Daily Mashriq

حال بد گفتنی نہیں لیکن۔۔

حال بد گفتنی نہیں لیکن۔۔

آگ اگلنے والی زبانوں پر’’نوٹووار‘‘ یعنی جنگ نہیں کے الفاظ رقص کرنے لگ گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پر بھارت کے اندر سب سے بڑا ٹرینڈ جنگ سے گریز کی پوسٹ چل رہی ہے، پشتو زبان کی ایک کہاوت ہے کہ تم نے اپنا کابلی گھونسا دیکھا ہے مگر دوسرے کا قندھاری گھونسا نہیں دیکھا، پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت میں میڈیا نے جو طوفان برپا کر رکھا تھا اور لوگوں کو انتہا پسندی پر اکساتے ہوئے پاکستان کو (خدانخواستہ) نیست ونابود کرنے کا ٹرینڈ چلایا جارہا تھا، اس کے نتیجے میں گزشتہ روز بھارتی طیاروں نے پا کستان کے علاقے میں گھس کر جو کارروائی کرتے ہوئے درختوں پر اپنے اسلحے کا زور آزمانے کی کوشش کی تھی اور جس کے بعد بھارت کے اندر انتہا پسند مزید شیر ہوگئے تھے جبکہ بھارتی حکومت کے وزیراعظم سے لیکر دیگر وزراء، بی جے پی، آر ایس ایس اور کئی دوسرے رہنما مزید آگ بھڑکا رہے تھے، اس پر پاکستان نے متنبہ کر دیا تھا کہ اب ہماری باری ہے، جگہ اور وقت کا تعین بھی ہم خود کریں گے اور پھر بدھ کے روز دن کی روشنی میں نہ صرف جوابی کارروائی کی گئی بلکہ بھارت کے دوطیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا، بھارتی ’’سورماؤں‘‘ نے تو رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کر کے بھی وہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی جو وہ چاہتے ہوں گے کہ پاکستانی فضائیہ نے انہیں آلیا تھا اور بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا جبکہ پاکستانی شاہینوں نے دن کی روشنی میں کاری ضرب لگاتے ہوئے پوری دنیا کو بتا دیا کہ ’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روبا ہی، اور بھارتی فضائیہ کا جو حشر کر کے رکھ دیا اس کے بعد بھارت کے اندر خوف وہراس کی کیفیت پیدا ہونا لازمی تھا، یوں جو زبانیں ایک دو روز پہلے آگ اگل رہی تھیں ان پر ’’رام رام رام‘‘ کا ورد جاری ہوگیا اور سوشل میڈیا پر ’’نوٹو وار‘‘ یعنی جنگ سے گریز کا ٹرینڈ وائرل ہوتا چلا گیا، خود بھارتی حکمرانوں کا عقل بھی ٹھکانے آگیا اور بھارتی وزیر خارجہ نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان سے مزید کشیدگی نہیں چاہتے، خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، تحمل سے کام لیں گے۔ اب اگر کوئی سشما سوراج سے پوچھے کہ ’’سیر کی کتنی پکتی ہیں‘‘ تو یقیناً ان کا جواب ہوگا

حال بد گفتنی نہیں، لیکن

تم نے پوچھا تو مہربانی کی

یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب بھارت میں پاکستان کیخلاف جذبات انتہا پر پہنچا دیئے گئے تھے، اس سے پہلے جب بھارت نے 6ایٹمی دھماکے کر کے خود کو ایٹمی قوت قرار دیا تو بھارت کے طول وعرض میں پاکستان مخالف جذبات انتہائی عروج پر پہنچ گئے تھے اور انتہا پسند سیاسی حلقے چیخ چیخ کر پاکستان پر حملہ کرنے اور کشمیر پر قبضہ کر کے پورے کشمیر کو بھارت کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ بنا دینے کے حوالے سے بیانات دیتے رہے، بھارتیوں کے رویئے نے بالآخر پاکستان کو بھارت کی دھمکیوں کا جواب دینے پر مجبور کر دیا تھا اور اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کی اجازت دیدی اور جیسے ہی چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بھارت کے 6دھماکوں کے مقابلے میں 7پاکستانی ایٹمی دھماکوں سے تبدیل ہوا، تو بھارتی انتہا پسندوں کی آگ اگلتی ہوئی زبانوں پر اوس پڑگئی، اس کے بعد ان کی دھمکیوں کا سلسلہ تھم کر بالکل ہی خاموش ہوگیا ۔سشما سوراج کے تازہ بیان سے ہمیں یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے۔ اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بارپھر بھارت کو پیشکش کردی ہے کہ دونوں ملک اپنے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تو بہتر ہے، ساتھ ہی انہوں نے گزشتہ روز کی کارروائی کا جواز بھی پیش کر دیا ہے کہ جوابی اقدام کرنا ہماری مجبوری بن گئی تھی اور صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ ہم انڈیا کے اندر جاکر بھی کارروائی کر سکتے ہیں، لیکن جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے، انہوں نے پہلی، دوسری جنگ عظیم، ویت نام کی جنگ اور حالیہ افغان جنگ کی مثالیں پیش کر کے کہا کہ ان کے نتائج بھی سامنے ہیں اور بالآخر مذاکرات ہی پر آنا پڑتا ہے، اس لئے اگر جنگ شروع ہوگئی تو نہ یہ مودی کے کنٹرول میں رہے گی اور نہ میرے (وزیراعظم عمران خان) کے ہاتھ میں رہے گی۔ موجودہ صورتحال نے دونوں ملکوں کے اندر متضاد کیفیات کو جنم دیا ہے، جہاں بھارت کے عوام پہلے پاکستان کیخلاف جنگ شروع کرنے پر آمادہ دکھائی دے رہے تھے وہاں اب بیانیہ تبدیل ہوچکا ہے اور پاکستانی جوابی وار سے ان کے خواب بکھر کر رہ گئے ہیں جبکہ پاکستانی قوم جو سیاسی طور پر منتشر تھی، اپنے تمام اختلافات بھلا کر ایک مٹھی ہوگئی ہے حالانکہ جنگ اب بھی پاکستانیوں کا مقصود نہیں بلکہ وہ بھارت کیساتھ مذاکرات کرکے تمام معاملات حل کرنے پر زور دے رہی ہے تاہم اگر خدانخواستہ پاکستان پر بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستانیوں کی صفوں میں یک جہتی، اتفاق، اتحاد اور استقلال کو دنیا دیکھ کر دنگ رہ جائے گی کہ ہمارے اختلافات وقتی ہیں، جن سے ہماری قومی اتفاق رائے پر کوئی آنچ نہیں آسکتی، البتہ مودی سرکار کی کسی بات پر اعتبار کر لینا حماقت ہی ہوگی، سشما سوراج نے جنگ نہ کرنے کا بیان تو دیدیا ہے مگر ہندوتوا کا سب سے بڑا فلسفہ بغل میں چھری منہ میں رام رام، ہم صدیوں سے بھگتے آرہے ہیں۔ ’’ہوشیار یار جانی کہ بھارت دیس ہے ٹھگوںکا‘‘۔ اس لئے احتیاط لازم ہے۔

متعلقہ خبریں