ناک ہے کہ وسطی پنجاب سے جو اس کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ، پارٹی ایم این ایز مسلم لیگ ن چھوڑ رہے ہیں۔ عام ملکی حالات میں اس طرح کا رسک سیاسی لوگ نہیں لیتے ، لیکن اب چونکہ ن لیگ کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے اور میاں صاحب کے گرد نیب کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے تو لامحالہ اُن امیدواروں کے لیے گنجائش پیدا ہو گئی ہے جو کسی بھی وجہ سے ن لیگ کی قیادت سے تنگ تھے۔ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن سے مستعفی ہونے والے اراکین کی بڑی تعداد سامنے آئے گی۔

اداریہ