کارکردگی میں بتدریج بہتری آرہی ہے: محمد عامر

کارکردگی میں بتدریج بہتری آرہی ہے: محمد عامر

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی فٹنس اور ردھم میں بہتری آتی جارہی ہے ۔

واضح رہے کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں پانچ سال بین الاقوامی کرکٹ سے دور رہنے کے بعد محمد عامر ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔

شارجہ ٹیسٹ کے دوسرے دن کے اختتام پر محمد عامر کا کہنا ہے کہ کسی بھی کرکٹر خاص طور پر فاسٹ بولر کے لیے پانچ سال کے وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا آسان نہیں ہوتا لیکن جیسے جیسے وہ کرکٹ کھیلتےجارہے ہیں ان کی فٹنس بھی بہتر ہورہی ہے اور ردھم بھی واپس آرہا ہے ۔

محمد عامر کے خیال میں پانچ سال پہلے والی پوزیشن اور پرفارمنس تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے ۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوجاتا ۔ اس کے لیے وہ سخت محنت کررہے ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ کارکردگی میں بہتری آتی رہے۔

محمد عامر سے جب پوچھا گیا کہ پانچ سال کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ بولنگ کرتے ہوئے انھیں اپنی سوئنگ میں کیا فرق محسوس ہوا ہے ؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے دورے میں انھیں کچھ مشکل ہوئی تھی لیکن اب کچھ شکل بننا شروع ہوگئی ہے ا سکی وجہ یہ ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد زیادہ تر محدود اوورز کی کرکٹ کھیل رہے تھے جس میں وہ مختلف زاویے سے بولنگ کررہے تھے لیکن اب انھوں نے اپنے زاویے پر کام کیا ہے ۔

محمد عامر سے جب ان کے غیرمعمولی کیچ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا سہرا پاکستانی ٹیم کے فیلڈنگ کوچ اسٹیو رکسن کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ وہ کھلاڑیوں کی فیلڈنگ پر سخت محنت کررہے ہیں اس کے علاوہ انھیں یہ بھی اندازہ تھا کہ ڈیرن براوو کی وکٹ پاکستان کے لیے کتنی اہم ہے لہذا انھوں نے اس کیچ کے لیے ڈائیو لگائی اور وہ اس کوشش میں کامیاب رہے۔

ابوظہبی ٹیسٹ آرام کی غرض سے نہ کھلائے جانے کے بارے میں محمد عامر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ تھا ۔چونکہ وہ مسلسل کھیلتے چلے آرہے تھے لہذا انھیں آرام کی ضرورت تھی اس سے یہ بھی فائدہ ہوا کہ ٹیم نے اپنے دوسرے بولرز کو بھی موقع دیا کیونکہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے سے قبل انھیں بھی دیکھنا ضروری تھا۔

کھیل