Daily Mashriq


سیاسی قائدین سے مؤدبانہ درخواست

سیاسی قائدین سے مؤدبانہ درخواست

اپریل کا دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل رہا۔ اس دن پشاور سے کراچی تک اور سوات سے لاہور تک ملک کے نصف درجن مقامات پر سیاسی جماعتوں نے بڑے بڑے اجتماعات منعقد کرتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوے کئے اور مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان سیاسی اجتماعات میں ہوئی مرکزی تقاریر کا بغورجائزہ لیا جائے تو یہ امر دو چند ہوتا ہے کہ تند و تیز تقاریر کرنے والے سیاسی قائدین کے پاس اصلاح احوال اور درپیش چیلنجوں کے حوالے سے کوئی مربوط پروگرام تو نہیں ہے البتہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مخالفین کی زور و شور سے بھد اڑا کر رائے عامہ کو گرویدہ کرسکتے ہیں اور یہی گرویدگی ان کی کامیابی کی ضمانت ہوگی۔ مسائل و مشکلات سے دو چار پاکستان کو فی الوقت کھوکھلے انتخابی نعروں اور سستی الزام تراشی سے زیادہ ایک ایسے سیاسی پروگرام کی ضرورت ہے جو حکمرانوں کی ماضی کی غلطیوں کے ازالے کے ساتھ ساتھ تعمیر نو اور ترقی کا دروازہ کھول سکے۔ بلا شبہ کرپشن ایک بری لعنت ہے لیکن کیا کرپشن واحد مسئلہ ہے اور یہ کہ صرف سیاستدان ہی کرپٹ ہیں؟ ہماری دانست میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جذبات کے منہ زور گھوڑے پر سوار قائدین سماج کو درپیش اصل اور گمبھیر نوعیت کے مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حسن اتفاق سے اتوار کے روز منعقد ہونے والے بعض جلسوں کی میزبان وہ سیاسی جماعتیں بھی تھیں جو موجودہ نظام حکومت کا حصہ ہیں۔ یہ جماعتیں جن صوبوں میں بر سر اقتدار ہیں وہاں غربت و بے روز گاری میں کمی‘ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے ‘ ہمہ قسم کی کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے‘ نچلے طبقوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے ساتھ تعلیم اور صحت کے حوالے سے کارکردگی کیا رہی یہ بذات خود سوال ہے۔ سیاسی قائدین اور ان کی جماعتیں ہر دو کا تعلق اسی سماج سے ہے یہی وہ بنیادی بات ہے جس کے تناظر میں ہم نے ہمیشہ عرض کیا کہ سیاسی رہنمائوں کو سستی الزام تراشی اور فتوئوں سے گریز کرکے ایسے سیاسی رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو سیاسی اقدار کی ترویج اور جمہوریت کے استحکام میں معاون ثابت ہوں۔ اس کا کیا کیجئے کہ ہماری ستر سالہ سیاسی تاریخ سنجیدہ سیاسی جدوجہد اور سیاسی اقتدار و شخصی احترام کے حوالے سے شاندار ہر گز نہیں۔ فریق مخالف کو یہود و ہنود کا ایجنٹ قرار دینا خود کو محافظ پاکستان و اسلام کے طور پر پیش کرنا ہی قائدین کا من پسند عمل ہے۔ اس من پسند عمل کی وجہ سے تقسیم شدہ سماج میں مزید تقسیم کا جو خطرناک رجحان پروان چڑھا اس سے پیدا ہونے والی تلخیوں اور نفرتوں کا کسی کو اندازہ نہیں یا پھر جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کیاجا رہا ہے؟ اہمیت کے حامل اس سوال پر قلبی اطمینان کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین ٹوٹے ہوئے سماج کو پھر سے جوڑنے اور تعمیر و ترقی کے سفر کا آغاز کرنے کے جذبوں کو بیدار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ شخصی محبت و انانیت کے خول سے باہر نکلیں۔ انہیں اس تلخ حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا کہ اپنے مخالفین بارے جو زبان وہ استعمال کر رہے ہیں اور جس طرح کے الزامات تواتر کے ساتھ دہراتے چلے جا رہے ہیں اس سے ملک‘ جمہوریت اور سماجی اقدار کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی بلکہ پراگندگی بڑھ رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب گمبھیر ہوتے مسائل کے ساتھ علاقائی و عالمی سطح پر تنہائی کا احساس بڑھتا جا رہا ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ میدان سیاست کے حریف سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کریں کہ کیسے سنگین تر ہوتے مسائل سے لوگوں کو نجات دلائی جائے اور کس طرح علاقائی و عالمی طور پر مسلط ہوتی تنہائی کا شافی علاج کیا جائے۔ ہمیں یہ عرض کرنے میںکوئی امر مانع نہیں کہ جملہ سیاسی رہنما اور ان کی جماعتوں میں سے کسی پر حب الوطنی کے حوالے سے حرف گیری صریحاً ناروا ہوگی۔ اپنے وطن کے مفادات کے منافی کوئی بدبخت ہی سوچ سکتا ہے۔ مناسب ہوگا کہ سیاسی قائدین کلام کرنے سے قبل ٹھنڈے دل سے غور کرلیا کریں کہ محض سیاسی برتری کے لئے مخالفین پر سستی الزام تراشی اور ان کی حب الوطنی پر حرف گیری کا فائدہ کیا اور نقصان کتنا ہوگا۔ یہ بات بھی بہر طور اہم ہے کہ اتوار 29اپریل سے سیاسی جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے لئے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے اور انتخابی فضا بناتے وقت دہنوں سے آگ کے گولے برسائے جاتے ہیں۔ بعد احترام ہم یہ درخواست کریں گے کہ وقت کے تبدیل ہونے اور نئے مسائل و چیلنجوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین عام آدمی کے حقیقی مسائل کو سامنے رکھیں اور ان کا حل پیش کرنے کے ساتھ عوام کے سامنے اپنا سیاسی و اقتصادی پروگرام رکھیں۔ فی الوقت ہر پاکستانی ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ خط غربت سے نیچے بسنے والوں کی شرح مجموعی آبادی کے نصف سے تجاوز کر چکی ہے۔ تعلیم و طبی سہولتیں جن کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے وہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ مہنگائی کا طوفان شہریوں کی زندگیاں اجیرن کئے ہوئے ہے۔ بد امنی اور ٹارگٹ کلنگ کے عذاب الگ ہیں۔ ملک بھر میں ہر سال 45لاکھ بچے پرائمری تعلیم سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ بیروزگاروں کے لشکر دندناتے پھر رہے ہیں اور سٹریٹ کرائم کو ایڈونچر کا درجہ حاصل ہوگیا۔ یہ وہ حالات اور مسائل ہیں جن کی طرف سیاسی قائدین اور مستقبل میں حکومت سازی کے خواہش مندوں کو توجہ دینا ہوگی۔ کیا ہم امید کریں کہ سیاسی میدان میں سرگرم عمل قائدین شخصی محبتوں کو عقیدت بنوانے اور مخا لفین کو قابل گردن زنی قرار دینے والی تقاریر سے اجتناب کرتے ہوئے سیدھے سبھائو اپنا سیاسی ایجنڈا عوام کے سامنے رکھ کر ان کے دل جیتیں اور ووٹ حاصل کرنے کا سیاسی انداز اپنائیں گے؟ امید واثق ہے کہ مسائل و مشکلات کو شعوری طور پر سمجھنے اور ان کا حل تجویز کرنے کی اہمیت کو مد نظر رکھا جائے گا تاکہ عدم برداشت کی جگہ سیاسی مفاہمت اور جمہوری اقدار پروان چڑھ سکیں۔

متعلقہ خبریں