Daily Mashriq


عمران خان کے گیارہ نکات

عمران خان کے گیارہ نکات

اتوار کے روز لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ بہت بڑا جلسہ تھا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر ان کی مخالف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہر قسم کے الزامات کے باوجود یہ جلسہ بہت بڑا تھا۔ اس جلسہ کے بہت بڑا جلسہ ہونے کی دو وجوہ آسانی سے شمار کی جا سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ عمران خان کو بطور وزیر اعظم ابھی تک آزمایا نہیں گیا اور انہوں نے کرپشن کے خلاف ان تھک جدوجہد کی ہے اور عوام سمجھتے ہیں کہ کرپشن اس ملک کی خرابیوں کی واحد جڑ ہے عمران خان اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دوسری یہ شمار کی جا سکتی ہے کہ عمران خان نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد آخر کار اس جلسہ میں مستقبل کے لیے پروگرام دینے کا وعدہ کیا تھا جو انہوں نے گیارہ نکات کی صورت میں دیا بھی۔ اور عین اس وقت دیا کہ عام انتخابات میں چند ہفتے رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے بھاری بھرکم عوامی جلسے عام انتخابات پر اثرا نداز ہوتے ہیں لیکن ان کا سائز عام انتخابات میں کامیابی کی ضمانت نہیںہوتا۔ البتہ ان جلسوں میں سیاسی جماعتیں عام لوگوں کی ذہن سازی کی کوشش کرتی ہیں۔ انتخابات میں کن کن وجوہ کی بنیاد پر ووٹ دیا جاتا ہے عام جلسوں میں کی جانے والی ذہن سازی اس میں کسی حد تک تو کام کرتی ہے لیکن ووٹ کے رجحان پر مکمل طور پر حاوی نہیں ہوتی۔ یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب پارٹی پروگرام تحریک کی شکل اختیار کر جائے۔عمران خان کی تحریک انصاف میں نوجوانوں کی اکثریت اس صلاحیت کی غمازی کرتی ہے کہ اگر ان کے پاس عام لوگوں کو دینے کے لیے کوئی واضح پروگرام ہو تو وہ پارٹی کو اور بھی زیادہ مقبول عوام بنا سکتے ہیں۔ عام لوگوں کو توقع ہے کہ عمران خان کرپشن کے خلاف مہم جاری رکھیں گے اور ملک کا سرمایہ ملک کے عوام کے ہی کام آئے گا لیکن وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس وہ کون سا پروگرام ہے جس پر عمل کر کے پاکستان ان کے لیے باوقار اور خوش حال ملک بن جائے گا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہی امید لاہور کے جلسہ میں لوگوں کو کھینچ لائی ۔ لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ یقینا بھاری بھر کم تھا اور عمران خان نے اسی جلسہ میں پاکستان کے عوام کو تحریک انصاف کے گیارہ نکاتی ایجنڈے سے آگاہ بھی کیا۔ لیکن یہ ایجنڈا محض اہداف پر مشتمل ہے ۔ یہ اہداف کیسے حاصل کیے جائیں گے اس طرف اشارات کم ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر عمران خان کی سیاسی جدوجہد کا ایک بنیادی نکتہ کرپشن کا خاتمہ ہے۔ یہ تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ دنیا بھر میں کرپشن کے خلاف فضا بن گئی ہے کیونکہ دنیا بھر کے سیاسی نظاموں کو ٹیکس نادہند گی اور کالے سرمائے سے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی بین الاقوامی تنظیم کالے سرمائے کے خلاف فعال ہو چکی ہے۔ حتیٰ کے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں نے بھی اکاؤنٹ ہولڈروں کے ناموں کے اخفاء کی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کردیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کرپشن کے خاتمے کے لیے عدالتی نظام اور نیب کو فعال کریں گے۔ جو آج فعال نظر آ رہے ہیں لیکن یہاں ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ عدالتوں میں گواہیاں‘ شواہد اور دستاویزات فراہم کی جائیں اور اس عمل کی راہ میں حائل ہونے والوں کے خلاف قانون تاخیری حربوں کو عبور کر کے سختی سے نافذ ہوتا ہوا نظر آئے۔ یہ صرف کرپشن کے حوالے سے نہیں بلکہ فوجداری مقدموں کے حوالے سے بھی ضروری ہے کہ ان مقدمات میں گواہوں کو تحفظ حاصل ہو۔ جھوٹی گواہی دینے والوں کو سزا دی جائے۔ مقدمہ میں جھول رکھنے والوں کی نگرانی ہو ، جو فیصلے اعلیٰ عدلیہ میں غلط ثابت ہوں ان پر باز پرس کا کوئی نظام ہو۔ محض یہ کہہ دینا کہ عدلیہ اور نیب کو مضبوط کیا جائے گا عوام الناس کے لیے کافی نہیں۔

انہوں نے انگلش میڈیم سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد بھی بتائی ہے ، سرکاری سکولوں کے طلبہ کی تعداد بھی بتائی ہے ‘ دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد بھی بتائی ہے اور شاید جن بچوں کو سکول میسر نہیں ان کی تعداد کا ذکر کرنا اس جلسے میں بھول گئے ہیں ورنہ وہ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ یکساں تعلیمی نظام رائج کریں گے۔ یکساں تعلیمی نصاب کا خواب نہایت محبوب اور خاصا پرانا ہے۔ اس پر کچھ کام بھی ہوا ہے لیکن پذیرائی کہیں نظر نہیں آئی۔ پہلے یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم ابتدائی مرحلے میں بچے کو کیا سکھانا… رٹوانا نہیں… چاہتے ہیں۔ جس بچے کو ہم میٹرک کی سند دیتے ہیں اسے ہم کسی کیا معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے سیکھنے ‘سمجھنے ‘ سوال کرنے اور بیان کرنے کی کیا مہارتیں دینا چاہتے ہیں۔ (جسے ہم 33فیصد نمبر دے کر پاس بھی کر دیتے ہیں ‘یعنی نصاب کے تیسرے حصے میںمعمولی دسترس کو کافی سمجھ لیتے ہیں) پہلے ان بنیادی سوالوںپر اتفاق رائے حاصل ہو گا تو یکساں نصاب کے بارے میں ، اساتذہ کے بارے میں اور نصاب کے انجذاب کی تشخیص کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ایسے ہسپتال بنائے جائیں گے جن میں لوگوں کا مفت علاج ہو گا۔ مفت علاج کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہیں ان کا اندازہ آج سرکاری ہسپتالوں میں رائج الوقت خرابیوں کے جائزہ سے لگایاجا سکتا ہے۔ لیکن بنیادی ضروری صحت عامہ کی طرف توجہ دینے کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کی اسی فیصد آبادی کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں ۔ ایسے بھی علاقے ہیں جہاںمویشی اور انسان ایک ہی جوہڑسے پانی پیتے ہیں۔ نہروںمیں انسانی فضلہ ‘ صنعتی فضلہ اور پلاسٹک بیگز بہا دیے جاتے ہیں جس سے زراعت اور زرعی پیداوار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ شہروں میں نکاسی اور پینے کے پانی کی نالیاں پھٹ کر آپس میں مل گئی ہیں اور صحت عامہ کے مسائل پیدا کر رہی ہیں پہلے اس طرف توجہ ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں