بے کنار دریا

بے کنار دریا

پاکستان میں انتخابات کی گہما گمی نہیں ہوتی بلکہ افراتفری ہوا کرتی ہے، عوام یہ افراتفری خاص طور پر 1970ء کے انتخاب سے دیکھتے آرہے ہیں۔ ان انتخابات میں عوام کی رائے کا احترام نہ کرنے کا نتیجہ کیا نکلا، اس کا درد اب تک پاکستانیوں کے دلوں میں کانٹا بن کر ایسا پھنسا ہے جو کبھی نہیں نکل سکتا، اس کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے اس میں ایک ہی طرز کی بات نظر آئی کہ عوامی مینڈیٹ کو مختلف حیلے بہانے سے روندا گیا ہے، آج پاکستان جس نہج پر پہنچا ہے یہ اسی مینڈیٹ کو عزت نہ دینے کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں میں ایک ہی بات دیکھنے میںآئی ہے کہ ان سب کو اقتدار کا ہوکا ہے جس کے حصول کیلئے نہ صرف چلبلاتے بلبلاتے ہیں بلکہ ہر نہ کرنے والا عمل بھی کر جاتے ہیں حتیٰ کہ غیر جمہوری قوتوں کیساتھ ساز باز کرتے ہیں جس میں نہ تو قومی مفادات کا اور نہ ملک کے استحکام کا احترام کرتے ہیں۔سیاست اور دین کے نام پر نئے فتنے پیدا ہو گئے ہیں اس خطرناک رجحان کے باوجود انتظامی مشینری کو دانستہ یا نادانستہ مفلوج کیا جارہا ہے جس کے مستقبل پر انتہائی برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ایسے فتنوں میں سے ایک فتنے نے فیصل آباد میںمذہب کی آڑ میں جنم لیا ہے جس کے بانی نے اپنے افکار میں ایسی باتیں کی ہیں کہ وہ کفر سے بھی بڑھ کر ہیں ایسے میں ایک مرد مجاہد علامہ مبشر رضا قادری اٹھ کھڑ ے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس کفرکو علمی بنیاد پر للکارا ہے لیکن کوئی ادارہ اس جانب متوجہ نہیں ہے اور نہ کوئی ازخود اس اہم ترین مسئلے کا نوٹس لے رہا ہے۔اس کیساتھ ایک اور فتنہ بھی ابھرا ہے جو خود کو سیاسی جدوجہد سے وابستہ قرار دے رہا ہے لیکن اب تک جو خدوخال اس فتنے کے اُبھرے ہیں اس سے یہ یقین ہوتا جا رہا ہے کہ پا کستان میں ایک اور بنگلہ دیش کو جنم دینے کی مساعی ہے اور وہ ہے پشتون تحفظ تحریک، جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک تحریک نے پر نکالے تھے جس نے اپنی شناخت مہاجر قومی موومنٹ سے کرائی تھی تاہم وہ اب جس شکل میں ہے ایسا لگتا ہے کہ اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔پاکستان کو اس وقت ہر محاذ پر یکجہتی کی ضرورت ہے چاہے وہ سیاسی، دفاعی یا معاشی ہے۔ پشتون تحفظ تحریک کے جنم نے ماضی کی تحریک پختونستان کی یاد دلا دی ہے، پختونستان یا پستونستان ہم معنی لفظ ہیں۔ پختونستان کی تحریک کے دو رنگ تھے ایک پاکستان کے اندر تھا اور یہ یہاں سیاسی انداز اختیار کئے ہوئے تھے اس تحریک کے سرپرست باچا خان اور ان کی جماعت تھی جس کا موقف تھا کہ وہ صوبائی خودمختاری چا ہتے ہیں کیونکہ وسائل پر پنجاب قابض ہے، اگرچہ صوبائی خودمختاری کوئی غلط مطالبہ نہیں تھا مگر اس کے حصول کیلئے ملک کے ایک صوبے کیخلاف نفرت کو اُبھارنے کے عمل کو درست قرار نہیںدیا جا سکتا تھا، بہرحال باچا خان اور ان کے پیروکاروں کا یہ مطالبہ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد سے سرد تر ہو گیا۔ علاوہ ازیں آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اے این پی کا مطالبہ بھی پورا ہو گیا اور اس ترمیم کے ذریعے سیاسی حل تلاش کر لیا گیا جو بہت ہی خوش آئند ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے وہ پاکستان کے وجود میں آنے سے ہنوز پاکستان کیخلاف روبہ عمل ہے اور اس سلسلے میں بھارت اور دوسری قوتوں کا آلہ کار بھی بنا رہا ہے اور اب بھی ایسا ہی کردار ادا کر رہا ہے۔ 47ء میں افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مخالفت کی اور اسی سال پاکستان سے قبائلی علاقوں سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔ ڈیورنڈلائن کا مسئلہ کھڑا کر نے کی سعی کی، پاکستان کو اقوام متحدہ کا رکن بننے کی قرارداد کیخلاف افغانستان واحد ملک تھا جس نے ووٹ دیا جبکہ بھارت اور روس نے حمایت میں ووٹ دیا تھا اسی سال پرنس عبدالکریم بلوچ کی قیادت میں پاکستان کیخلاف دہشتگردی کا تربیتی کیمپ قائم کیا۔ 49ء میں لویہ جرگہ کا ڈھونگ رچا کر پاکستان کے وجود سے انکار کیا گیا، اسی سال ایک افغان مرزا علی خان کے ذریعے پاکستان میں تخریبی کارروائیاں شروع کیں، اسی سال چمن پر اپنی ملیشیا اور فورسز کیساتھ حملہ کیا، 50ء میں بھارت کیساتھ ایک نکاتی معاہدہ کیا جس کا مقصد پاکستان کا گھیراؤ کرنا تھا۔ پاکستان کی سرحد پر کھمبے گاڑھ کر ان پر لا ؤڈ اسپیکر نصب کر کے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی جاتی تھی، 60ء میں شیر محمد مری کی پاکستان کیخلاف تحریک میں مدد کی، 80ء میں دہشتگرد تنظیم الذوالفقار کے تربیتی کیمپ قائم کئے، مطلب یہ ہے کہ اب تک افغانستان کی حکومت پاکستان کیخلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور ملا فضل اللہ کو بھی پناہ دے رکھی ہے جو مبینہ طور پر پاکستان میں دہشتگردی میں پوری طرح ملوث ہے، اگر کوئی یہ نشاندہی کرتا ہے کہ منظور پشتین کو افغانستان جیسی قوت کی سرپرستی حاصل ہے تو اس کو یک لخت رد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ منظور پشتین کی تحریک پاکستان کیخلاف اسی طرح کی نفرت کو جنم دینے کی سعی کر رہی ہے جیسا کہ مشرقی پاکستان میں پاکستان کیخلاف کیا گیا اور وہاں بھارت کا مفاد تھا یہاں افغانستان کوفائدہ مل رہا ہے۔ پشاور میں منظور پشتین نے جو جلسہ کیا اس کے بارے میں اطلاع ہے کہ اس پر پندرہ لاکھ سے بیس لاکھ کا خرچہ اُٹھایا، اس تحریک کے پاس اتنا فنڈ ہے کہ وہ لاکھوں خرچ کر کے جگہ جگہ جلسے کر رہی ہے، صاف ظاہر ہے کہ کوئی تو ہے جو اس تنظیم کا خرچہ چلا رہا ہے۔ ان حالات کا ادراک نہ صرف پاکستان کے سیاستدانوں کو کرنا چاہئے بلکہ دیگر قوتوں کو بھی ادراک ہونا چاہے۔ کہیں یہ بے کنار دریا طوفان نہ بن جائے۔

اداریہ