Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

بغدادکی خلافت بنی عباس کا زوال شروع ہوا تو اسلامی سلطنت کے وسیع وعریض علاقوں میں خود مختارحکومتیں تشکیل پانے لگیں ۔ سمر قند و بخارا اور قفقاز کے علاقوں میں بھی خلافت بغداد کے زوال کے ساتھ خود مختار حکومتیں قائم ہوگئیں ۔ سب سے پہلی خود مختارحکومت سامانی خاندان نے قائم کی ، جس کی شان و شوکت کا ڈنکا 877ء سے 1004ء تک بجتا رہا ۔ سامانی بادشاہوں میں اسماعیل سب سے پہلا بادشاہ تھا ۔ اسماعیل کے دور میں عمر و بن لیث نے جو ایران میںحکومت پر قابض ہوچکا تھا ، اسماعیل کے خلاف مہم جوئی کی ، لیکن شکست کھا کر قید ہوا۔ تاریخ کی کتابوں میں اس کے متعلق ایک سبق آموز حکایت لکھی گئی ہے کہ اسیری کی پہلی رات تھی اور وہ اپنے خیمہ (جہاں وہ قید تھا ) کے سامنے پہرے دار کو اس کے لئے کھانا تیار کرتے دیکھ رہا تھا ، کھانے اور پکانے کے لئے صرف ایک ہی برتن تھا ، یعنی بالٹی جس سے بوقت ضرورت گھوڑوں کو بھی پانی پلایا جاتا تھا ۔ جب کھانا تیار ہوچکا تو ایک کتا آیا اور اس میں منہ ڈال دیا ، لیکن سر باہر نہ نکال سکا اور برتن بمع کھانالے کر بھاگا ۔ عمر و یہ واقعہ دیکھ کر ہنسا ۔ محافظ نے پوچھا کہ قید میں بھی اس طرح ہنسنے کا یہ کونسا موقع ہے ؟ تو عمرو نے کہا کہ آج صبح جب میں آزاد تھا تو میرے غلام نے شکایت کی تھی کہ باورچی خانے کے برتن اٹھانے کے لئے تین سو اونٹ ناکافی ہیں اور آج رات صرف ایک کتا میرا برتن اور کھانا دونوں لے کر جارہاہے ۔
(بحوالہ ’’سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک‘‘)
مولانا عبدالشکور دین پوریؒ فرماتے ہیں : مولانا عبیداللہ سندھی ؒ 25سال جلاوطن رہے مگر انگریز کے ہاتھ نہ آئے لکھا ہے کہ افغانستان میں کہیں جارہے تھے توسڑک پر تین شیر کھڑے تھے ۔ شیر غرانے لگے ۔ کچھ ڈر محسوس کیا ، پھر ان کو کانوں سے پکڑ کر فرمایا: اوشیرو! میں اسلام کے مشن کے لیے آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں اور تم انگریز کتے کی طرح میرا راستہ روک کر کھڑے ہو ۔ہٹ جائو ،محمد ؐ کے غلام کوجانے دو ۔ اتنا کہنا تھا کہ شیر گدھے کی طرح راستے سے ہٹ گئے ۔
(سلف صالحین کے حیرت انگیز واقعات)
ایک شخص نے حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عقد نکاح کی حقیقت پوچھی ۔ حضرت علیؓ نے فوراً یہ جواب دیا کہ شادی کی حقیقت یہ ہے کہ ـ: اپنے اوپر مہر کا لازم کرلینا جو پہلے لازم نہ تھا ۔ اس کے چند دن کی خوشی حاصل کرنا۔اس کے بعد پیٹھ کا ٹوٹ جانا ، یعنی دبلا اور کمزور ہوجانا ۔ اس کے بعدہمیشہ کے لیے پریشان ہونا ، یعنی بیوی بچوں کے کھانے پینے ، کپڑوں وغیرہ کے انتظامات کا بھاری بوجھ اٹھانے میں مبتلا ہوجانا ۔ اس کے بعد قبر کے اندر جانا ۔ اس کے بعد حشر میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ۔ اس کے بعد جنت یا جہنم میں سے کسی ایک میں داخل ہوجانا ۔ دیکھئے ! حضرت علی ؓ نے اس مختصر سی عبارت میں انسان کی کل زندگی اور کل انجام کی حقیقت کیسے حسن اسلوب سے من وعن بیان کردی ، جو بالکل حقیقت ہے ۔ وہ شخص یہ جملہ سن کر نہایت متاثر ہوا ۔

اداریہ