Daily Mashriq


ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیاں، بورڈ کی وقت کے ساتھ ’’ ہرڈلز ریس‘‘ جاری

ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیاں، بورڈ کی وقت کے ساتھ ’’ ہرڈلز ریس‘‘ جاری

کراچی:  ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کے حوالے سے بورڈ کی وقت کے ساتھ ’’ہرڈلز ریس ‘‘ جاری ہے جب کہ ڈپارٹمنٹس کی بندش کیخلاف گورننگ بورڈ کے بعد سابق کرکٹرز نے بھی آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔

وزیر اعظم اور سرپرست اعلیٰ عمران خان کی ہدایت پر پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ میں نیا نظام لانا چاہتا ہے،اس میں ٹیموں کی تعداد کم اور ڈپارٹمنٹس کا خاتمہ کر دیا جائے گا، اس حوالے ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی جس نے تجاویز تیار کر لی ہیں۔

گزشتہ دنوں کوئٹہ میں منعقدہ گورننگ بورڈ میٹنگ میں اس حوالے سے بات ہونا تھی مگر کئی ارکان نے بغاوت کر دی، سب نے نئے سسٹم پر خدشات کا اظہار کیا، معاملہ ڈسپلنری کارروائی سے ہوتا ہوا اب عدالت تک پہنچ چکا جس میں چیئرمین اور ایم ڈی کی تقرری کو چیلنج کیا جا چکا۔

 ادھر سابق کپتان جاوید میانداد نے بھی نئے نظام کی کھل کر مخالفت کر دی ہے، وہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کر کے کرکٹرز کو بے روزگار کرنے پر سخت نالاں ہیں، دوسری جانب ان تمام رکاوٹوں کا پی سی بی پر کوئی اثر نہیں پڑا، وزیر اعظم عمران خان گذشتہ دنوں چیئرمین احسان مانی سے ملاقات کر کے انھیں تبدیلیوں کے حوالے سے  مکمل اختیارات دے چکے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ انگلینڈ روانگی سے قبل احسان مانی نے بورڈ کی انٹرنل میٹنگ میں آفیشلز پر واضح کر دیا کہ وہ بدستور نئے نظام پر کام کرتے رہیں ، وطن واپسی پر وہ اسے حتمی شکل دے دیں گے۔

گورننگ بورڈ میں اب پی سی بی کے مخالف تین ہی ارکان رہ گئے ہیں، ان میں سے بھی ایک نعمان بٹ کو میٹنگز میں شرکت سے روک دیا گیا، اس لیے اگر اگلے اجلاس میں پھر یہ معاملہ اٹھایا گیا تو منظوری مل جائے گی، البتہ بورڈ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ وقت کی کمی ہے، وہ رواں سیزن میں ہی  نئے سسٹم کو لاگو کرنا چاہتا ہے جبکہ چند ماہ میں تمام کام ہونا بہت مشکل ہوگا۔

نئے نظام میں سندھ، پنجاب، کے پی کے، بلوچستان اور فیڈرل ایریاز کی ایسوسی ایشنز بھی بنیں گی، ان کے صدور کا انتخاب علاقائی ایسوسی ایشنز کو کرنا ہوگا،6 ٹیموں کا صوبائی فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کرایا جائے گا، ان میں پنجاب کی 2 سائیڈز شامل ہوں گی، نچلی سطح کے ٹورنامنٹ میں کراچی، لاہور جیسے ناموں سے شہروں کی ٹیمیں کھلانے کا منصوبہ ہے۔ ان میں نمایاں پرفارم کرنے والوں کو صوبائی ٹیموں میں بھی جگہ ملے گی۔

صوبائی سلیکشن کمیٹی جس پروفیشنل کرکٹر کو چاہے منتخب کر سکے گی،2،3 اسٹار کرکٹرز ہر ٹیم کا حصہ ہوں گے، پلان کے مطابق ہر ایسوسی ایشن کا ایک ڈپارٹمنٹ اسپانسر ہوگا مگر تاحال اس میں کسی نے دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بورڈ حکام کو یقین ہے کہ تمام اقدامات بروقت ہو جائیں گے اور رواں سیزن میں ہی تبدیلیوں کا اطلاق کر دیا جائے گا، دوسری جانب یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر کوئی نئے نظام کیخلاف عدالت چلا گیا تو سارا معاملہ رک جائے گا، فی الحال تو جاوید میانداد کی صورت میں واحد بڑا نام سامنے آیا ہے لیکن آنے والے دنوں میں مزید کئی کرکٹرز بھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے حق میں کھڑے ہو سکتے ہیں جس سے بورڈ پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔

متعلقہ خبریں