Daily Mashriq

ملازمین کی حوصلہ افزائی

ملازمین کی حوصلہ افزائی

ہر سال مارچ کے پہلے جمعے کو ملازمین کی حوصلہ افزائی کا دن منایا جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ معاملات دنیا چلانے کے لیے ملازمین کی اہمیت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے دنیا بھر میں بڑے بڑے کارخانے، صنعتی ادارے، تعمیراتی کمپنیاں ، سرکاری دفاتر،مختلف قسم کے کاروبار ، سکول کالج یونیورسٹیاں غرضیکہ جس طرف دیکھیے ایک ہلچل نظر آتی ہے۔ دنیا کی رونق کام ہی کی وجہ سے ہے۔ ملازمین کی حوصلہ افزائی کا دن منانے کا خیال انہی لوگوں کے ذہن میں آیا جنہیں کام کرنے والوں کی اہمیت کا احساس ہے۔ جو یہ جانتے ہیں کہ کام کے دم قدم سے ہی کاروبار دنیا آگے بڑھ رہا ہے اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ملازمین کے حقوق کا خیال رکھا جائے جن کی وجہ سے آپ کے کارخانے، بینک، کاروبار ، اخبارات چل رہے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے اس حوالے سے جناب رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ’’ مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری ادا کرو‘‘یہی وہ فرمان ہے جس پر آج عمل کرنے کی ضرورت ہے یہی وہ حوصلہ افزائی ہے جس کی آج ہمارے ملازمین کو ضرورت ہے۔ یہ وہ پر ہیں جن کی مدد سے آجر پرواز کرتا ہے لاکھوں کروڑوں روپے کماتا ہے آپ خود سوچئیے یہ کتنی بڑی بے انصافی ہوگی اگر آجر اجیر کے حقوق کا خیال نہ رکھے۔ اسے وقت پر تنخواہ ادا نہ کرے یا اس کی ضرورت کے مطابق اجرت ادا نہ کرے ! یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہاں حوصلہ افزائی کی بات ہورہی ہے۔ بنیادی حقوق کی بات نہیں ہورہی بنیادی حقوق تو آپ نے ہر حال میں ادا کرنے ہیں اس سے بڑھ کر ملازمین کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔جب اس حوالے سے اپنے معاشرے پر نظر پڑتی ہے تو کوئی اچھی تصویر بنتی نظر نہیں آتی حوصلہ افزائی تو دور کی بات ہے یہاں ملازمین کے بنیادی حقوق کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا ان کی ضرورتوں پر کسی کی نظر نہیں پڑتی !یہی وجہ ہے کہ آئے دن احتجاج کیے جاتے ہیں دھرنے دیے جاتے ہیں ہمیں تو اس وقت بہت دکھ ہوتا ہے جب بینائی سے محروم لوگ سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ ان بیچاروں کے ساتھ ہماری پولیس کا رویہ انتہائی نامناسب ہوتا ہے۔ اس کٹھور معاشرے میں یہی حال خواتین ملازمین کا بھی ہے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کرتی ان معزز خواتین کی چادریں کھینچی جاتی ہیں انہیں زمین پر گھسیٹا جاتا ہے اس قسم کے ہنگاموں کے پیچھے عموماً یہی بات نظر آتی ہے کہ ان ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بروقت نہیں کی جاتی! اہل مغرب تو یہ دن آج منارہے ہیں لیکن نبی کریم ﷺنے تو آج سے ساڑھے چودہ سو برس پہلے ان حقوق کی افادیت و اہمیت کی بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت کردی تھی۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے معاشرہ سنورتا ہے پنپتا ہے اس کی خو بصورتی میں اضافہ ہوتا ہے !اگر آپ کسی اہم عہدے پر تعینات ہیں یا اپنا ذاتی کاروبار رکھتے ہیں تو یقینا آپ کی زیر نگرانی بہت سے ملازمین ہوں گے جن کے بنیادی حقوق کا خیال رکھنا آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ان کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی آپ کے فرائض میں شامل ہے ! اگر آپ کا ذاتی کاروبار ہے اور اس میں زیادہ منافع ہوا ہے تو اس میں یقینا آپ کے ملازمین کی محنت شامل ہے اس حوالے سے انہیں اضافی بونس دینے کا اہتمام کیجیے اس سے آپ کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں جن میں سے کچھ مادی اور کچھ روحانی ہیں۔ مادی فوائد تو یہ ہیں کہ ان کے دل میں آپ کی محبت ، قدرومنزلت بڑھتی ہے اور یہ دل لگا کر پوری محنت کے ساتھ اس طرح کام کرتے ہیں جیسے یہ کام ان کا اپنا ہو ! آپ کے ایک چھوٹے سے عمل کی وجہ سے آپ کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس قسم کے اضافی بونس آپ اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے بلکہ یہ وہی اضافی منافع ہوتا ہے جس کا کچھ حصہ آپ اپنے ملازمین میں تقسیم کردیتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا روحانی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ! اس کے علاوہ آپ کو دعائوں کی وہ نعمت حاصل ہوتی ہے جس کے لیے لوگ ترستے ہیں۔ ان دعائوں سے آپ کے رزق میں مزید برکت شامل ہوجاتی ہے۔ زندگی سہولت سے گزرتی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو بہت سی ناگہانی آفات سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ روزمرہ کا عام مشاہدہ ہے کہ جن کے دل مخلوق خدا کی محبت سے لبریز ہوتے ہیں وہ اپنے ملازمین کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں ! یہی وہ اعمال ہوتے ہیں جو آپ کی قدروقیمت میں اضافہ کرتے ہیں اپنے ماتحتوں میں آپ کی مقبولیت اور پسندیدگی بڑھتی ہے اس سے آپ کے سامنے زندگی کے مقاصد واضح ہوتے ہیںآپ زندگی کی اعلیٰ اقدار اور صحیح اصولوں کی پاسداری کرنا جانتے ہیںجس کی وجہ سے معاشرے میں آپ کا احترام بڑھتا ہے۔ لوگ آپ کی غیر موجودگی میں بھی دل کی گہرائیوں سے آپ کی تعریف کرتے ہیں آپ کے مقام اور مرتبے میں اضافہ ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں