Daily Mashriq

جو بھی ہو متفقہ ہو

جو بھی ہو متفقہ ہو

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مکمل معلومات کی روشنی میں جو مدلل پریس کانفرنس کی وہ صرف پاک فوج کے ترجمان کا بیانیہ نہیں بلکہ وطن عزیز اور قوم کا بیانیہ ہے اس صورتحال پر صرف فوج ہی کو تشویش نہیں بلکہ پوری قوم مشوش ہے اس کے باوجود کیا ہی اچھا ہوتا کہ وفاقی وزیر داخلہ ان سارے حقائق کو سامنے لاتا تاکہ اس معاملے کی فریق ریاست اور حکومت ٹھیرتی اور مخالفین کو بیان بازی کا موقع نہ ملتا بہرحال جس مصلحت کے تحت بھی یہ اہم پریس کانفرنس ہوئی سوال یہ نہیں کہ ناطق کون تھا سوال یہ ہے کہ کیا حقائق سامنے لائے گئے اور قبائلی اضلاع میں قبائلی عوام کو ایک بار پھرورغلا کر قبائلی اضلاع کو خدانخواستہ ایک نئی کشیدگی کا شکار بنانے کے پس پردہ اصل چہرے کون ہیں اور کن کے ذریعے یہ کام ہو رہا ہے ان کے ڈور یں کہاں سے ہلائی جارہی ہیں بظاہر کیا موقف سامنے لایا جارہا ہے اور بباطن کیا کچھ چل رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرکی پریس کانفرنس میں ساری حقیقت سامنے لائی گئی جس کے بعد اس گروہ کے حوالے سے تذبذب کا شکار افراد کو حقیقت حال سے بخوبی آگاہی ملنے کے بعد اذہان وقلوب سے شکوک کا بوجھ اتر گیا ہوگا۔ قبائلی اضلاع میں عوام کیلئے قابل قبول اور دلکش نعروں کی حقیقت اب کھل چکی ہے جس کا سوائے اس کے کوئی اور مقصد شاید نہ تھا کہ سادہ لوح قبائلی عوام کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کی جائے۔دیکھا جائے تو ان کا اور تحریک طالبان کے طریقہ کار میں کوئی بنیادی فرق نہیں کیونکہ انہوں نے بھی معاشرے میں حمایت حاصل کرنے اور سادہ لوح عوام کو دھوکہ دینے کیلئے دین اور شریعت کا نام استعمال کیا بعد میں جو حالات گزرے اس کا علم قبائلی عوام سے بڑھ کر کسے ہوگا۔ اسلام اور شریعت کے نام پر جس طرح قبائلی عوام کو محصور اور مغلوب کیا گیا، کس طرح قبائلی عوام نے بہکنے کی قیمت ادا کی، ملک کن حالات سے دوچار ہوا کوئی ماضی کا قصہ نہیں کل کی بات ہے۔اس تنظیم کے بعض مطالبات سے اختلاف نہیں ان کے بہت سارے مطالبات پورے بھی کئے جا چکے ۔ان عناصر کے پس پردہ مقاصد سے روز اول سے آگاہی کے باوجود ان سے نرمی کاسلوک کیا گیا جو اس وقت مصلحت کی عینک سے دیکھنے پر درست طریقہ نظر آتا تھا مگر بعد کے حالات اور ان عناصر کے طرز عمل سے گربہ کشتن روز اول کا مقولہ موزوں لگنے لگا ہے بہرحال وہ دور اب گزرچکا اب واضح طور پر ایک لکیر کھینچ دی گئی یہ لکیر اچانک اوریکا یک نہیں کھینچی گئی بلکہ قبل ازیں باقاعدہ سرخ لکیر عبور نہ کرنے کی تنبیہہ کی گئی مگر ان عناصر کی سرگرمیاںبڑھتی گئیں۔ ہمیں اس امر کا ادراک ہے کہ صرف محولہ عناصر ہی نہیں شدت پسندی کے دیگر راستوں کی بندش بھی کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ دینی مدارس میں عصری علوم بھی پڑھانے کی جو تجویز ہے اس کا کسی جانب سے خیر مقدم سامنے نہیں آیا حالانکہ یہ اتنا سنگین مسئلہ نہیں بلکہ باہم مشاورت اور مل بیٹھ کر معاملات طے کئے جا سکتے تھے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ دینی مدارس اس کے ہزاروں طلبہ دوران تعلیم اور بعد از سندیافتگی عصری تعلیم بھی حاصل کر کے دوہری قابلیت کے ساتھ میدان عمل میں اترتے ہیں اور ہم خرما وہم ثواب کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ موخرالذکر معاملہ اس قدرسنگین نہیں لیکن ہر دو معاملات پر ایک ہی وقت گفتگو اور اصلاحات کا عندیہ آگ اور پانی کے ملاپ کا باعث بن سکتا ہے خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں بالخصوص جو فصل کاشت ہوتی رہی اس کے خوشے توچنے جا چکے مگر اس کے اثرات کا اس قدر جلد خاتمہ ممکن نہ ہوگایہاں پر ایک مخصوص ذہنیت کا حامل طبقہ ہر شکل وصورت اور ہر جگہ موجود ہے اور وقت آنے پر یہ عناصر ایک دوسرے کے موقف کوتقویت دینے آتے رہے ہیں موجودہ صورتحال میں ایک دوسرے سے کوسوں دور ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کا موافق بیانیہ اختیار کرنے سے معاشرے میںان کو اہمیت ملنے کا خدشہ ہے جسے یہ کیش کرنے کی کوششیں کریں گے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ قبائلی عوام ایک طویل اورکٹھن راستوں سے ہو کر منزل پر ہیں ان کو اپنی منزل سے ایک مرتبہ پھردور کرنے کی مختلف لبادہ اوڑھ کر سعی ہورہی ہے ان عناصر کی خواہش ہی یہ نظر آتی ہے کہ خدانخواستہ قبائلی اضلاع اور یہ خطہ ایک مرتبہ پھر کشا کشی کا شکار بن جائیں تاکہ ان عناصر کا ایجنڈا پورا ہوسکے۔ہمیں یہاں پر یہ نہیں دیکھنا ہے کہ زبان کس کی ہے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کہا کیا جارہا ہے۔بہتر ہوگا کہ اس سلسلے کو یہیں پر روک دیا جائے سب سے پہلے بیرونی آقائوں سے روابط پر نظر ثانی کی جائے اس کے بعد دلیل وبرہان کے ساتھ ایک دوسرے کے تحفظات سنے جائیں۔ یہ صورتحال بھی کچھ مناسب نہیں کہ ایک جانب سینٹ کی کمیٹی میں گفت وشنید ہو صوبائی حکومت مذاکرات کی راہ اپنائے اور دوسری جانب الگ راہ اختیار کی جائے یہ ایک نازک معاملہ ہے اس میں حکومتی اورریاستی اداروں کی مشاورت کے ساتھ ہی کوئی قدم اٹھایا جائے تو بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں