Daily Mashriq

بھارت کا جنگی جنون اور جواب آں غزل

بھارت کا جنگی جنون اور جواب آں غزل

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ پاکستان کی امن پسندی اور خطے کے عوام کو انہونیوں سے بچانے کی شعوری کوشش ہے۔ ان کا یہ کہنا درست ہے کہ صورتحال خراب ہوئی تو حالات پر کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے مگر تباہ کاریوں اور مسائل پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ بدھ کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی طیاروں کو گرائے جانے کے بعد وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوامی جذبات کی ترجمانی کی۔ یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں یہی پاکستان کی حکومت، مسلح افواج اور عام شہری کی سوچ ہے البتہ اگر طاقت اور عددی برتری کے زعم میں کسی پر جارحیت کا بھوت سوار ہو جائے تو اس کا جواب دینا فرض ہے۔ دو دن قبل فضائی حدود کی خلاف ورزی اور جھوٹ کی ناؤ بہاتے چلے جانے کی بھارتی فہم کو بدھ کے روز درست اور بروقت جواب مل گیا۔ اپنے دو جنگی طیاروں کی تباہی پر جو موقف بھارتی حکومت اور میڈیا نے اپنا رکھا ہے اس پر صرف ہنسا جاسکتا ہے۔ کنٹرول لائن کی زمینی وفضائی خلاف ورزیوں کے نہ رکنے والے سلسلے پر صبر وتحمل کے مظاہرے کو کمزوری سمجھنے والی بھارتی قیادت کو اب سمجھ میں آجانا چاہئے کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ قابل غور امر یہ ہے کہ خود بھارتی حزب اختلاف کی 21بڑی جماعتوں کی کانفرنس کے اعلامیہ میں بھی مودی حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اپوزیشن کی اے پی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت فوج کی قربانیوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ پاک بھارت کشیدگی اور حالیہ واقعات پر بھارتی اپوزیشن کا اپنی حکومت پر عدم اعتماد اس امر کا مظہر ہے کہ بی جے پی کی حکومت اپنی سیاسی ومعاشی پالیسیوں کی ناکامی اور بھارتی سماج کی مذہبی بنیادوں پر بے رحمی سے تقسیم کی سازشوں میں ناکامی کے بعد جنگی جنون کو ہوا دے کر مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ جنگوں کے متعلق اندازے کبھی درست ثابت نہیں ہوئے۔ پاک بھارت اعلانیہ وغیراعلانیہ جنگوں کی تباہ کاریوں کی تاریخ دونوں ملکوں کے عوام، اہل دانش اور جمہوریت پرستوں کے سامنے ہے۔ ان سے کسی مصلحت کے تحت صرف نظر بھی کر لیا جائے تو پچھلی صدی میں لڑی گئی دوعالمی جنگوں کی ہولناک تباہ کاریوں سے کیسے آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں۔پاک بھارت حالیہ کشیدگی پلوامہ واقعہ سے شروع ہوئی، بھارتی قیادت نے ابتدائی تحقیقاتی نتائج کا انتظار کئے بغیر جس طرح پاکستان پر الزام تراشی کی اس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ منصوبہ سازوں کا مقصد ہی پاکستان کو ملزم ٹھہرانا تھا۔ یہ بھارت کی بدقسمتی ہی ہے کہ عالمی برادری اور خود بھارت کے دوست سمجھے جانے والے ممالک نے بھارت کے الزامات کو اہمیت نہیں دی بلکہ بھارت کے اس اصرار کہ پلوامہ واقع میں پاکستان ملوث ہے پر ان ممالک کا جواب یہ تھا کہ ثبوت کے بغیر پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا ممکن نہیں۔ اپنے منصوبے کو ناکام ہوتے دیکھ کر بھارتی قیادت نے جنگی جنون کو پروان چڑھانے والے اقدامات کی حوصلہ افزائی شروع کردی۔ بھارت بھر میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں پاکستان دشمنی کی آڑ میں بھارتی مسلمانوں کیخلاف انسانیت دشمن مہموں کا آغاز کر بیٹھے۔ حالیہ دنوں میں بھارت نے لائن آف کنٹرول کی فضائی خلاف ورزیوں پر ایک کہانی گھڑ کر جنون کا جو بازار گرم کیا اس پر بہت سارے سوالات بھارت کے اندر سے بھی اٹھے۔ بنیادی سوال یہی تھا کہ بھارت پاکستانی علاقے میں اپنی فضائی کارروائی کے دوران جن دو تین سو سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ کر رہا ہے اس کے ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس دعویٰ کو درست کیسے مان لیا جائے۔ بدقسمتی سے مودی سرکار کی جنونی مہم میں بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی دل کھول کر حصہ ڈالا اور حقائق کو مسخ کیا اس پر ستم یہ ہے کہ بدھ کو بھارتی جنگی طیارے گرائے جانے کے واقع کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے پھلجڑیاں چھوڑی جا رہی ہیں۔

مکرر عرض ہے پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں خدانخواستہ اگر جنگ کا میدان گرم ہوتا ہے تو اس امر کی کیا گارنٹی ہے کہ جنگ روایتی ہتھیاروں تک محدود رہے گی۔ جنگ کا آغاز روایتی ہو یا حادثاتی ہر دو صورتوں میں معاملات پر کسی کا بھی کنٹرول نہیں رہے گا۔ خاکم بدہن اگر غیرروایتی ہتھیار استعمال ہوئے تو دونوں اطراف بھیانک تباہیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قابل فہم بات یہ ہے کہ دفاع کیلئے میدان جنگ میں اترنے والے ملک بھی کسی اصول کا پابند تو نہیں رہے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو بھارت کے جنگ باز منجوں کو بطور خاص سمجھنا چاہئے۔ اقتدار کے کھیل میں خطے کے امن اور شرف انسانی کو داؤ پر لگانے کی مودیانہ کوششیں قابل مذمت ہیں۔ بھارتی قیادت کو یہ امر بھی بطور خاص پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اس کی فضائی برتری اور مہارت کا پاکستانی فضائیہ نے جس طرح منہ توڑ جواب دیا ہے اس پر اطلاعاتی پروپیگنڈے سے مٹی نہیں ڈالی جاسکتی۔ باردیگر عرض ہے جنگ شروع تو کی جاسکتی ہے لیکن تباہ کاریوں اور انسان کشی کا دائرہ محدود نہیں رکھا جاسکتا نہ ہی یہ ممکن ہے کہ پھر پلک جھپکتے جنگ بند ہو جائے۔ سامری جادوگر کی کھل جا سم سم کے مصداق نہیں ہوتی جنگ۔ بہتر یہی ہے کہ بھارت جنگی جنون کو ترک کرکے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرے۔ کسی بھی معاملے میں اس کے پاس پاکستان کیخلاف ثبوت ہیں تو سامنے لائے۔ ان ثبوتوں کی بنیاد پر مذاکرات اور کارروائی ہی بہترین حل ہوگا۔

متعلقہ خبریں