عاصمہ جہانگیر گروپ کیلیے اپ سیٹ، رشید رضوی صدر منتخب

عاصمہ جہانگیر گروپ کیلیے اپ سیٹ، رشید رضوی صدر منتخب


پاکستان میں چوٹی کے وکلا کی تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں وکیل رہنما رشید اے رضوی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

نومنتخب صدر رشید اے رضوی نے اپنے مدمقابل فاروق نائیک کو 229 ووٹوں سے شکست دی۔

فاروق ایچ نائیک چیئرمین سینیٹ رہے ہیں اور اپنے عہدے کی وجہ سابق صدر آصف علی زرداری کی عدم موجودگی میں قائم مقام صدر مملکت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں روایتی حریف گروپوں میں حامد خان نے رشید اے رضوی جبکہ فاروق نائیک کو عاصمہ جہانگیر گروپ کی حمایت حاصل تھی۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق رشید رضوی نے 1289حاصل کیے جبکہ فاروق ایچ نائیک کو 1060 ووٹ ملے۔

عاصمہ جہانگیر گروپ کے لیے سپریم کورٹ بار کے انتخابات کے نتائج ایک بڑا اپ سیٹ ہے اور چھ برس کے بعد سپریم کورٹ بار میں حامد خان گروپ کو کامیابی ملی ہے۔

فاروق ایچ نائیک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے مشترکہ امیدوار تھے جبکہ رشید رضوی کو تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔

رشید اے رضوی پاکستان بار کونسل کے رکن ہیں اور انھوں نے جنوری 2000 میں مشرف کے دور میں پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا۔

نومنتخب صدر سپریم کورٹ بار رشید رضوی نے نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن سے سیاست شروع کی اور معراج محمد خان کی سرپرستی میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

رشید اے رضوی نے جنرل ایوب، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی آمریت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ سابق جج سندھ ہائیکورٹ کے چار مرتبہ صدر بھی رہے ہیں۔

نومنتخب صدر سپریم کورٹ بار رشید اے رضوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بار کی آزادی کے لیے کام کریں گے۔

رشید رضوی نے کہا کہ وکلا کی فلاح و بہبود اور آئین کی حکمرانی ان کے منشور کی بنیاد ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ بار کے سیکریٹری کے عہدے پر آفتاب باجوہ کامیاب ہوئے ہیں اور 115 ووٹوں سے اپنے مدمقابل امیدوار کو شکست دی۔

حامد خان گروپ کے نومنتخب سیکریٹری نے 1060 ووٹ لیے جبکہ ان کے مخالف عاصمہ گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار صفدر تارڑ 945 ووٹ لے سکے۔

۔سپریم کورٹ بار کے دیگر عہدوں پر ووٹوں کی گنتی کی جارہی ہے اور حتمی نتائج کا اعلان چند دنوں میں کیا جائے۔

متعلقہ خبریں