بارش ، سفر،دریا اور بہت سے دوست

بارش ، سفر،دریا اور بہت سے دوست

لگتا ہے موسم اور انٹرنیٹ کی پھردوستی ہوگئی ہے ۔ نیٹ کی پیش گوئیاں آج کل ٹھیک نشانے پر لگ رہی ہیں۔گزشتہ برس انٹر نیٹ اور موسم کے تعلقات اتنے کشیدہ تھے بیشتر پیش گوئیاں غلط ثابت ہوتیں بلکہ ہم نے تو ان دنوں موسم کی جانکاری کے لیے نیٹ دیکھنا ہی چھوڑدیا تھا۔یوںلگتا ہے کہ کسی نے ان دونوںکی صلح کروادی ہے یا پھر محکمہ موسمیات والوں نے سنجیدگی سے کام شروع کردیا ہے ۔انٹر نیٹ کی پیش گوئی کے مطابق گزشتہ رات بادل خوب گرجے اور خوب برسے ۔صبح چمن گیلا اور فضادُھلی ہوئی ملی ۔ بارش کسی بھی موسم کی ہو اچھی لگتی ہے لیکن بہار کی آمد اور بارش کا ہونا عجیب منظر ہوتا ہے ۔درختوں پر نئی نئی کھلی ٹہنیوں پر جنمی نئی نئی کلیاں ،نوواردشگوفے اور جوان پھول اُگ آتے ہیں ، یوں لگتا ہے کہ کسی دلہن کے بازوؤ ں میں گہنے چمک رہے ہوں ۔بہار یونہی تو سارے موسموںپر سبقت نہیں لیتی کہ اس موسم میںفطرت اپنے سارے کینوس اٹھالاتی ہے،اپنے سارے رنگ ان کینوسوں پر انڈیل دیتی ہے اور پھرصفحہ ہستی پر ایسی ایسی من موہنی تصویریںابھرتی ہیں کہ منہ سے سبحان اللہ نکل آتا ہے ۔رات کو بارش برسی اور ابھی کمرے کے دریچے سے سورج کی کرنیں روشن دن کی نوید لے آئی ہیں ۔ یہی قدرت ہے یہی فطرت ہے کہ جس کے رنگ دلفریب ہیں۔بارش میں سفربھی تو ایک رومانوی کیفیت ہوتی ہے اور سفر بھی ملاکنڈ کا ۔ عزیزی پروفیسرڈاکٹرمشتاق اورپروفیسر ڈاکٹر وارث نے دریائے سوات کے کنارے کھانے کی دعوت دی تھی اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ سوات اور ملاکنڈکے تمام اردو کے پروفیسر اس ظہرانے میں شامل ہوں گے ۔مشتاق اور وارث اورسیدشیرسے اس لیے بھی محبت ہے کہ ان تینوں کو پشاور یونیورسٹی میں ایم اے کرنے سے اب تک جانتا ہوں،ان کی محنت کا بھی معترف ہوں،ان کی محنت سے بھی واقف۔ جانے کا دن ہفتے کا تھا اور انٹرنیٹ نے بارش کی نوید دی تھی ۔ ڈاکٹر تاج الدین ، نعیم خان اور پروفیسر سید ولی کے ساتھ صبح صبح عازم سفر ہوئے تو بارش نے آخری دم تک ساتھ نبھایا۔یوںتو ملاکنڈ،سوات کے راستے میں رش کا سامنا رہتا ہے لیکن بارش کی وجہ سے راستہ صاف تھا یہ الگ بات کہ ہم پھر بھی گاآہستہ گام ہی رہے کہ سفر میں نظارے دیکھنے کے لیے کم رفتار ہی کام آتی ہے ۔کیونکہ تیز رفتار خدوخال کومٹادیتی ہے ۔ہم ٹھہرے فطرت کے عاشق بھلااپنی رفتارسے فطرت کے خدوخال کا قتل کیسے کرسکتے ہیں ۔جبکہ پچھلی نشستوں پرسید ولی اور نعیم خان مختلف موضوعات پر بحث کررہے تھے ۔سید ولی کے پاس کتاب کا علم تھا تو نعیم خان اپنے جہاں بینی کے مشاہدے اورتجربے سے دلیل پیش کررہا تھا۔بٹ خیلہ میں ایک بہت خوبصورت ریسٹورنٹ پہنچے تو بارش نے وہاں بھی کیفیت بنارکھی تھی ۔ بہت سے ساتھی پہلے ہی موجود تھے ۔ایسا پرتپاک استقبال کہ لگا جیسے قومی اسمبلی کا الیکشن جیت کر آئے ہیں ۔ محبت اسی کا نام ہے شاید۔ڈاکٹراسرا، عبدالستار ،انعام اللہ ، فضل کبیر، شاہ خالد ، اورنگزیب تواب پروفیسر بن چکے ہیں لیکن اب بھی شاگردی کا دعویٰ رکھتے ہیں اور دعائیں وصول کرتے ہیںحالانکہ اپنی علمیت میں کمال رکھتے ہیں۔ ان میں ایک ’’خوگ جانان‘‘بھی ہے نام تو ظفریاب ہے لیکن اپنے نک نیم کی سارے سمپٹم رکھتا ہے کیونکہ ’’جانان‘‘ ہو اور’’ خوگ ‘‘بھی تو کسی بیماری سے کیا کم ہے کہ کب کس کو لگ جائے ۔اس سارے منظر میںمجھے ڈاکٹر الطاف کی بیماری کادکھ ہوا۔ کچھ سال ادھر ہزارہ یونیورسٹی میںایک تھیسس کے وائیوا میںان سے بھرپور ملاقات ہوئی تھی ۔ خوبصورت آدمی آج بیمارتھا ۔ اسے سپائینل کارڈ کا مسئلہ ہوا ہے ۔اللہ اسے جلد صحت یاب کرے ۔لوجی ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری اورڈاکٹر سید شیر بھی آن پہنچے ۔سید شیر تو برخوردار ہے لیکن لحیم شحیم بادشاہ کو برخوردار کہتے لجا آتی ہے پھر وہ مبالغے کی حد تک سچ بولنے والا آدمی ہے اورہم’’ کذب گرکالونی ‘‘کے باسی ۔سو چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بادشاہ منیرکے آتے ہی ساری محفل ان کے نام ہوگئی ۔پروفیسر نبی شاہ کا ایک دیرینہ دکھ تھا کہ اسے کب ایسوسی ایٹ پروفیسر ی ملے گی شکر ہے کہ اس کو اس پِیڑاسے مکھتی مل گئی ، اور وہ آج شانت بھی بہت تھا۔،زاہدحسین،ڈاکٹر انور علی سے میں ذاتی طور پر بہت متاثر ہوں ان دونوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر جہا نزیب کالج سوات میںبی ایس اردوکو ایک ترفع سے آشنا کیاہے ۔،سبحان اللہ ، سلطان زیب باچہ ، سہیل باچہ، ڈاکٹرامیر تراب بھی یہاںموجود تھے اوراپنی میزبانی پر خوش تھے ۔ موسم اوردوست تو پیارے تھے ہی کھانا بھی اول درجے کا تھا۔ اس محفل کا سب سے اہم حوالہ ریسٹورنٹ کے عقب میں بہنے والا دریا تھا ۔ جس نے اپنی جانب کھینچ ہی لیا بہتا پانی اپنے سوتے کی جانب بلارہا تھا اور ہم مبتلا لوگ کہاں چوٹیوں میںان سوتوں سے ملاقات کرسکتے ہیں ۔ ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہ کتنابھی گیا گزراکیوںنہ ہو۔دوستی ، محبت اور احترام اب بھی سماج میںمیسر آجاتاہے ۔ سوات اور ملاکنڈ کے اردو کے کالج اساتذہ نے اس دن دوستی ، محبت اور احترام کا پھر سے سبق یاد کیا ۔ مصروفیتوں میں گھرے ہم لوگ اپنے بہت قریب اور پیاروںکے لیے ایک دن نکال لیں تو کیا حرج ہے ۔یہ ایک دن ہمیں کئی دن خوشگوار انداز میں جینے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔ ہم سب وہاںاردو کی واحد قدر مشترک کی وجہ سے موجود تھے۔ اردو کہ ہمارا رزق بھی ہے ، دوستی بھی ہے ، محبت بھی ہے اوراحترام بھی ۔

اداریہ