Daily Mashriq

کوہستان،جدید دنیا سے کٹا ہوا علاقہ

کوہستان،جدید دنیا سے کٹا ہوا علاقہ

1942ء میں ارل سٹین نے لکھا تھا ـ’’ کوہستان ویلی کی گہری وادیاں ،تنگ گھاٹیاں اور دشوارگزار راستوں کی وجہ سے اس علاقے پر قبضہ کرنا اور اس میں رہنا تقریباً ناممکن ہے‘‘۔ کوہستان ویلی کے یہ دشوار گزار راستے اب قراقرم ہائی وے کے اس سیکشن کا حصہ ہے جو بشام سے گلگت کو ملاتا ہے۔قراقرم ہائی وے کا یہ حصہ خوبصورت وادیوں سے ہو کر گزرتا ہے جس کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ بھی بہتا رہتا ہے۔ گلگت۔بلتستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر گلگت سے بشام تک جانے والی مذکورہ ہائی وے 350 کلو میٹرز طویل ہے جس میں سے 170 کلومیٹر طویل حصہ کوہستان سے ہو کر گزرتا ہے ۔ کوہستان سے گرزنے والا یہ حصہ دشوار گزار ہونے کے علاوہ تنگ بھی ہے جس کا ذکر ارل سٹین نے 1941ء میں اس علاقے کا دورہ کرنے کے بعدکیا تھا ۔ ارل سٹین جب ان علاقوں میں سفر کررہا تھا تو اس وقت اس علاقے میں کوئی باقاعدہ سڑک یا راستہ موجود نہیں تھا۔ دودہائیوں کے طویل عرصے میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر ممکن ہو سکی تھی اور 1979ء میں اس ہائی وے کاافتتاح کیا گیا تھا۔ اس سڑک پر سفر کرنا انتہائی خوفنا ک ہونے کے ساتھ ساتھ تھکا دینے والا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوہستان سے گزرتے ہوئے ہم اس کی خوبصو رتی کومکمل طور پر نہیں دیکھ سکتے اور اسی وجہ سے اس وادی کی آبادی کم ہے۔
ایک وقت ایسا بھی تھا جب اس وادی پر قبا ئلی سرداروں کی حکومت تھی اور اس پورے علاقے کو ’’ یاغستان‘‘ کہا جاتا تھا جس کا مطلب ہے ایک ایسا علاقہ جہاں پرکوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔کوہستان اس داردک علاقے سے الگ رہا جہاں پرافغانستان اور کشمیر سے آنے والے حملہ آورحملے کرتے رہتے تھے۔ اس علاقے کی اکثریت گوجرہ باشندوں پر مشتمل ہے جبکہ چند پشتون اکثریت والے گائوں بھی ان علاقوں میں ملتے ہیں ۔شینا شمالی کوہستان کی وادیوں اور دیہاتوں میں بولی جاتی ہے جبکہ کوہستانی زبانی وادی کنڈیا سمیت کوہستان کے مغربی علاقوں میں بولی جانے والی زبان ہے۔جہاں تک کوہستان کی ثقافت اور تاریخ کی بات کی جائے تو اس حوالے سے ہمیں کوہستانی زبان پر چھپنے والے چند مقالوں اور سروے کے علاوہ زیادہ مواد نہیں ملتا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر حصوں کے لئے کوہستان ایک مہر بندعلاقہ ہے ۔اس علاقے میں بہنے والا دریا ئے سندھ اور اس کی حسین گھاٹیاں اور وادیاں خیبر پختونخواکو گلگت۔بلتستان سے جُدا کرتی ہیں۔ کوہستان کی سرسبز اور خوبصورت ترین وادیوں میں دوبر، پٹن، کمیلا، سیو، کنڈیا، کولائی، داسو، سمر، سازن، جل کوٹ، سپت اور ہربن شامل ہیں۔ کنڈیا اور دوبر کی وادیاں سوات کے پُرفضا کلام اور بحرین سے ملتی ہیں جبکہ کنڈیا غذر کے علاقے یاسن اور وادیِ ٹینگر کی سرحد گلگت۔بلتستان سے جا کرملتی ہے۔ یہ تمام وادیاں سیاحوں کی جنت بن سکتی ہیں لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ان تنگ گھاٹیوں اور وادیوں تک پہنچنے کے دشوارگزار راستے ہیں۔ کوہستان خیبرپختو نخواکا وہ ضلع ہے جوصوبائی اور وفاقی حکومتوں اور سرکاری اور غیر سرکاری ترقیاتی اداروں کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔
دوسری جانب میڈیا بھی اس علاقے کی کوریج میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا اور اس علاقے کے بارے میں آنے والی اکثر خبریں منفی ہوتی ہیں ۔خاص طور پر کوہستان کے وڈیو سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد اس منفی تاثر میں مزید اضافہ ہوا ہے۔مختلف حکومتوں کی جانب سے اس علاقے کو مقامی ناخونداہ مَلکوں اور سرداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو یاغستان کے دور کے قوانین پر آج کے جدید دور میں بھی عمل درآمد کروانے پر مصر نظر آتے ہیں۔ریاستِ پاکستان کی اس علاقے کو مرکزی دھارے میںشامل کرنے کی ناکامی کی وجہ سے یہ علاقہ کسی بھی سماجی و ثقافتی تبدیلی سے محروم نظر آتا ہے۔اگر تعلیم کی بات کی جائے تو یہ ضلع پاکستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ہے جس کی وجہ یہاں کی فرسودہ رسوم وروایات کو قراردیا جاتاہے۔حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لڑکیوں کے 39 سکولوں سمیت ضلع کوہستان کے 42 پرائمری سکول اس وقت غیر فعال ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ان سکولوں میں تعینات اساتذہ اپنے فرائض انجام نہیں دیتے کیونکہ اساتذہ کی زیادہ تر بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ الف اعلان کی جانب سے2013-18 ء کے عرصے میں خیبرپختونخوا کی تعلیم پر شائع کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق کوہستان صوبائی درجہ بندی میں آخری ضلع ہے جبکہ قومی درجہ بندی میں اس کا نمبر 141 واں ہے۔ ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس میں بھی کوہستان کی کارکردگی انتہائی خراب ہے۔ دوسری جانب حکومتِ خیبر پختونخوانے اس علاقے کی بہتری کے لئے صرف 800,000 نفوس کی آبادی کے باوجود اس علاقے کو انتظامی بنیادوں پر تین اضلاع ، لوئر کوہستان، اپر کوہستان اور کولائی پلاس میں تقسیم کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک احسن اقدام ہے لیکن کئی دہائیوں سے نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے اس علاقے کی پسماندگی ، جہالت، غربت اور بے روزگاری کو ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات اور ترقیاتی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ جدید دنیا سے کٹا ہوا یہ علاقہ بھی مرکزی دھارے میں شامل ہوسکے ۔
(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ