Daily Mashriq

آلودہ پانی، وزیرستان ڈومیسائل،فیس واپسی ختم

آلودہ پانی، وزیرستان ڈومیسائل،فیس واپسی ختم

بعض اوقات اس طرح کے شکایتی پیغامات بھی ملتے ہیں جو تکلیف دہ اس لئے ہوتے ہیں کہ اس میں انسانی صحت اور زندگی کے داؤ پر لگے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ حیات آباد فیز6 کے گلی نمبر4 تا10 کے مکینوں کا ایک ایسا مسئلہ سامنے آیا ہے جو تین چار سالوں سے ہے، اس مسئلے کی ایک دو مرتبہ پی ڈی اے حکام سے شکایت بھی کی گئی لیکن کوئی تسلی بخش حل نہ نکالا جا سکا۔ یہاں کے مکینوں کے مطابق اس قسم کے مسائل دیگر فیزز کے بعض گلیوں میں بھی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بعض گھروں میں نکاسی آب کی پائپ لائن کیساتھ یا پھر اس سے مستصل اور کچھ گھروں میں مین گٹر لائن کو کراس کرکے پینے کے پانی کے کنکشنز لئے گئے ہیں، جب صاف پانی کا پریشر ہوتا ہے تو پانی اس رساؤ کے مقام پر گندے پانی کو دھکیل کر صاف پانی کے پائپ میں داخل ہونے نہیں دیتا مگر جب پریشر نہ ہو اور پانی پائپ کے اندر ساکت حالت میں ہو تو آلودہ پانی صاف پانی کی پائپ لائن میں آجاتا ہے جس کے باعث مکینوں نے اس کا استعمال ترک کر دیا۔ پی ڈی اے والوں نے بڑی تگ ودو کے بعد علاقے کی کسی گلی میں محولہ نوعیت کا مسئلہ پکڑ لیا لیکن مسئلہ پھر بھی باقی اس لئے ہے کہ اب بھی ان گلیوں میں پانی کا پریشر گرمیوں میں کم ہو جائے تو پانی میں بدبو واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ کسی ایک جگہ اس قسم کی شکایت کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے کے سارے گھروں میں پانی کے آلودہ ہونے کا خدشہ ہے، مستزاد حال ہی میں پانی میں سفید محلول کے بہت زیادہ ہونے کی شکایت نوٹ کی گئی اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو اسہال کی شکایت ہوئی۔ یہ سارے عوامل اس امر کے تعین کیلئے کافی ہے کہ ایف9کے اگر سارے گھروں میں آنے والا پانی آلودہ نہیں تو بعض گھروں میں آنے والا پانی یقینا آلودہ ہے۔ پی ڈی اے کے نیب زدہ ڈائریکٹر کو جہاں سے کمیشن ملنے کی اُمید ہوتی ہے وہاں تو کام ہوتے ہیں مگر عوام کی صحت اور داؤ پر لگی زندگی سے ان کو کوئی غرض نہیں۔ اس تفصیلی شکایت پر میں پی ڈی اے کے ڈی جی اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن کے ڈائریکٹر سے ہمدردانہ اپیل ہی کر سکتی ہوں کہ اس مسئلے کا جائزہ لیا جائے، اگر یہ غلط فہمی ہے تو اسے دورکی جائے اور اگر واقعی ایسا ہی ہے تو پھر اس سنگین غفلت کے مرتکب عملے کی تعزیر ہونی چاہئے‘ تاخیر کی گنجائش نہیں۔جنوبی وزیرستان سے عارف اللہ نے ان کے مسائل پر خلوص سے لکھنے کا کہا ہے میرے لئے سارے قارئین محترم ضرور ہیں البتہ قبائلی اضلاع کی پسماندگی اور وہ جن مشکلات سے گزر چکے ہیں اس کے پیش نظر میری ان سے زیادہ ہمدردی ہے۔ بہرحال ان کو شکایت ہے کہ جنوبی وزیرستان کے ضلع بننے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وہی ڈومیسائل کیلئے رقم مانگی جاتی ہے، تحصیلدار کو الگ دینا پڑتا ہے‘ ریکارڈ کیپر کو الگ اور قدم قدم پر رشوت دئیے بغیر نہ کوئی کام ہوتا ہے اور نہ مسئلہ حل ہوتا ہے۔ انہوں نے تو باقاعدہ ہر عہدیدار کا ریٹ بھی رکھ دیا ہے۔ ملازمت کیلئے بھی رشوت کا ریٹ طے ہے، تحصیلدار سے ان کو سب سے زیادہ شکایت ہے، نوجوان ایٹا ٹیسٹ اور دیگر ملازمتوں کیلئے امتحانات اور لوازمات کو پورا کرنے کیلئے پشاور جانے پر اُٹھنے والے اخراجات سے بھی پریشان ہیں۔ گوکہ ان کی مشکلات اور دیگر علاقوں کی مشکلات میں زیادہ فرق نہیں لیکن بہرحال جنوبی وزیرستان جن حالات کا شکار رہا ہے اس کے پیش نظر ان علاقوں کے نوجوانوں کو کاروبار‘ روزگار کے مواقع میں اولیت دینی چاہئے، کم ازکم ان سے جائز سرکاری کاموں کیلئے رشوت تو نہ لی جائے۔ متعلقہ حکام سے اصلاح احوال اور نوٹس لینے کی پرزور اپیل ہے۔عمرزئی چارسدہ سے عدنان ولد عبدالمنان ایک ہاتھ سے معذور ہیں اس کے باوجود اپنے بچوں کیلئے رزق حلال کی تگ ودو میں رہتے ہیں اس قسم کے خصوصی افراد کو روزگار بھی باسہولت ملنا مشکل ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں سے زیادہ محنت بھی کرنا پڑتی ہے۔ ان کی محنت ومشقت کو سلام لیکن کچھ سرکاری اداروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ خصوصی افراد کی دست گیری کریں، مخیر حضرات کو بھی ان کی مدد کرنی چاہئے۔ یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے اور بطور مسلمان ہم سب کو ان کا خیال رکھنا چاہئے۔ضلع دیر سے ایم عباس نے گزشتہ حکومت میں پسماندہ اضلاع میں نوجوانوں کے اعلیٰ تعلیم کیلئے فیسوں میں رعایت بصورت فیس واپسی کی جو سکیم دی تھی موجودہ حکومت نے اسے ختم کرکے پسماندہ اضلاع کے نوجوانوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔ پسماندہ اضلاع کے غریب نوجوان یونیورسٹی میں ایم اے کی فیسیں نہیں دے سکتے، فیسوں کی واپسی کی وجہ سے جو نوجوان یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے وہ اس سکیم کی بندش کے باعث تعلیم نامکمل چھوڑنے پر مجبور ہیں اور مزید نوجوان یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں لے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نوجوانوں کی حمایت اور نوجوانوں کو سہولتیں دینے کے نام پر برسر اقتدار آئی تھی اگر نوجوانوں کو مزید سہولتیں نہیں دی جاسکتیں تو کم ازکم پہلے سے دستیاب سہولتیں تو نہ چھینی جائیں۔ وزیراعظم سکیم کے تحت نوجوانوں کے فیسوں کی واپسی اور لیپ ٹاپ دینا گزشتہ حکومت کا اچھا اقدام تھا جسے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ اگر وہ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے لانے کے ترجیحی اقدامات نہیں کرے گی تو ان نوجوانوں کے خدانخواستہ پھر سے شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کا خطرہ ہے۔

کالم میں شائع ہونے والے عوامی آراء سے اختلاف اور وضاحت متعلقہ اداروں کا حق ہے بشرطیکہ کوئی اس حق کا استعمال کرے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں