Daily Mashriq

نئے وعدوں کے ہنگام پرانے وعدوں کی تلخ یادیں

نئے وعدوں کے ہنگام پرانے وعدوں کی تلخ یادیں

اتوار کے روز سیاسی جماعتوں کے جلسوں جلوسوں کی بہار آئی ہوئی تھی ۔ اگرچہ آنے والے انتخابات کے حوالے سے انتخابی مہم کا آغاز سینیٹ کے انتخابی معرکے ہی سے ہو چکا تھا تاہم اس کے بعد یہ سلسلہ زور پکڑتے ہوئے بالآخر اتوار کے روز سے باقاعدہ مہم میں ڈھل گیا ۔ لاہور ، کراچی ، مردان ، صوابی اور دیگر شہروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایک بار پھر عوام کے ساتھ رابطہ مہم بڑھانے کیلئے بڑے چھوٹے جلسوں کی بناء رکھی ، کچھ نے پرانے وعدے ’’نئی بوتلوں ‘‘ میں ڈال کر برانڈ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو کہیں نئے نعرے بھی وعدوں کی صورت قابل فروخت بنائے ہوتے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما جہاں اب کراچی کو نیویارک اور پشاور کو لاہور بنانے کے وعدوں کی پٹاری اٹھائے دکھائی دے رہے ہیں ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ گزشتہ کئی برس سے سی پیک کے منصوبے میں صریح دھوکہ دہی سے ان کی حالت اس نوجوان کی سی ہو چکی ہے جو بکریاں چراتے ہوئے دو روز تک شیر آیا شیر آیا کے فلک شگاف نعرے لگا کر گائوں والوں کا تمسخر اڑاتا رہا مگر جب واقعی شیر آیا (یہ لیگی شیر نہیں تھا ) تو کوئی اس کی مدد کو نہیں آیا ، اس لئے اب کے پی کے عوام ان کے کسی وعدے پر کیونکر اعتبار کر سکتے ہیں ، رہ گئے سندھ کے عوام تو ان کو کب سے روٹی کپڑا اور مکان کے نعروں اور وعدوں پر ٹر خانے والے موجودہیں اور وہ بے چارے وہاں کے وڈیروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ان کی غلامی کا طوق اتارنے کی ہمت نہیں رکھتے ، اب وہاں کراچی کے عوام کو ٹارگٹ کلرز کی مصیبت سے چھٹکارہ دلانے کے وعدے بھی ہونے لگے ہیں ۔ ان حالات پر پروفیسر طہٰ خان نے کیا خوبصورت تبصرہ کیا تھا ۔
قوم کا لیڈر گھر آئے تو اس کو سر پر بٹھانا
عزت والا شہری ہے تو عزت کرنا چائے پلانا
ووٹ اگر مانگے وہ لیڈ اس کی باتوں میں مت آنا
اگلے وعدوں پر مت جانا پچھلے وعدے یا ددلانا
دعوئوں اور نئے وعدوں کے ہنگام عوام اگر آزمودہ سیاستدانوں کے بارے میں سوچیں تو عوام کو کہیں روٹی کپڑا اور مکان ، کہیں لوڈ شیڈنگ سے نجات، ووٹ کو عزت اور کہیں دیگر وعدوں پر غور کریں تو انہیں استعاروں کی صورت میں کہیں سرے محل ، کہیں جاتی عمرہ ، کہیں بنی گالہ ، اور کہیں ایون فیلڈ کی جائیدادیں تو کہیں سوئٹزر لینڈ میں چھپائی گئی بے پناہ دولت کے انبار ، اور کہیں آف شو ر کمپنیوں کے شور اقاموں کا تڑکہ بھی دکھائی دے گا ۔ اس لئے جب تک ان استعماراتی طرز کے قارونی خزانوں پر سانپ بن کر بیٹھنے والے خود عوام کی سطح پر نیچے اتر کر انہی کی طرز زندگی گزارنے پر تیار نہیں ہوں گے ان کی کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔ اس صورتحال پر ہمارے ایک کرمفرما امتیاز الحق امتیاز نے اپنی تازہ نظم میں کیا خوب تبصرہ کیا ہے ۔ نظم کا عنوان ہے ’’ایسا کہاں سے لائیں ‘‘ ملاخطہ کیجئے !
ہمیں چاہیئے راہبر ایک ایسا
غریبوں کے دکھ جو سمجھتا ہو
جس کی سکونت ہو
ان بستیوں میں
جہاں زندگی رینگتی ہے
جہاں سانس لینا بھی اک معجزہ ہے
جہاں روشنی کا گزر ہی نہیں ہے
جہاں کے چراغوں کی لو ہے مقید
کسی جاتی امرا کے خانے کے اندر
کسی خان کے تیس ایکڑ پہ پھیلے ہوئے
آستانے کے اندر
کسی لاڑ کانے کے اندر
یہ ہم جی رہے ہیں
ابھی کس زمانے کے اندر
ہمیں چاہیئے راہبر ایک ایسا
کہ جس کی رگوں میں فقیری رواں ہو
مگر ایسا کوئی کہا ں ہو
ایک مشہور اینکر آفتاب اقبا ل نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی ہے جو یوں ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم ہائوس کا رقبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا زیادہ ہے ، لاہور کا گورنر ہائوس پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے ، اور اب ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے یہ ہے ووٹ کو عزت ، اس پوسٹ کا مطلب یہ ہے کہ اگر قیام پاکستان کے ساتھ ہی ان وسیع عمارات کو یونیورسٹیوں لائبریریوں وغیرہ میں تبدیل کر دیا جاتا تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی ، ہمیں یاد ہے کہ ایم ایم اے کے اقتدار میں آنے سے پہلے کے پی کے گورنر ہائوس کو خواتین یونیورسٹی میں تبدیل کرنے جبکہ تحریک انصاف والوں نے موجودہ وزیراعلیٰ ہائوس کو پبلک لائبریری کی شکل دینے کے وعدے کئے تھے مگر دونوں ان بھاری پتھروں کو صرف چوم کر رہ گئے ۔ اور اب جو تازہ بجٹ پیش کیا گیا ہے اس پر ناصر بشیر نے جو تبصرہ کیا ہے اس کی روشنی میں جو نئے وعدے کئے جارہے ہیں ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے کہ
پسند کرتے ہو تم کھیل مال و زر کا
بجٹ بناکر دکھائو ذرا میرے گھر کا
کہاں سے بچوں کو میں پیٹ بھر کھلائوں گا
بتائو کیسے اپنا بجٹ بنائو گا ؟ ۔

اداریہ