Daily Mashriq

درمیانی عمر کی یہ عادت یاداشت کے لیے تباہ کن

درمیانی عمر کی یہ عادت یاداشت کے لیے تباہ کن

درمیانی عمر میں بہت زیادہ ٹیلیویژن دیکھنا یاداشت کی محرومی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ درمیانی عمر میں روزانہ ساڑھے 3 گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنے سے یاداشت سے محرومی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ساڑھے 3 ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بہت زیادہ ڈرامے یا رئیلٹی شوز دیکھنے سے الفاظ کو ذہن میں دوبارہ اجاگر کرنے کی صلاحیت 10 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ اپنے پسندیدہ ٹی وی پروگرامز کو دیکھنا 'ذہنی تناﺅ' کا باعث بنتی ہے جو کہ یاداشت کا محرومی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ عادت درمیانی عمر میں ذہن کو تیز رکھنے میں مدد دینے والے مشاغل جیسے مطالعہ یا دیگر سے دور کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹی وی دیکھنے کی عادت کے حوالے سے بچوں اور نوجوانوں پر کافی توجہ دی گئی ہے مگر درمیانی عمر میں اس کے اثرات پر زیادہ روشنی نہیں ڈالی گئی حالانکہ چند دہائیوں کے دوران اکثرافراد کا ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں اور یہ ممکنہ طور ڈیمینشیا کا باعث بن سکتا ہے۔

محققین نے درمیانی عمر کے افراد میں اس عادت کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے رضاکاروں سے پوچھا گیا کہ 2008 سے 2009 جبکہ 2014 سے 2015 میں انہوں نے روزانہ کتنا وقت ٹی وی کے سامنے گزارا۔

اس کے بعد ان کی یاداشت کے مختلف ٹیسٹ لیے گئے اور نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ساڑھے 3 گھنٹے سے زیادہ ٹیلیویژن دیکھنے کے عادی ہیں، ان کی لفظی یاداشت 6 برسوں کے دوران 8 سے 10 فیصد تک کم ہوگئی۔

متعلقہ خبریں