Daily Mashriq

اندھا بانٹے ریوڑیاں

اندھا بانٹے ریوڑیاں

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان جو وزیراعظم کا حلف اُٹھانے سے قبل اقرباء پروری پر لعن طعن کرتے رہے ہیں ان کے وزیردفاع پرویز خٹک کے پانچ رشتے دار اہم عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزیر دفاع اپنے بھائی لیاقت خٹک کو صوبائی وزیر بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، پرویز خٹک خاندان کے پانچ افراد سیاست میں اہم عہدوں پر فائز ہیں، پرویز خٹک وفاقی وزیر ہیں، بھائی لیاقت صوبائی وزیر، بیٹا ابراہیم خٹک اور داماد خیبر پختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہوئے ہیں، ان کی بھانجی نفیسہ خٹک اور بھتیجی ساجدہ خٹک قومی اسمبلی کی خواتین نشستوں پر نامزد ہو چکی ہیں۔

موروثی سیاست کیخلاف علم اُٹھا نے والے عمران خان کی حکمرانی میں پرویز خٹک خاندان ہی واحد مثال نہیں ہیں ایسی مثالیں چاروں صوبوں اور وفاق میں پھیلی ہوئی ہیں، کل پرسوں ہی خبر نشر ہوئی ہے کہ وزیراعظم کی اہلیہ کے داماد کو ٹیوٹا کمپنی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے، موروثی سیاست کیلئے لازمی نہیں کہ خونی رشتہ ہی ہو سیاسی رشتہ ہی کافی ہے چنانچہ پاکستان کو تبدیل کرنے والوں نے اپنے قول وفعل تبدیل کر دئیے ہیں چونکہ سیاسی مورثین بھی اپنے ہی ہوتے ہیں چنانچہ یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ تبدیلی سرکار نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا جو وعدہ کیا تھا اس کو نبھانا شروع کر دیا ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کے پی ٹی آئی اپنے وعدوں اور منشور سے منحرف ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں محدب عدسہ لیکر ایسی اسامیاں اور عہدے تلاش کئے جارہے ہیں جن پر تقرریاں کی جا سکیں۔ پرانے پاکستان میں بھی کسی حد تک میرٹ پر تقرریاں ہوا کرتی تھیں اور میرٹ کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ اول خویش بعد درویش گویا اندھا بانٹے ریوڑیاں بار بار اپنوں ہی کو دے، یعنی پہلے اپنے لوگوں کو ترجیح دی جائے اور پھر کچھ ملازمتیں بچ جائیں تو اہلیت وقابلیت کی بنیاد پر عام افراد میں تقسیم کر دی جائیں لیکن نئے پاکستان میں میرٹ کو سختی سے ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اول وآخر شرط یہی ہے کہ مستحق صرف اور صرف پکا انصافیا ہی ہے، جس کیلئے ایک منصفانہ طریقۂ کار رکھا گیا ہے کہ پنجاب اور دیگر علاقوں میں چند کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو مستحق انصافیو کی فہرستیں تیار کرتی ہے اور پھر وہ بنی گالہ ارسال کر دی جاتی ہیں جو نعیم الحق کو پیش ہوتی ہے پھر کپتان سے منظوری کے بعد تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے، ساتھ ہی یہ طریقہ بھی بعض تقرریوں کیلئے رکھا گیا ہے کہ پوسٹیں مشتہر کرکے اس فہرست کے مطابق تقرری کر دی جاتی ہے۔ تاہم جن کی تقرریاں براہ راست عمل میں لائی گئیں ہیں ان میں پی ٹی آئی کی سرگرم ورکر سارہ احمد کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا چیئر پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ فاطمہ چدھڑ کو پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا چیئر پرسن لگایا گیا ہے۔ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صدر حافظ فرحت عباس نے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کے چیئرمین کا عہدہ حاصل کر لیا، فاقی وزیر فواد چوہدری کے بھائی فیصل فرید حسین کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، شیخ محمد عمران کو ایل ڈی اے کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا، وزیرِ زراعت نعمان لنگڑیال کے بہنوئی نوید انور بھنڈر کو پنجاب ایگری کلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری کمپنی کا چیئرمین تعینات کیا گیا۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے اپنی میرٹ پالیسی میں یہ خوبی بھی شامل کی ہے کہ تمام انصافیے رکن اسمبلی کو وزیر یا مشیر تو نہیں لگایا جا سکتا ہے چنانچہ ان کی نوکریوں کیلئے میرٹ پالیسی یہ بنائی گئی ہے کہ خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں میں انصافیے ارکان اسمبلی کو بھاری مشاہیر پر نوکری دیدی جائے چنانچہ راولپنڈی سے رکن صوبائی اسمبلی واسق قیوم عباسی کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا چیئرمین تعینات کیا گیا، راجن پور سے ایم پی اے سردار محسن لغاری کو پنجاب ایری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کے چیئرمین کا عہدہ سونپا گیا۔ فیصل آباد سے رکن صوبائی اسمبلی شکیل شاہد کو فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کیا گیا ہے۔ وہ ارکان جو الیکشن نہیں جیت سکے اور سابق رکن اسمبلی تھے یا پھر ٹکٹ نہ ملنے پر قیادت سے ناراض تھے، اُنہیں روزگار فراہم کرنا بھی میرٹ کا تقاضا قرار پایا چنانچہ اس زریں اصول کی پوری پاسداری کی جا رہی ہے اور راولپنڈی سے سابق ارکان صوبائی اسمبلی عارف عباسی اور آصف محمود، جنہیں ٹکٹ نہیں مل سکا تھا، بالترتیب راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پی ایچ اے کا چیئرمین لگایا گیا ہے۔ تحریکِ انصاف بہاولپور خواتین ونگ کی صدر شہلا احسن کو جنہیں ٹکٹ نہیں دیا تھا، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کا چیئرمین تعینات کرکے ازالہ کیا گیا، سرگودھا سے ممتاز احمد کاہلوں کو راضی کرنے کیلئے اُنہیں سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا، ڈاکٹر اسد معظم جو الیکشن ہار گئے، اُنہیں فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین لگایا گیا ہے ایسی درجنوں میرٹ کی زندہ وجاوید مثالیں ہیں کس کس کا ذکر کیا جائے۔ یہ سب نوشتہ ایک بڑے صوبے کا ہے، وفاق کا بھی حال ایسا ہی ہے جس میں کابینہ کے آدھے سے زیادہ غیرمنتخب افراد کی بھیڑ لگی ہوئی ہے اور ان کو ٹیکنوکریٹ کا نام دیدیا گیا ہے جن میں ایک مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی ہیں۔ انہوں نے ماہر معاشیات کے لبادے میں ماضی کی حکومتوں میں جو گل کھلائے ان کا ذکر آئندہ کیلئے رکھ چھوڑتے ہیں۔ باقی صوبوں کے سیاسی وارثین کا بھی ذکر پھر کبھی ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں