Daily Mashriq

ان امور پر بھی جذباتی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے

ان امور پر بھی جذباتی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے

ملک کے طول وعرض میں پاک فوج کے حق میں ریلیاں نکالنے والوں کا جذبہ حب الوطنی قابل رشک اور قابل صد تحسین ہے زندہ قومیں اپنے محافظوں کی پشت پر کھڑی ہوتی ہیں ہمارے عوام کا جذبہ ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر محاذ پر جاکر جارح قوت کیخلاف جنگ لڑنے کا ہے۔ جب صورتحال معمول پر آجائے تو ہم من حیث القوم ان باتوں پر بھی غور کرنا ہوگا جو ہماری قومی ومعاشرتی کمزوریاں ہیں۔ ان باتوں اور اقدامات پر بھی توجہ دینی ہوگی جس کے باعث ملک مضبوط ومستحکم ہو کیونکہ مضبوط ومستحکم ملک کیلئے مضبوط فوج کیساتھ مضبوط معیشت بھی بہت ضروری ہے۔ ایمانداری اور قانون کا احترام اور قانون پر عملدرآمد کسی بھی ملک کو باوقار بنانے کیلئے اہم ہیں۔ ملک وقوم کی ترقی کیلئے ان اوصاف کو اختیار کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ ایک دیانتدارانہ معاشرے ہی میں معیشت پروان چڑھ سکتی ہے اور مضبوط معیشت ہونے کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔رشوت وبدعنوانی کا ناسور ہمارے معاشرے اور معیشت دونوں کیلئے زہرقاتل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کا ادراک کرنے کے باوجود ہم اسے چھوڑنے پر تیار نہیں۔ یہ سارے معاملات اور اس سے متعلق دیگر عوامل ومعاملات سبھی ملک کی مضبوطی واستحکام کی ضرورت ہیں جس پر غور کرنے اور ان پر کاربند ہو کر ہی ملک کو درپیش حالات کا مقابلہ ممکن ہے۔ سرحدی کشیدگی وقتی معاملہ ہے اور اس پر جذباتی ہونا بھی غیرت قومی کا تقاضا ہے۔ دیکھا جائے تو محولہ معاملات بھی کچھ کم اہم نہیں اس پر من حیث القوم سوچنے اور اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

پرتعیش زندگی گزارنے والے سرکاری ملازمین کیخلاف تحقیقات

لگژری گاڑیاں اور اہم ترین پوش علاقوں میں پراپرٹی خریدنے والے300 سرکاری ملازمین کی نشاندہی پر ایف بی آر نے نوٹس جاری کرنے کے فیصلے پر سنجیدگی اور جلد سے جلد عملدرآمد کرتے ہوئے اس عمل کو پوری طرح نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان سرکاری ملازمین سے جواب طلب کیا جائے گا کہ انہوںنے یہ جائیدادیں اور گاڑیا ںکہاں سے حاصل کی ہیں اور ان کی آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟ تین کے تین سو سرکاری ملازمین سبھی پر شک وشبہ کا اظہار تو موزوں نہیں لیکن ان میں اکثریت کا صحیح تحقیقات اور چھان بین پر اپنے اثاثوں اور معیارزندگی کو آمدن میں رہتے ہوئے ثابت کرنا مشکل ہوگا۔ ایسے سرکاری ملازمین کی کمی نہیں اور یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ بعض پست، اوسط اور اعلیٰ درجے کے سرکاری ملازمین دیگر ذریعہ آمدن نہ رکھنے کے باوجود شاہانہ زندگی گزارتے ہیں جن کی بجاطور پر نشاندہی سامنے آئی ہے۔ قصوروار پائے جانے والے ملازمین کیخلاف کارروائی سے نہ صرف سرکاری خزانے کو آمدن ہوگی بلکہ احتساب اور بدعنوانی کی روک تھام میں یہ اقدام بہت مددگار ثابت ہوگا اور دیگر سرکاری ملازمین اس سے عبرت حاصل کریں گے۔

نشر واشاعت کے شعبے کے کاروبار اور کارکنوں کے مسائل

مشرق فورم میں اس بات کا سامنے آنا کہ پشاور کی پریس مارکیٹ مختلف مسائل سے دوچار ہے اور پرنٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ اس شعبے میں کام کرنیوالے ہنرمند اور محنت کش بھی اپنے مستقبل سے مایوس ہیں خاصی تشویش کا امر یہ ہے کہ اس صورتحال کے باعث پریس مالکان پریس مشینیں اور دیگر متعلقہ آلات اونے پونے بیچ کر دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری پر مجبور ہورہے ہیں۔ پشاور پریس مارکیٹ میں 12ہزار سے زائد محنت کش مختلف شعبوں میں کام کرکے باعزت روزگار کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ مارکیٹ سکڑتی جارہی ہے۔ صوبائی حکومت کی غلط پالیسی کے باعث ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذریعے نصابی کتب کی چھپائی کا کام مقامی مارکیٹ سے کرانے کے بجائے لاہور منتقل کرنا سراسر بلاجواز امر ہے۔ تاجروں کو صفائی، نکاسی آب اور پیسکو کی جانب سے الگ الگ میٹروں کی عدم تنصیب سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں پرنٹنگ کا مرکز سمجھے جانیوالے اس مرکز سے نہ صرف ہزاروں افراد اور خاندانوں کا کاروبار اور روزگار وابستہ ہے بلکہ یہ مارکیٹ صوبے کے عوام کو ضروریات کے مطابق نشر واشاعت، اشتہاربازی اور اس قسم کی دیگر سہولیات کی بآسانی فراہمی کا باعث بھی ہے اس کے باوجود اس مارکیٹ کی ہزاروں دکانوں اور سینکڑوں افراد کے روزگار کے تحفظ کا ماحول نہیں جس کے باعث یہ ضروری شعبہ اور اس سے وابستہ افراد زوال کا شکار ہیں اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری پر مجبور ہیں۔ یہ مسائل ایسے نہیں کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے ان پر توجہ دیںتو حل کرنا ممکن نہ ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پریس مارکیٹ کے کاروباری افراد اور اس سے وابستہ محنت کشوں کے مسائل کے حل کی سنجیدہ سعی کی جائے گی اور ان کو مشکلات سے نجات دلائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں