Daily Mashriq

بھارتی میڈیا کے پاکستان مخالف رویے میں تبدیلی

بھارتی میڈیا کے پاکستان مخالف رویے میں تبدیلی

ایک دن کے عرصہ میں بھارت کے ٹی وی چینلز اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بھارت کے حکمرانوں کے رویے میں جو تبدیلی رونما ہوئی ہے وہ بعض ٹی وی ناظرین کو حیران کن محسوس ہوئی ہے۔ اس ایک دن میں دو واقعات برپا ہوئے ہیں ‘ایک بھارتی حملہ آور جیٹ آزاد کشمیر کے علاقے میں گرایا گیا اور اس کا پائلٹ گرفتار کیا گیا ہے (دوسرا طیارہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں گرا) اور دوسرے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کر کے بھارت کے وزیر اعظم کو اخلاقی یا سفارتی سطح پر خالی ہاتھ کر دیا ہے۔ اس کے بعد بھارتی ٹی وی چینلز کے نشریوں میں طاقت کا وہ زعم اور گھمنڈ نظر نہیں آرہا اور نریندر مودی اور ان کے وزراء اٹھتے بیٹھتے پاکستان کے خلاف جو زہر اگلتے نظر آتے تھے وہ بھی نظر نہیں آ رہا۔ تو کیا بھارت کے بی جے پی ذہن کو وزیر اعظم عمران خان کی بات سمجھ آ گئی ہے کہ جنگ کوئی اچھی بات نہیں ہے؟ کیا بھارت کے حکمرانوں کو پاک فوج کے ترجمان کی یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ پاکستان کے پاس وطن کے دفاع کی صلاحیت بھی ہے‘ اہلیت بھی ہے‘ مستعدی بھی ہے اور عزم بھی ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کی روشنی میں بھارتی جنگی طیارے پاکستان کو ’’پلواما واقعہ کی سزا دینے‘‘ آئے تھے جو ڈھیر کر دیے گئے۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان نے دہشت گردی سمیت تمام معاملات پر مذاکرات کی دعوت دے کر وزیر اعظم مودی کو ان کے سب سے بڑے سفارتی الزام سے محروم کر دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے اور بھارت دہشت گردی کا مظلوم ہے۔ اس سے پہلے عمران خان یہ پیش کش کر چکے تھے کہ پلواما واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کی کوئی قابلِ عمل معلومات فراہم کی جائیں تو پاکستان اس پر ضرور کارروائی کرے گا۔ یہ پیش کش اس کے باوجود تھی کہ بھارت کا حاضر سروس بحریہ کا افسر جاسوسی اور تخریب کاری کے اعتراف کے ساتھ پاکستان میں زیرِ حراست ہے۔ اور بلوچستان میں بغاوت کے لیے کام کرنے والے بھارت میں مقیم ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ان کے گروپوں کو بھارت سے امداد ملتی ہے۔ ان شواہد کے ہوتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی یہ پیش کش کہ وہ بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے ایشو پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور بھارت پلواما کے واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کی معلومات فراہم کرے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔ ایسی فراخدلی سچائی پر ہی مبنی ہو سکتی ہے۔ کیا نریندر موودی کی اس کے بعد خاموشی پاکستان کے موقف کے قائل ہونے کی دلیل سمجھی جا سکتی ہے؟ فوری طور پر اس نتیجہ پر پہنچنا غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ بی جے پی کے بڑوں نے پون صدی سے زیادہ عرصہ بھارت میں ایسی ذہن سازی پر صرف کیا ہے جو آج پاکستان دشمنی‘ مسلمان دشمنی ‘ہندوتوا‘ اختلافی نقطۂ نظر یا اقلیتی مذاہب کو تلف کرنے پر اکھنڈ بھارت آمادہ نظر آتا ہے۔ اس بخار کے اترنے کے لیے انجذاب آگہی کی ایک مدت درکار ہو گی۔ غلطی تسلیم کرنا حوصلہ مندی کا تقاضا کرتا ہے ۔حوصلہ دلیر آدمی میں ہی ہوتا ہے‘ ظالم میں نہیںہوتا۔ ظالم مزید ظلم سے تقویت حاصل کرتا ہے ۔ بہادر آدمی قابلِ اعتماد ہوتا ہے اور اعتماد کرتا ہے ۔ ظالم نہ قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے اور نہ اعتماد کرتا ہے۔ بھارت کے نریندر مودی کے لیے آج انتخابات میں کامیابی زندگی کا سب سے بڑاجوا ہے۔ ان کے ترقی اور دو کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں ۔ رافیل طیاروں کی خریداری سمیت ان پر اور ان کی پارٹی پر بڑے بڑے سکینڈلز کے الزامات ہیں۔ انہوں نے انتخابات میں کامیابی کے لیے پاکستان دشمنی اور مسلمان دشمنی کا وتیرہ اپنایا ہے جس کے لیے انکا ماضی‘ ان کے گجرات کا بوچڑ کے لقب کے ساتھ گواہ ہے۔ وہ بھارتیوںکو پاکستان کے خلاف کسی ایسے اقدام کا تحفہ دینے پر تلے ہوئے ہیں جس کے عوض بھارت کے عوام انہیں دوبارہ وزیر اعظم چن لیں۔ قیاس چاہتا ہے کہ انہیں اس کے سوا اندھیرا نظر آتا ہے۔ اس لیے اس خاموشی کو ان کی قلب ماہیت نہیں سمجھا جا سکتا۔ امن کی طرف صرف ایک بیان ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا آیا ہے کہ بھارت پاکستان سے کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا۔ لیکن یہ بیان اس وقت دیا گیا تھا جب ابھی بھارتی جیٹ طیاروں نے آزاد کشمیر میں دراندازی نہیںکی تھی۔ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس پالیسی بیان کے بعد بھی بھارت حملہ آوری سے باز نہ آیا ۔ لہٰذا اس خاموشی کے باوجود کچھ بھی بعید نہیں ۔ یہ سشما سوراج وہی ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو اس وقت مذاکرات کی میز تک پہنچنے نہیں دیا تھا جب آگرہ میں ان کے سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ مذاکرات چند منٹ میں ہونے والے تھے۔ واجپائی اس کے بعد دس دن تک غائب رہے تھے۔ اس لیے سشما سوراج کا بیان مودی اور ان کے وزراء اور بھارتی ٹی وی چینلز کی خاموشی کی وجہ نہیںہو سکتا۔ پاکستان کو مستعد رہنا ہو گا اور بین الاقوامی کمیونٹی کو بھارت کے رویے سے باخبر رکھنے کی کوششوںکو دوچند کرنا ہو گا۔ حالیہ واقعات کے بعد ساری توجہ پاک بھارت کشیدگی پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اور عالمی برادری بالعموم محض کشیدگی کو کم کرنے کی باتیں کر رہی ہے جب کہ امن ساری دنیا کی ضرورت ہے۔ کیا کشیدگی کم کرنے سے امن کی ضمانت مل سکتی ہے؟ امن کے لیے ایشوز کا طے ہونا ضروری ہونا چاہیے ۔ بھارت دہشت گردی کو ایشو قرار دیتا ہے ۔ اس پر بات کرنے کے لیے پاکستان نے عندیہ دے دیا ہے۔ بھارت پلواما واقعہ میں پاکستان کو ملوث قرار دیتا ہے ۔ قابلِ عمل معلومات فراہم کرنے پر اس حوالے سے کارروائی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ لیکن اس ساری کشیدگی کی بنیاد تنازع کشمیر ہے ۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں