Daily Mashriq

نیا بلدیاتی نظام

نیا بلدیاتی نظام

نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے چند سوالات زیر گردش ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ضلع کونسل کا خاتمہ کیوں کیا گیا؟ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں قبل ازیں ضلع کونسلیںقائم تھیں جو اب نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت نہیں بن سکیں گی۔ اس وقت ضلع نہ صرف بنیادی انتظامی یونٹ ہے بلکہ ریونیو کلیکشن کے اعتبار سے بھی ڈپٹی کلیکٹر کے فرائض ضلع کی سطح پر انجام دئیے جاتے ہیں۔ مزید برآں مردم شماری بھی اسی انتظامی یونٹ کی بنیاد پر ہوئی ہے اور اس مردم شماری کے تحت قومی وصوبائی اسمبلیوں کے انتخابی حلقے اضلاع کی آبادی کو مدِنظر رکھ کر تشکیل دئیے گئے ہیں۔ ضلع کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ لوکل گورنمنٹ کے تناظر میں البتہ دیکھنا پڑے گا کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس حوالے سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ ضلع کی سطح پر جو امور نمٹائے جائیں گے اس کی نگرانی کون کرے گا؟ اگر یہ صوبائی حکومت کے دائرۂ کار میں آئے گا اور یقینی طور پر ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے تو پھر کیا اختیارات کی لامرکزیت کے فلسفے کو ٹھیس نہیں پہنچے گی؟پاکستان میں ضلعی حکومتوںکا نظام جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے عہد میںقائم ہوا۔ اس نظام کے تحت ضلعی حکومتوں کو زیادہ تر امور میں بااختیار کیا گیا۔ 2013ء میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ متعارف کرایا گیا۔ تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی جو اس وقت پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل تھے کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے نئے ایکٹ کو نافذ ہونے سے پہلے ریویو کیا اور اس کی خامیوں کو دور کر کے ایک بہتر ڈرافٹ تیار کیا جو بعد ازاں خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کی شکل میں نافذ العمل ہوا۔ جنرل مشرف کی لوکل گورنمنٹ کے مقابلے میں اس ایکٹ کی خاص بات ویلج کونسل کی شکل میں نسبتاً چھوٹے اور بنیادی یونٹ کا قیام تھا۔ یوں اختیارات کی لامرکزیت کے اعتبار سے تحریک انصاف کا پیش کردہ ایکٹ اپنے تئیں منفرد تھا چونکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گاؤں کے بنیادی یونٹ کو اہمیت ملی اور مسائل کے حل کیلئے گاؤں کی سطح پر ڈائریکٹ فنڈنگ ہوئی۔ خیبر پختونخوا کے تجربے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس مرتبہ تحریک انصاف نے ضلع کونسل کو ختم کر دیا ہے اور اختیارات اور وسائل کو شہر کی سطح پر میٹرو پولیٹن / میونسپل کارپوریشن/میونسپل کمیٹی/ٹاؤن جبکہ دیہاتی علاقوں میں تحصیل کونسل کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ دیہات میں پنچایت جبکہ شہروں میں نیبرہڈ (محلہ کونسلیں) بنائی جائیں گی۔ پنجاب میں خیبر پختونخوا کی ویلج کونسل کو پنچایت کا نام دیا گیا ہے۔ یوں خیبر پختونخوا کی طرز پر پنچایت یعنی ہر گاؤں براہ راست حکومتی فنڈنگ سے مستفید ہوگا۔ آبادی کی بنیاد پر حکومت گرانٹ کا تعین کر ے گی اور ہر سال یہ گرانٹ ترقیاتی کاموں کیلئے پنچایت/ویلج کونسلوں کو ملا کرے گی۔ضلعی حکومتوں کی صورت میں اختیارات کی لامرکزیت کا تصور اگرچہ خوش نما ہے لیکن عملی اعتبار سے اس میں ابھی کافی الجھنیں ہیں‘ شاید انہی پیچیدگیوں کے پیشِ نظر یا اس خیال کے تحت کہ آخرکار چھوٹے بنیادی یونٹس (ویلج/محلہ) کو ہی فائدہ پہنچانا مقصود ہوتا ہے توکیوں نہ ضلع کے کردار کو منفی کر کے براہ راست وسائل نیچے منتقل کئے جائیں۔ ویسے بھی ضلعی سیٹ اپ ایک ڈاکخانہ کا کردار ادا کرتا ہے‘ خاص طور پر خیبر پختونخوا میں ہم نے دیکھا کہ ویلج کونسلوں کو حکومتی گرانٹ مہیا کرنے میں ڈی سی آفس فقط ڈاکخانے کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ڈی سی صاحب کی اپنی کوئی صوابدید نہ تھی اور نہ ہی وہ ویلج کی طے شدہ حکومتی گرانٹ میں تخفیف کرنے کا مجاز تھا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو ضلع کونسل کو ختم کر کے تحصیل کونسلوں کو اور ویلج کونسلوں/ پنچایت کو بااختیار بنانا سمجھ میں آتا ہے لیکن ضلع کی انتظامی مشینری پر صوبائی حکومت یا ایم پی ایز وغیرہ کی اثراندازی کو برقرار رکھنے سے اختیارات کی لامرکزیت اور مقامی اختیار کے فلسفے کو کیا دھچکا نہیں لگے گا؟ مقامی حکومتوں کیلئے 2019ء کے ایکٹ میں جو کام تجویز کئے گئے ہیں ان کا دائرۂ کار بھی وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں جو نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء متعارف کروا دیا گیا ہے اُس میں ضلعی ہیلتھ اتھارٹی اور ضلعی ایجوکیشن اتھارٹی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء کے تحت مقامی سطح پر ان اتھارٹیز کو قائم کرنا مقصود تھا جو اس لحاظ سے ایک مثبت پیش رفت تھی کہ دوانتہائی اہم محکموں پر مقامی کنٹرول ہوتا۔ میری رائے میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء میں موجود پرائمری ایجوکیشن اور پرائمری ہیلتھ کے فنگشنز سے آگے بڑھتے ہوئے مقامی ہسپتالوں اور سکول سسٹم پر مقامی کنٹرول کی بابت سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ مزید برآں شہر کی سطح پر میٹرو پولیٹن/میونسپل کارپوریشن اور دیہات کی سطح پر تحصیل کونسل کو زیادہ بااختیار بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں