Daily Mashriq


افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

ڈگری چاہے اصلی ہو یا نقلی ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔ جن دنوں نوابزادہ اسلم رئیسانی نے میڈیا والوں کے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی تھی ان دنوں وہ پاکستان کے بازوئے شمشیرزن صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے درجے پر فائز تھے۔ ان کا یہ درجہ یا رتبہ یا مرتبہ اک ڈگری ہی تو تھی جس کی شہہ پر انہوں نے اتنی بڑی بات کر دی جسے سن کر بہتوں کا سنٹی گریڈ یا فارن ہائٹ ڈگری کا پارہ چڑھ گیا اور بہت سارے یار لوگ حیران اور پریشان اسلم رئیسانی کے اس بیان کے معنی ومفہوم دستیاب ڈکشنریوں میں ڈھوڈ ڈھونڈ کر عاجز آنے لگے لیکن وہ حضرت رئیسانی کی اس بات کی تہہ تک نہ پہنچ سکے۔

خامہ انگشت بہ دنداں ہے اسے کیا لکھئے

ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے

کے مصداق یہی عالم ہم پر بھی گزرا اور نوابزادہ رئیسانی کی کہی ہوئی یہ بات ہماری عقل ناقص کے سر سے گزر گئی۔ کبھی نہ بھلائی جاسکنے والی اس بات کو ایک مدت گزر جانے کے بعد جب اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبر نظروں سے گزری کہ رئیسانی نے اصل ڈگری کے حصول کیلئے یونیورسٹی میں داخلہ لیکر کلاسیں اٹنڈ کرنا شروع کردیں، تو بات سمجھ میں آنے لگی کہ حضرت جس ڈگری کی وجہ سے اصل یا نقل ہونے میں کچھ فرق نہ ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے وہ اس ڈگری کا دفاع تھا جو انہوں نے حاصل کی تھی لیکن وہ اصلی ہونے کی بجائے نقلی یا جعلی تھی۔ کہتے ہیں کہ بوڑھے طوطے پڑھ نہیں سکتے لیکن رئیسانی نے 64برس کی عمر میں یونیورسٹی میں داخلہ لیکر ثابت کردیا کہ ہر محاورہ یا ضرب المثل پتھر پہ لکیر ہونے کا درجہ حاصل نہ کرسکے، تعلیم حاصل کرنے کیلئے عمر کی حد یا قید کوئی معنی نہیں رکھتی۔ جس خبر کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نوابزادہ جس وقت یونیورسٹی میں حصول علم کیلئے روانہ ہوتے ہیں ان سے پہلے ان کے اسلحہ بردار محافظ یونیورسٹی پہنچ جاتے ہیں تاکہ ان کا رعب دبدبہ یا دھاک ان کو تعلیم وتعلم کے زیور سے آراستہ کرنے والوں کے دل اور دماغ پر قائم رہے اور کوئی مائی کا لال انہیں ذرہ بھر گزند پہنچانے کی جرأت تک نہ کرسکے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ڈگری کے حصول کیلئے رعب یا دبدبہ قائم کرنے کیلئے باڈی گارڈوں کا استعمال یا آتشیں اسلحہ کی نمائش کس حد تک جائز ہے۔ ہمارے اس سوال کا جواب ہمارے ذہن میں کبھی نہ آسکتا اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہوتا کہ کمرہ امتحان میں ڈیسک پر پستول یا بندوق رکھ کر بھی پرچہ حل کرنے کی روایت قائم رہی ہے۔ جناب رئیسانی کے حصول علم کی اس نوابزادانہ ادا کو دیکھ کر ہمیں اپنا وہ شاگرد یاد آگیا جو بہت بڑے نام والی انگلش میڈیم اسکول کی نویں جماعت کا سٹوڈنٹ تھا، مگر یقین جانئے وہ انگریزی کے حروف تہجی سے بھی کماحقہ آشنا نہیں تھا، اس کو ٹیوشن پڑھانے کیلئے میں اس کی کوٹھی پر جاتا اور اس کو پڑھانے اور سمجھانے کا ہر جتن آزماتا لیکن زمیں جنبد، نہ جنبد گل محمد کے مصداق میری ان کوششوں سے اس کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑتا اور یوں میری ہر کوشش اس کے سر پر سے گزرکر رائیگاں چلی جاتی، جب میں اس کی ان حرکتوں سے نالاں ہوگیا تو اس کی شکایت سمگلنگ کی دنیا میں بہت بڑے نام والے کج کلاہ دادا سے کردی، جس کے جواب میں انہوں نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر ’’دباوا دباوا‘‘ کا جملہ کہا، جس کی تعمیل میں، میں اپنے شاگرد رشید پر سختی کرنے لگا، جس کے ردعمل میں وہ دوسرے ہی روز ایک خوبصورت ریوالور لے کر آگیا اور مجھے بتا کر کہنے لگا کہ کیسا ہے، ریوالور دیکھ کر میرے لہجے میں نرمی آئی اور میں اسے سمجھانے لگا کہ دیکھو! اگر تم نے دل لگا کر پڑھا تو اس میں تمہارا بھلا ہے اور میری بھی نیک نامی ہے، لوگ تجھے پڑھا لکھا، گریجویٹ اور ڈگری یافتہ کہیں گے جس کے جواب میں نویں جماعت کا وہ بچہ مجھے کہنے لگا کہ یہ جو گریجویٹ، پڑھے لکھے اور ڈگری یافتہ ہوتے ہیں، وہ ہمارے ہاں آکر نوکریاں تلاش کرتے ہیں، نویں جماعت کے بچے کی زبان سے اینٹ کے جواب میں گوبر جیسی یہ بات سن کر میں چکرا گیا، مجھے اس بچے نے یہ بھی کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کہ ہم امتحان میں کامیاب نہ ہو سکیں گے کیونکہ امتحانی پرچہ چھپنے سے پہلے ہمیں اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ پرچہ کونسے پریس میں چھپ رہا ہے اور اس میں کون کون سے سوالات ہیں۔ آپ یقین کریں اپنے کم عمر شاگرد کی زبان سے یہ باتیں سن کر میں چکرایا ہی نہیں بیمار بھی پڑگیا اور دوسرے ہی دن جان کی پناہ چاہ کر ٹیوشن جاری رکھنے سے معذرت کرکے آزادی کے گیت گانے لگا، لیکن ایک مدت گزرنے کے بعد میری زندگی میں ایسا موڑ بھی آیا جب میں مریض بن کر ایک مشہور ڈاکٹر کے پاس علاج کرانے پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بہت ساری ڈگریوں کا حامل وہ ڈاکٹر میرا وہی شاگرد تھا جو نویں جماعت میں انگریزی حروف تہجی سے بھی آگاہ نہیں تھا، جانتا ہوں آپ میری اس بات پر یقین نہ کریں گے، لیکن آپ کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ ڈگری جعلی اور اصلی ہی نہیں ہوتی، زرخرید اوردھونس دھمکیوں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ بس آپ کے پاس، بہن کرے نہ بھیا جو کرے روپیہ کی طاقت ہو، اور آپ نے کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہو، کیا آپ نے اکبرالہ آبادی کا یہ شعر نہیں سنا کہ

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

متعلقہ خبریں