Daily Mashriq

اعلیٰ تعلیم کیلئے مراعات کی بحالی کی ضرورت

اعلیٰ تعلیم کیلئے مراعات کی بحالی کی ضرورت

صوبے کے کالجز میںشام کی کلاسیں شروع کرنے ، طلباء کو آٹھویں جماعت کے بعد کیریئر کونسلنگ دینے جیسے اقدامات صوبے میں فروغ تعلیم اور نوجوانوں کی ٹھوس رہنمائی کے ضمن میں اہم اقدامات ثابت ہوں گے۔وزیراعلیٰ کی ہدایات اور مجوزہ اقدامات یقیناً فروغ تعلیم کا ذریعہ ثابت ہوں گے حکومت کو جتنا ممکن ہو سکے طلبہ کو سہولیات ومراعات دینے کی سعی کرنی چاہیئے منشیات کی روک تھام کی ہر بار ہدایت ہوتی ہے مگر اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کی صورتحال تسلی بخش نہیں وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک مرتبہ ہدایت جاری کرنے کے بعد اس ہدایت کو دہرانے کی بجائے عملدر آمد کی صورتحال کی جواب طلبی کرنی چاہیئے تاکہ متعلقہ حکام وزیراعلیٰ کے احکامات کومعمولات کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ ان ہدایات کے عملی طور پر نفاذ پر توجہ دیں۔ کالجوں میں ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ کار اتنا پیچیدہ اور مشکل ہے کہ اس کے ضرورت مند طلبہ کو سخت مشکل پیش آتی ہے اس کا طریقہ کار سہل بنانا چاہیئے جہاں تک وزیراعلیٰ کی جانب کے طلبہ کو سکالرشپ دینے اور ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کے عزم کا سوال ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو وزیراعلیٰ فنڈ سے فیس واپسی کی جو رعایت اور سہولت حاصل تھی وہ واپس لے لی گئی ہے اس ضمن میں وزیراعلیٰ کو وزیراعظم سے بات کر کے نہ صرف فیس واپسی کا سلسلہ بحال کروانا چاہیئے بلکہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم خاص طور پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کی مکمل مالی امداد کی ضرورت ہے تاکہ کم وسیلہ مگر ذہین وقابل طالب علم بھی اپنا خواب پورا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کو سرکاری جامعات میں اساتذہ کے ہاتھوں جس طویل اور صبر آزما صورتحال سے دوچار کیا جاتا ہے اس کا اگرچہ ایچ ای سی نے حل نکالا ہے مگر اس کے باوجود اساتذہ کی طالب علموں کی رہنمائی اور کام بروقت مکمل کروانے کا عمل تسلی بخش نہیں اس ضمن میں مزید اصلاحات اور اقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے۔

ہڑتالیوں سے مذاکرات کئے جائیں

صوبے میں ڈاکٹروں اورسرکاری ملازمین کی ہڑتال میں شدت قابل توجہ معاملات اس لئے ہیں کہ اس کا سارا اثر بالآخر عوام پر پڑتا ہے خاص طور پر ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث مریضوں اور لواحقین کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے تاحال کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے گئے جبکہ ڈاکٹروں سے حکومت کے مذاکرات کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوسکیں جس کی وجہ سیگزشتہ روز بھی ڈاکٹرز نے ہڑتال کے شیڈول کے مطابق ڈٖیوٹی کا بائیکاٹ اور ہڑتال کی مختلف ہسپتالوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ہسپتالوں میں صرف ایمرجنسی اور آپریشن تھیٹرز میں ڈاکٹرز نے ڈیوٹی دی اس سلسلے میں گزشتہ کئی روز سے تمام ہسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے جس کیلئے انہیں دیگر اضلاع سے پشاور کے ہسپتالوں کو منتقل کردیا گیا ہے ڈاکٹرز کے مطابق2مئی تک ہسپتالوں میں ہڑتال جاری رہے گی اور اس کے بعد مکمل لاک ڈائو ن کیا جائیگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروںکی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے یہ درست ہے کہ ڈاکٹروں کے بعض مطالبات نامناسب اور سخت ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کو مشکلات سے بچانے کیلئے ان سے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہی پڑے گا اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ڈاکٹر برادری کو بھی من مانی کا مظاہر ہ نہیں کرنا چاہیئے۔ حکومت کو چاہیئے کہ بار بار کے احتجاج اور دبائو میں آنے سے حکومت کو نکالنے کیلئے ڈاکٹروں کے ساتھ معاملات طے کر کے ان کو شرائط ملازمت میںشامل کیا جائے اور خلاف ورزی پر فوری اور ناقابل چیلنج تعزیر کی ضمانت لی جائے تاکہ حصول ملازمت کے بعد آئے روز پیش آنے والے واقعات اور من مانیوں کا راستہ مئوثر طریقے سے روکا جاسکے۔

خلاف حقیقت دعویٰ

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور حکومت خیبر پختونخوا کے ترجمان اجمل وزیر کا یہ دعویٰ زمینی حقائق کے سراسر برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں تعلیم میں انڈپینڈنٹ ماینٹرنگ سسٹم متعارف کرنے سے غیر حاضریوں کا مکمل خاتمہ ہو گیاہے، اور تعلیم کا معیار ملک کے باقی حصوں کے برابر لا یا گیا ہے۔ان کا یہ کہنا بھی درست نہیںکہ ضم شدہ اضلاع میں ہسپتالوں میں سہولیات روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور جہاں کہیں ڈاکٹروں ، نرسوں یا پیرامیڈک عملہ کی کمی دیکھی جاتی ہے اُسے ہنگامی بنیاد پر پورا کر دیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں بھی ان کے دعوئوں سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا لیکن خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جو عوام کے بنیادی مسائل میں سے ہیں خاص طور پر توجہ کے متقاضی ہیں اس ضمن میں صرف قبائلی اضلاع ہی میں توجہ کی ضرورت نہیں بلکہ شہری علاقوں میں بھی ابھی تک ان شعبوں میں اصلاح کی کافی سے زیادہ گنجائش ہے۔

متعلقہ خبریں