’اعتماد کی بحالی میں کئی سال لگ گئے‘

’اعتماد کی بحالی میں کئی سال لگ گئے‘

لاہور سے دو گھنٹے کی مسافت آپ کو قصور کے گنڈا سنگھ بارڈر کے قریب حسین خان والا گاؤں لے آتی ہے۔

پنجاب کے سینکڑوں دیہات کی طرح ایک عام سا گاؤں حسین خان والا گذشتہ برس اس وقت ملکی اور عالمی سطح پر خبروں کی زینت بنا جب یہاں بچوں سے جنسی زیادتی کا ایک بڑا سکینڈل منظرِ عام پر آیا۔

علی (فرضی نام) کی پیدائش حسین خان والا میں ہی ہوئی اورگاؤں کے دوسرے بچوں کی طرح بچپن گلیوں اور کھیتوں میں کھیلتے کودتے گزرا اور پھر ایک روز سکول جاتے ہوئے انھیں گاوں کے چند آدمیوں نے دبوچا اور ایک خالی عمارت میں لے گئے جہاں گن پوائنٹ پر علی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور زیادتی کے دوران انکی ویڈیو بنائی۔

اس واقعے کو چھ برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس کی تفصیل بتاتے ہوئے علی کا چہرہ غمناک تھا۔ وہ بار بار اپنے ہاتھوں کو مسل رہا تھا اور اس کا لہجہ تلخ تھا۔

' میں بارہ برس کا تھا اور جو ہو رہا تھا وہ میری سمجھ سے باہر تھا۔ انھوں نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنانے سے پہلے نشہ آور انجکشن لگایا اور مجھے دھمکی دی کہ میں اپنا منہ بند رکھوں۔ اگر میں نے کسی سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو وہ میری ویڈیو عام کر دیں گے۔'

علی کئی برس خاموش رہا۔ اس کے گھر والوں کو کچھ معلوم نہیں تھا نہ ہی اس کے دوستوں کو لیکن اسے زیادتی کا نشانہ بنانے والا گینگ اس سے مسلسل رابطے میں تھا۔

سنہ 2009 سے 2011 تک علی کو گینگ کی جانب سے بار بار زیادتی، تشدد اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اُن کے ساتھ اُس وقت تک زیادتی ہوئی جب تک وہ اپنی پڑھائی اور گاؤں کو خیرباد کہہ کر کام کاج کی تلاش میں لاہور منتقل نہیں ہوگئے۔

 

ایک اندازے کے مطابق علی ان سو کے لگ بھگ لڑکوں میں سے ایک تھے، جنھیں حسین خان والا میں 2006 سے 2014 تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے اکثر لڑکوں کی عمر 14 برس سے کم تھی۔

گاؤں چھوڑنے کے باوجود علی کی مشکل آسان نہیں ہوئی۔ گینگ یہاں بھی اس سے رابطے میں رہا اور کئی برس تک علی اپنی تنخواہ کا ایک خاطر خواہ حصہ محض اس لیے گینگ کو دیتا رہا کہ وہ ان کی ویڈیو کو گاؤں میں عام نہ کر دیں۔

' میں نے تنگ آ کر ایک مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی ۔ میں نے زہریلی گولیاں کھا لیں لیکن میرا کزن مجھے ہپستال لے گیا جہاں انھوں نے میرا معدہ صاف کیا اور میں بچ گیا۔'

مزید دو برس کشمکش میں گزارنے کے بعد 2013 میں علی کو گاؤں سے ان کے بھائی نے کال کی اور بتایا کہ ان کی زیادتی کی ویڈیو گاؤں بھر میں موبائل فونز پر عام ہو چکی ہے۔ علی کو اس وقت پتہ چلا کہ گاؤں میں درجنوں لڑکے اس گینگ کا شکار ہوئے ہیں۔

مقامی چینلز کے مطابق میڈیا پر اس سکینڈل کے منظرِعام پر آنے کے بعد حسین خان والا سے بچوں سے جنسی زیادتی کی 300 ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔

علی کے مطابق یہ ویڈیوز گینگ کے ارکان کے درمیان ہونے والی ایک لڑائی کے بعد ناراض عناصر نے جان بوجھ کر گاؤں میں عام کیں۔

علی اور ان کے خاندان نے بلیک میل ہونے کے بجائے گینگ کے سامنے مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ 'ہم نے منصوبہ بندی کی ، معلومات اکٹھی کیں۔ فیس بک سے گینگ کے ارکان کی تصویریں ڈاؤن لوڈ کیں اور زیادتی کے ویڈیو کلپس اکٹھے کرنے شروع کیے۔ میں نے اور بھائی نے ایسی 98 ویڈیوز اکٹھی کیں جن میں 39 بچوں سے زیادتی کی گئی تھی۔'

علی کو ان کوششوں میں مبین عزنوی کی مدد حاصل رہی۔ مبین کا تعلق بھی حسین خان والا سے ہے اور ان کے چند رشتے دار بچے بھی زیادتی کا شکار ہوئے۔ وہ گاؤں میں رضاکارانہ سرگرمیوں میں پیش پیش رہے تھے اور اب مقامی انتخابات میں چیئرمین منتخب ہو چکے ہیں۔

 

مبین کے گھر کا گولیوں سے چھلنی دروازہ گاؤں کے بااثر گینگ کے خلاف ان کی جدوجہد کی کہانی بیان کر رہا ہے۔

مبین کہتے ہیں کہ 'یہ ایک منظم جرائم پیشہ گروہ تھا۔ جس کا تعلق گاؤں کے ایک بااثر خاندان سے تھا اور 2013 میں ویڈیوز منظرعام پر آنے کے باوجود بھی متاثرین میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ ان کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔'

تاہم مبین نے علی اور ان کے خاندان کے ساتھ مل کر گینگ کے خلاف مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ گھر گھر گئے اور لوگوں کوترغیب دی کہ وہ اس جرم کے خلاف آواز اٹھائیں۔

 

مبین کے مطابق 'گینگ کو مقامی ایم پی اے اور پولیس کی سرپرستی حاصل تھیِ۔لوگ خوفزدہ تھے اور گینگ انھیں لوگوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ پولیس ہماری ایف آئی آرز بھی رجسٹر کرنے کو تیار نہیں تھی بلکہ معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔'

بالاخر متاثرین نے مبین کے ساتھ حسین خان والا آنے والی مرکزی شاہراہ کو احتجاجاً بند کر دیا۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور پھر معاملہ عالمی میڈیا کی زینت بننے لگا۔ حکومت پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام کا دباؤ بڑھنے لگا تو پولیس کو کارروائی کرنا ہی پڑی۔

کئی برس خوف اور شرمندگی میں گزارنے کے بعد اب علی اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

علی نے بتایا کہ 'جب میرے والدین کو پتہ چلا کہ میں کس کرب سے گزرا ہوں تو وہ بہت روئے۔ مجھے اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے اور اس بارے میں بات کرنے میں کئی سال لگے۔ میں تو یہی سوچتا تھا کہ اگر میرے والدین خاندان اور دوستوں کو پتہ چلا تو وہ کیا سوچیں گے۔'

چند ماہ پہلے انسداد دہشتگردی عدالت نے قصور زیادتی سکینڈل کے دو مجرموں کو عمر قید اور تین تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ایف آئی آرز میں نامزد تمام ملزم اس وقت جیل میں ہیں اور ان کے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے۔

علی کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد گاؤں سے درجنوں خاندانوں نے ہجرت کی اور دو ماہ تک پرائیویٹ سکولز بند رہے تاہم اب بظاہر یہاں حالات معمول پر آ چکے ہیں۔

مبین عزنوی کو یقین ہے کہ اب کم از کم ان کے چار سالہ بیٹے کا مستقبل محفوظ ہے اور وہ جنسی زیادتی کا نشانہ نہیں بنے گا تاہم وہ خود کو اس ماحول میں غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور خوفزدہ ہیں کہ کسی انتقامی کارروائی کا شکار نہ ہو جائیں۔

پاکستان