ایل او سی پر انڈین فائرنگ سے خاتون سمیت چار ہلاک

ایل او سی پر انڈین فائرنگ سے خاتون سمیت چار ہلاک

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے نکیال سیکٹر میں انڈین فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت چار افراد جاں بحق اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ہلاکتیں نکیال سیکٹر کے مختلف گاؤں میں ہوئیں، جہاں انڈین فورسز کی جانب سے گذشتہ کئی روز سے بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

بیان کے مطابق انڈین فورسز کی طرف سے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول کے نکیال، جندروٹ اور کیل سیکٹرز میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے انڈین پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔

جندروٹ سیکٹر ضلع کوٹلی میں جبکہ کیل سیکٹر، مظفر آباد کے شمال مشرق میں وادی نیلم کے بالائی علاقے میں واقع ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو ۔یے ہیں۔

اس سے قبل 28 اکتوبر کو پاکستان نے انڈیا سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے مزید چھ شہریوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فائربندی کے معاہدے کے احترام کا مطالبہ کیا تھا۔

انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے اس بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ فائر بندی کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔

27 اکتوبر کو ورکنگ باؤنڈری پر شکر گڑھ سیکٹر پر اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے دو خواتین سمیت چھ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے۔

بیان کے مطابق انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر پر زور دیا گیا کہ انڈیا سنہ 2003 کے سیز فائر کے سمجھوتے کا احترام کرے اور ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر امن قائم رکھنے کے لیے دیہات اور شہریوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں