Daily Mashriq


یوم مزدور

یوم مزدور

یہ بھی مقام غنیمت ہے کہ ہم لیبر ڈے منالیتے ہیںبھلے سے ہی مغرب کے تتبع میں مناتے ہوں جیسے ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں یا اپریل فول کے موقع پر خود کو اور دوسروں کو فول بناتے ہیں۔اسی طرح یہ دن بھی ان بہت سارے دنوں کی طرح جیسے تیسے منا ہی لیا جاتاہے ۔اس دن ٹی وی پر یہ الفاظ ہر خبر نامے میں دہرائے جاتے ہیں کہ ’’آج پورے ملک میں یوم مزدور پورے جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا‘‘۔ اگلے دن کا اخبار بھی انہی الفاظ کی جگالی کردیتا ہے ۔ یہ بات ہے بھی بڑی معقول ،کیوں کہ ہم ’’جوش‘‘اور ’’جذبے‘‘کے معاملے میں تو خود کفیل ہیں ہی۔اور ’’منانے‘‘ میں تو ہمارا کوئی ثانی ہی نہیں جیسے ہم مختلف قسم کی چھٹیاں مناتے ہیں اسی طر ح ہم یہ دن بھی منالیتے ہیں۔اللہ کے فضل و کرم ،حکومت کی مہربانی سے ایک اور چھٹی کا دن ہمیں میسر جو آجاتاہے۔یہ الگ بات کہ جن کا دن منایاجاتا ہے وہ خود اس دن کوچھٹی کرکے منا نہیں پاتے ۔میں نے بہت سی یکم مئیوںکو لیبر ڈے کے موقع پرمزدوروں کو گھنٹہ گھر کے نیچے سڑک پر،سپین جماعت کے فٹ پاتھ پر بیٹھادیکھا ہے اور ان مقامات پر کہ جہاں لوگ مزدور کی تلاش میں آتے ہیں اور مزدور مزدوری کی تلاش میں ۔کسی کے ہاتھ میں رنگ کی برشیں تو کسی کے ہاتھ کدال اور بیلچے۔مگر سب کے ماتھے پر ایک ہی سوال کہ جس سوال کا جواب ہم آزادی سے اب تک تو تلاش نہیں کرپائے ،نئے پاکستان کا نعرہ تو بہت لگا مگر وہ نیا پاکستان ابھی دکھائی نہیں دیا ۔شایدنیا پاکستان بنانے والوں کے پاس سوال کا کوئی جواب ہو کیونکہ ’’پرانے پاکستان‘‘ کے پاس تو اس سوال کا جواب نہیں ہے۔وہ سوال یہ ہے کہ

تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

مسئلہ تو یہ ہے کہ مزدور بیچارہ ہمارے سماج میں کسی شمار قطار میں نہیں ہے۔یہاںتو مڈل کلاس ہی کھینچ کھینچ کر اور تان تان کر گزارا کرتی ہے ۔ کبھی جیتی ہے تو کبھی مرتی ہے۔مزدور کو تو سماج میں شاید انسان ہی نہیں سمجھا گیا۔اس کا جسم کسی کو گوشت پوست کا نہیں لگتا۔ہمارے سماج میں تو یہ سمجھا جاتاہے کہ جیسے مزدور کو گرمی سردی نہیں لگتی ۔گھنٹوں اس سے کام لیاجاسکتاہے۔سات آٹھ سوروپے دیہاڑی کمانے والے مزدور کو اگر پورا مہینہ مزدوری مل بھی جائے تو اور وہ اپنی ہڈیوں کا کچومر نکال کراور اپنے پسینے کو بیچ کر بھی پورے مہینے کی اجرت حاصل کربھی لے تو ایک اچھی زندگی نہیں گزارسکتا۔اتنے پیسوں کا تو سرکاری افسر پٹرول خرچ کردیتے ہیں ۔ اتنے پیسوں کے خوانین ،وڈیرے، چوہدری،لغاری ،ملک،ٹوانے وغیرہ وغیرہ اپنے کتوں کو راتب کھلادیتے ہیں۔مزدور ہونا کوئی گالی نہیںہے مگر ہمارے سماج میں اس سے بڑی گالی کوئی نہیںہے۔مہذب معاشرے کی محنت کی عظمت ملاحظہ کیجئے کہ ایک بندہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ہمارے ہاں تو محنت کی عظمت صرف دوسری تیسری کلاس کی درسی کتابوں میں ہی نظر آتی ہے ۔کاش کہ کوئی مشین ایسی ایجاد ہوجائے جو کتابی باتوں کوسماج میں نافذالعمل کرواسکے۔

ہم امیدکو حاصل کرنے کے لیے کوشش تو کرنہیں سکتے لیکن مفاد پرستوں کی باتوں میں آجاتے ہیں کہ چلو یہ شخص جو کہہ رہا ہے کرہی دے گا۔مزدور بے چارے کی تو سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کا روزگار لگا رہے ،کیونکہ روزگار لگنے کا مطلب ہے کہ اس کے گھر کا چولہا جلتا رہے ،اس کے بچوں کو رزق ملتا رہے۔اس کی زندگی اسی تک محدود ہے۔وہ تورات اس امید پر گزارتا ہے کہ کل کادن اسے مزدوری دے گا اور دن کی مشقت اس لیے برداشت کرتا ہے کہ رات اسے سکون دے گی۔’’دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے ۔اے رات مجھے ماں کی طرح گودد میں لے لے‘‘ہم استحصال کی بات بہت کرتے ہیںاور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے جیسے بے انصاف معاشرے میں مختلف طبقوں کا استحصال ہوتا ہے لیکن ہمیشہ استحصال اسی کا ہوتاہے جو کمزور ہوتا ہے۔چاہے وہ عورت ہویابچہ ہویا کوئی ایسا طبقہ کہ اپنا حق حاصل نہ کرسکتا ہو۔میرے خیال میںمزدور ہمارے ہاں سب سے کمزور طبقہ ہے اسی لیے سب سے زیادہ استحصال اسی کاہوتا ہے۔بڑے بڑے شہروں کی بڑی بڑی دکانوں کے شوروموں میںسجے مہنگے مہنگے سوٹ بنانے والے ان ہاتھوں کو کوئی نہیں جانتاکہ جن ہاتھوں نے ہفتوں کی محنت سے اس سوٹ کو بنایا ہوتا ہے اور اجرت میں فاقے اور مایوسیاں کمائی ہوتی ہیں۔

آج بھی اس کی ساری خوشبومِل مالک لے جاتا ہے

میں لوہے کی ناف سے پیدا جوکستوری کرتاہوں

بھٹہ خشت پر کام کرنے والے مزدوروں کی کہانیاں بھی ہم نے سن رکھی ہیں کہ جہاں نسل در نسل مزدوروں کو غلام بنائے رکھ کران سے بیگار لیا جاتاہے۔ ہمارے ہاں لیبر یونینوں کاحال بھی بڑا عجیب ہے ۔وہ لیبر یونین جو مزدور کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائی جاتی ہیں وہ خود اس کے لیڈروں کے تحفظ کا سبب بن جاتی ہیں یا پھر کارخانے کی بندش کا سبب بن جاتی ہیں ہمارے صوبے میں اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔پھر مزدور کا کون پوچھے ۔ہم تو یہی دعا کرسکتے ہیں کہ خدا مزدور کے ہاتھ اور حوصلہ سلامت رکھے کہ اس کے ہاتھوں کے ہنر اور اس کے حوصلے نے اس کے گھر کے چولہے کو بھی جلانا ہے اور قوم کی معیشت کو انہی ہاتھوں نے چلانا ہے۔

متعلقہ خبریں