پختونوں کے حقوق کی تحریک

پختونوں کے حقوق کی تحریک

دوسالوں میں پختون نوجوان کی طرف سے پختونوں کے حقوق کے لئے دو تحریکیں شروع کی گئی تھیں جن میں سے پہلی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لئے تھی جبکہ دوسری تحریک پختونوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف شروع کی گئی تھی جسے پختون لانگ مارچ کا نام دیا گیا تھا ۔ اس لانگ مارچ کا مقصد پختونوں کی جبری گمشدگی اورماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات کے خلاف احتجاج کرنا اور ان کا خاتمے کے لئے حکومت کو سنجیدہ کوششوں پر مجبور کرنا تھا۔ پختون لانگ مارچ کا آغاز کراچی میں سندھ پولیس کی جانب سے پختون نوجوان نقیب اللہ محسودکے ماورائے عدالت قتل کے بعد ہوا تھا۔پختونوں کی جانب سے شروع کی جانے والی دونوں تحریکوں میںجو خصوصیات مشترک تھیں ان میں دونوں تحریکوں کا پُرامن ہونا، نوجوان قیادت کے ہاتھ میں تحریکوں کی قیادت ، ایسی ریاست سے انصاف کا مطالبہ جو اپنے شہروں کے حقوق کی پامالی پر خاموش ہے، تمام سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر صرف ایک کاز کے لئے متحد ہونا اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال شامل ہیں۔ قومی میڈیا کا ان دونوں تحریکوں کو کوریج نہ فراہم کرنا انتہائی بدقسمتی کی بات ہے جس کی تین بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلے نمبر پر، ان تحریکوں میں پیش کئے جانے والے مطالبات کا تعلق ریاست کی سیکورٹی پالیسی اور پختون قوم سے تھا جسے میڈیا اور ریاست کی جانب سے دہشت گردی کے بیانیے سے جوڑا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پختونوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کوممنوع سمجھا جاتا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مین سٹریم میڈیا اس پر بات کرنے سے کتراتا رہا ہے جس کا عملی مظاہرہ پختون لانگ مارچ اور اسلام آباد کے دھرنے کے موقع پر دیکھنے میں آیا تھا۔دوسرے نمبر پر، سٹیٹ اور نان۔سٹیٹ ایکٹرز کے خطرات کی وجہ سے فاٹا میں میڈیا کے نمائندوں کو جانے کی اور کھلے عام کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔گنتی کے چند صحافی ایسے ہیں جو سیکورٹی اداروںکے زیرِ سایہ فاٹا میںجا کر کام کرتے ہیں لیکن پھر انہیں سرکاری بیانات کے مطابق پورے علاقے کو خوشحال اور ترقی یافتہ دکھانا پڑتا ہے۔ تیسرے نمبر پر، فاٹا اور پختونوں سے متعلقہ خبریں لوگوں کے لئے زیادہ دلچسپی کا باعث نہیں بنتی جس کی وجہ سے مالی مفادات کو اپنا مطمع نظر رکھنے والے میڈیا ہائوسز ایسی خبروں کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتے۔اس سارے معاملے کا تعلق پختونوں کو کمتر انسان سمجھنے اور انہیں دہشت گردی سے جوڑنے سے ہے، خصوصاً وہ پختون جن کا تعلق فاٹا سے ہے۔ یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جون 2016ء سے فاٹا میں موبائل انٹرنیٹ سروس بلا ک ہے اور براڈبینڈ سروس بھی چند علاقوں تک محدود ہیں۔اگر فاٹا میں انٹرنیٹ سروس ہی نہیں تو فاٹا کے نوجوانوں نے اتنی بڑی تحریک کیسے چلائی ؟ پختون تحریک میں شامل نوجوان دراصل وہ لوگ ہیں جوکہ فاٹا کے حالات کی وجہ سے اپنا علاقہ چھوڑ کر خیبر پختونخوا ، کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں رہنے پر مجبور ہیں اور وہاں سے سوشل میڈیا استعمال کرکے تحریک میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ان شہروں میں رہنے والے پختونوں کو نسلی تعصب اور امتیاز کا سامنا رہتا ہے۔ پختونوں کے مطابق فاٹا اور خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی نا انصافیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔فاٹا اور سوات میں اس وقت بہت سی چیک پوسٹس قائم ہیں اور چیک پوسٹس کا درمیانی فاصلہ اتنا کم ہے کہ کسی بھی مسافر کا ان علاقوں میں سفر کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے مقامی افراد کو ان چیک پوسٹس پر غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا اور اکثر اوقات مقامی افراد کے ساتھ مشکوک لوگوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ان سب باتوں کے علاوہ پختون لانگ مارچ کے آغاز کی فوری وجہ سندھ پولیس کی جانب سے کراچی میں نقیب اللہ محسود کا ماورائے عدالت قتل تھا۔ نقیب اللہ محسود کے قتل نے ایک چنگاری کا کردار ادا کیا جو شعلہ بن کر اسلام آباد تک آ پہنچی اورفروری کے اوائل میں اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے کے بعد حکومت نے پختونوں کے مطالبات ماننے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ان مطالبات میں پختونوں کے ماورائے عدالت قتل کی تفتیش ، رائو انوار کی گرفتاری اور ٹرائل بھی شامل تھے۔فاٹا یوتھ جرگہ پرامن احتجاج کے ذریعے کچھ مطا لبات منوانے میںکامیاب ہوچکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ نے عدالتِ عظمیٰ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ پختون یوتھ جرگہ کے دعوے کے مطابق مذکورہ احتجاج کے بعد 71 لاپتہ افراد بھی اپنے گھروں کو واپس آئے ہیں۔ اسی دوران آرمی چیف کی جانب سے وطن کارڈکی شرط بھی ختم کردی گئی ہے جس کے بعد سوات، باجوڑ اور خیبر ایجنسی میں بھی چیک پوسٹس پر ہونے والے غیر انسانی سلوک کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ اس وقت دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور ٹیکنالوجی کے بدولت ہی پختون اپنی تحریک کو احسن طریقے سے چلانے اور اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس سے سبق سیکھتے ہوئے ہمارے سیکورٹی اداروں کو یہ سوچنا ہوگا کہ سوات میں مقامی افراد کو گرفتار کرکے ان کے احتجاج کو غیر ملکی ایجنسیوں کی سازش قرار دینے جیسے بیانات کارگر ثابت نہیں ہوں ۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ