Daily Mashriq


مسعود اظہر پر 'پابندی': چین کا اپنی تکنیکی رکاوٹ سے پیچھے ہٹنے کا امکان

مسعود اظہر پر 'پابندی': چین کا اپنی تکنیکی رکاوٹ سے پیچھے ہٹنے کا امکان

اسلام آباد: امریکا کے مسلسل مطالبے پر چین نے اقوام متحدہ کی 1267 پابندی کمیٹی کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو کالعدم قرار دینے سے متعلق رکاوٹ سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دے دیا۔

سینئر پاکستانی حکام نے ڈان کو بتایا کہ چین مسعود اظہر کو کالعدم قرار دینے سے متعلق اپنی تکنیکی گرفت کو واپس لے سکتا ہے تاہم اس معاملے میں پیش رفت سے متعلق دفتر خارجہ کی جانب سے آج (بدھ) کو خصوصی بریفنگ میں تفصیلات فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔

ادھر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوہانگ نے بیجنگ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم 1267 کمیٹی میں فہرست کے معاملے کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے زیادہ اراکین کی رائے ہے، دوسرا یہ کہ کمیٹی کے اندر ہی متعلقہ معاملے پر مشاورت جاری ہے اور کچھ پیش رفت حاصل ہوئی ہے، تیسرا یہ کہ میرا ماننا ہے کہ تمام فریقین کی مشترکہ کوششوں سے یہ معاملہ مناسب طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے‘۔

خیال رہے کہ بھارت، 2016 سے مسعود اظہر کا نام اس فہرست میں شامل کروانا چاہتا ہے لیکن 14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سینٹرل ریزور پولیس فورس پر حملہ ہوا تھا، جس کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد سے اس مطالبے میں تیزی آگئی ہے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین امریکا، برطانیہ اور فرانس نے بھارتی قرار داد کی حمایت کی تھی لیکن چین نے چوتھی مرتبہ تکنیکی طور پر اس کو روک دیا تھا۔

تاہم اس مرتبہ امریکا، برطانیہ اور فرانس نے اپنے حربوں کو تبدیل کیا ہے اور سیکیورٹی کونسل میں قراداد کو لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

چینی ترجمان جینگ شوہانگ نے کہا کہ اس معاملے کو 1267 کمیٹی میں ہی حل ہونے کرنے کی ضرورت ہے، بیجنگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں معاملے سے نمٹنے کی مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ وہاں اجلاس عوامی ہوتا ہے جبکہ پابندی کمیٹی میں یہ رازداری کے تحت ہوتا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوب اور وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم (مسعود اظہر) کو اس فہرست میں شامل کرنے کے لیے آگے بڑھنے سے متعلق فریقین کے اقدام کو سراہیں گے، ساتھ ہی انہوں نے دہشت گرد قرار دینے میں اقوام متحدہ کی مرکزیت اور کردار کو بھی تسلیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد قرار دینے کے عمل کو تکنیکی نوعیت کا ہونا چاہیے، یہاں تک کہ ثبوتوں کی تشخیص ہونی چاہیے اور ممالک کو اس عمل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ اقوام متحدہ کا عمل کام کررہا اور بہتر کام کر رہا اور بین الاقوامی برادری کسی بھی دہشت گرد کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو اور وہ کہیں بھی موجود ہو‘۔

واضح رہے کہ ایلس ویلز نے اپنے 2 روزہ دورہ پاکستان میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ، سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور دیگر اہم حکام سے ملاقات کی تھی، ان کا یہ دورہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کے ساتھ تھا اور دونوں شخصیات نے کچھ ملاقاتیں ایک ساتھ بھی کیں۔

متعلقہ خبریں