Daily Mashriq

امن کی واپسی کیلئے جتن

امن کی واپسی کیلئے جتن

امریکہ نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف تمام کارروائیاں روک دی جائیں، اس سے قبل امریکا کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا تھا کہ خطے میں مزید فوجی کارروائیوں کا خطرہ ناقابلِ قبول حد تک بڑھ چکا ہے۔ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی اپیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت جنوبی ایشیا کی دونوں نیوکلیائی طاقتوں کے مابین کشیدگی ختم کروانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک پر مزید کارروائیوں سے گریز کرنے پر زور دیا تھا اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کہا کہ برطانیہ دونوں ممالک سے کشیدگی ختم کرنے کیلئے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔ غیرملکی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق یورپی یونین کی سفارتی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے بھی پاکستان اور بھارت سے حتی الامکان تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے انڈیا کیساتھ عسکری کشیدگی کے بعد خطاب میں انڈیا کو جنگ کی طوالت اور تباہ کاریوں سے متعلق خبردار کرتے ہوئے عقل وحکمت اختیار کرنے کا مشورہ دیا اور ایک مرتبہ پھر پلوامہ حملے میں تحقیقات کی پیشکش کی۔پاکستانی وزیراعظم نے انڈیا کو تحمل کا مشورہ دیتے ہوئے ایک بار پھر پلوامہ کے حملے کے بارے میں تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی اور کہا کہ ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ پاکستان کی جانب سے کارروائی میں تاخیر سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں انڈیا کی جانب سے کارروائی کا خدشہ تھا کیونکہ انڈیا میں انتخابات ہونے والے ہیں اور انہیں اندازہ تھا ان کی حکومت اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی اور اسی لئے انہوں نے انڈیا کو جوابی کارروائی سے متعلق خبردار کیا تھا۔ دریں اثنا انڈین دفترِ خارجہ کے مطابق انڈین حکام نے پاکستان کو پلوامہ حملے میں جیشِ محمد کے ملوث اور اس تنظیم کے کیمپ اور قیادت کے پاکستان میں ہونے کے بارے میں معلومات پر مبنی ڈوزیئر فراہم کر دیا ہے۔ انڈیا نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے جاری دہشتگردی کیخلاف فوری اور قابلِ تصدیق کارروائیاں کرے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور جھوٹے دعوؤں کے جواب میں کارروائی کے بغیر پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ بچا ہی نہ تھا گوکہ بھارتی طیاروں نے نہ تو بمباری کی تھی اور نہ ہی آبادی کو نقصان پہنچایا اور نہ ہی جانی نقصان کیا لیکن اس کے باوجود بھی پاکستانی عوام کے لبوں پر یہی اعتراض تھا کہ بھارتی طیارے ہماری فضائی حدود میں داخل کیسے ہوئے اور صحیح سلامت واپس کیسے چلے گئے۔ جذبات سے مغلوب عوام سے اس امر کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور عسکری حکمت عملی کا ادراک کرنے کے بعد سوالات اور اعتراض اٹھائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوام سوال کرنے اور ناراضگی کا اظہار یہاں تک کہ تنقید کرنے میں بالکل حق بجانب اس لئے تھے کہ عوام عساکر پاکستان سے جو توقعات رکھتے ہیں اور پاک فوج کے مجاہدوں سے ان کی جو امیدیں اور توقعات ہیںاس کے تناظر میں وہ عملی طور پر عساکر پاکستان کو بہرصورت کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ملک کی سیاسی وعسکری قیادت کے پاس اس تناظر میں حساب برابر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارۂ کار باقی نہ تھا۔ بہرحال پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں اور خاص طور پر جری سپوت نے نہ صرف حساب برابر کیا بلکہ دن کے اُجالے اور روپہلی دھوپ میں کھلے آسمان پر نہ صرف بھارت کو حیرت زدہ کر دیا بلکہ پاکستانی قوم سے حیران کر دینے کا حامل جواب دینے کا وعدہ اس طرح پورا کر دیا کہ اس کو وطن عزیز کے لوگوں اور دنیا کو بتانے کی ضرورت بھی باقی نہ رہی جس کے بعد اب بھارت سے بہرحال جواب متوقع ہے جبکہ سرحدوں پر شدید لڑائی نہیں تو اوسط درجے کی لڑائی اور حملے ہو رہے ہوں گے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس پر عالمی رہنماؤں اور دنیا کو تشویش ہے، دوجوہری طاقتوں کے درمیان جنگ صرف ان ممالک کیلئے ہی خطرناک نہیں بلکہ پوری دنیا اور بالخصوص خطے کا امن تباہی کے دہانے پر ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے اس صورتحال کا بجاطور پر ادراک کرکے بھارت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دیکر بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بھارت کی وزیرخارجہ نے بھی بھارت کا مزید کشیدگی کے خواہاں نہ ہونے کا بیان دیا ہے لیکن جب تک معاملات ٹھنڈے نہیں ہوتے اور عملی طور پر دونوں ممالک کے درمیان رابطے نہیں ہوتے خطے کا امن خطرات سے دوچار رہے گا جس سے گریز ہی دونوں ممالک کی بہتر حکمت عملی ہوگی۔

متعلقہ خبریں