Daily Mashriq


بھارتی فوج عسکری کارروائی کیلئے کشمیری نوجوانوں کو ڈھال بنانے لگی

بھارتی فوج عسکری کارروائی کیلئے کشمیری نوجوانوں کو ڈھال بنانے لگی

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی فوج حریت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائی کے لیے بھی کشمیری نوجوانوں کو اپنے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرنے لگ گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے مقبوضہ کشمیر کے ایک گاؤں پنگلاں میں 2 دن گزارے اور وہاں ہونے والے واقعے کے 60 چشمدید گواہ کے انٹرویو کیے۔

ان افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ بھارتی فوج نے کم سے کم 4 کشمیری شہریوں کو اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کا مطلب انہیں اس عمارت میں داخل کرنا تھا جہاں ممکنہ طور پر حریت پسند چھپے ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کے کارکنان نے بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو اپنے لیے ڈھال بنانے کے مسلسل ہونے والے واقعات پر سوالات اٹھادیے۔

انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا تھا کہ بھارتی قانون میں یہ عمل غیر قانونی نہیں ہوگا لیکن عالمی قوانین میں جنگی جرائم میں شامل ہوسکتا ہے۔

جب کشمیر میں بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل موہت وشنوا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کی تحقیق کو ہی ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ ان کے فوجیوں نے عام کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر کبھی بھی استعمال نہیں کیا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حریت پسندوں کے خلاف فوج کی عسکری کارروائی کے دوران مقامی افراد ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فورسز کی گاڑی پر ہونے والے بم حملے کے نتیجے میں 44 فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی فوج کو کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی تھی۔

سربراہ مملکت کی جانب سے ملنے والی اس اجازت کا بھارت فورسز نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کریک ڈاؤن کے نام پر درجنوں کشمیریوں کو پولیس مقابلہ قرار دے کر قتل کردیا جبکہ متعدد کو گرفتار کرلیا۔

پلوامہ حملے کے بعد بھارتی فورسز نے پنگلاں گاؤں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی شروع کردی تھی، کیونکہ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ انہیں اس علاقے میں ’عسکریت پسندوں‘ کے موجود ہونے کی خفیہ اطلاعات تھیں۔

تاہم رائٹرز کی جانب سے اس علاقے میں کیے جانے ولے انٹرویو میں تقریباً تمام ہی شہری بھارتی حکومت اور اس کے فوجیوں کے مخالف نظر آئے۔

ان کا کہنا تھا اس علاقے میں دہائیوں سے کبھی بھی حریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ نہیں ہوئے۔

اس حوالے سے رائٹرز نے 4 اشخاص سے انٹرویو کیا جنہیں بھارتی فوج نے زبر دستی انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا، اور ان تمام افراد کی بات ایک دوسرے کے انٹرویو سے ثابت ہوئی۔

متعلقہ خبریں