Daily Mashriq


تضادات باقی ہیں

تضادات باقی ہیں

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت لندن میں مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں مائنس نواز کے مبینہ فارمولے کو مسترد اور کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت بلکہ قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے سامنے پیش ہونے، وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔ کسی ملک میں سیاسی بھونچال ہو تو اس طرح کی افواہیں گرم ہونے لگتی ہیں کہ بظاہر کچھ دکھائی نہ دینے کے باوجود حالات خراب بتائے جاتے ہیں۔ کچھ اس طرح کا منظر نامہ اس وقت ملکی فضا پر طاری ہے۔ خدشات کا تو اظہار کیا جا رہا ہے لیکن کن بنیادوں پر اس کا علم نہیں ہوپاتا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان افواہوں کو بے بنیاد بھی قرار دیتے ہیں مگر دوسری جانب ٹیکنو کریٹس کی حکومت کی آئین میں گنجائش نہ ہونے کا بھی بیان دے رہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے کسی این آر او کی جانب جانے کی بھی تردید کی۔ لندن سے اس ضمن میں بیان تو واضح آیا ہے لیکن سیاسی دنیا میں بیانات کی جگہ عملیات اہم ہوتے ہیں آمدہ دنوں میں ہی اس امر کا اندازہ ہو سکے گا کہ لندن میں کیا اہم فیصلے ہوئے ہیں جو صورتحال فی الوقت بیان کی گئی ہے اس کے تناظر میں جاری کشمکش اور کشیدگی میں اضافہ کا امکان ہے۔ البتہ مسلم لیگ(ن) کی ممکنہ تقسیم اس لئے ممکن نظر نہیں آتی کہ سات آٹھ مہینوں کے لئے کوئی بھی اپنے سیاسی کیرئیر کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ پیپلز پارٹی کا ساتھ چھوڑ گئے یا پھر مسلم لیگ(ن) سے علیحدہ ہوگئے ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہوا اور رفتہ رفتہ ان کی اکثریت کی سیاست ہی مٹ گئی۔ بہرحال حکومتی حلقوں سے متضاد قسم کے خیالات سے اس امر کا عندیہ ضرور ملتا ہے کہ درون خانہ کشمکش کی کیفیت ضرور ہے جس پر پارٹی کے اندر ہی قابو پانے کی کوشش ہو رہی ہوگی۔ جہاں تک سابق وزیراعظم نواز شریف کے موقف کا سوال ہے ان کے موقف میں نہ ماضی میں نرمی دیکھی گئی اور نہ ہی اب متوقع ہے۔ مصلحت کب غالب آجائے اور مجبوریوں کی بیڑیاں کب اتارنے کا فیصلہ کیا جائے اس کا امکان بہرحال ہر وقت رہتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) میں درون خانہ اختلاف رائے اور کشمکش کوئی نئی بات نہیں لیکن جب تک مخالفین کشتی سے چھلانگ لگانے پر نہ اتر آئیں یہ پارٹی کا اندرونی اور داخلی معاملہ رہے گا جوکہ فطری امر ہے۔ بار بار دو قسم کے آراء سامنے آنے سے یقیناً خود مسلم لیگ کے کارکنان اور ارکان اسمبلی بھی ذہنی تقسیم کا ضرور شکار ہوئے ہوں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ اور سابق وزیر داخلہ کے ذیل کے بیانات میں تضاد سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کہ کس کی بات میں وزن ہے اور کس کی نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کچھ خفیہ ہاتھ ملک میں جمہوری نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بار عوام اس روایت کو توڑ دیں گے۔ وزیر داخلہ نے اپنے فیس بک پیج پر جمہوری اور آمرانہ نظام کی تاریخ بتاتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں آزادی کے بعد جمہوری نظام کو ختم کرکے1960 میں مارشل لا لگایا گیا جس کے بعد1970 میں پھر جمہوریت، 1980 میں مارشل لا،1990 میں جمہوریت، 2000 میں مارشل لا جبکہ2008 میں جمہوریت اب 2020 میں؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ جمہوریت اور مارشل لا کے درمیان ہی گھومتی رہی ہے اور اب یہ طریقہ کار بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خفیہ ہاتھ تاریخ کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوریت کو پھر سے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ احسن اقبال نے سوال کیا کہ کیا ملک اب جمہوری نظام کی تباہی کے اس طریقہ کار کو ختم کرنا چاہتا ہے یا اب بھی وہی روایت اپنایا جائے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم اپنے مستقبل اور پاکستان کی ترقی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم سب نے غلطیاں کیں، یہاں تک کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازش کی، اس لئے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے گئے لیکن اب ہمیں آگے بڑھنا چاہئے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ(ن) اس وقت ذاتی مفادات پر مبنی پارٹی بن چکی ہے جبکہ پارٹی قیادت کو ذاتیات سے نکل کر ملک اور پارٹی پر توجہ دینی ہوگی۔ مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ(ن) لیگ اس وقت ذاتی مفادات پر مبنی پارٹی بن چکی ہے، پارٹی قیادت کو گومگو کی کیفیت سے باہر آنا ہوگا اور ذاتیات سے نکل کر ملک اور پارٹی پر توجہ دینی ہوگی جبکہ اگر ایسا نہ ہوا تو افراد کے ساتھ ساتھ پارٹی کا بھی نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے بعض اینکرز پارٹی میں مفاہمتی اور مزاحمتی گروپ کا تذکرہ کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں اور اگر الیکشن ملتوی ہونے کی بات سامنے آئی تو وہ آخری شخص ہوں گے جو کہیں گے کہ الیکشن ملتوی ہوں۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے بیان کو وزن دیں تو جمہوریت کو خطرہ نظر آتا ہے جبکہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار ابتداء ہی سے نواز شریف کی حکمت عملی کے ناقد رہے ہیں اور اب بھی وہ اس پر قائم ہیں۔ گزرے حالات اور سامنے آنے والے حالات و واقعات اور مسلم لیگ(ن) کے قائد کی بصیرت کا قائل ہونا فطری امر ہے، دوسری جانب حالات کی خرابی اور جمہوریت کو خطرات کا تذکرہ تو ملتا ہے مگر کوئی ایسی حکمت عملی نظر نہیں آتی کہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت اس سے کیسے نکلے گی۔ خواہ جو بھی صورت ہو ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی پر حرف نہیں آنا چاہئے اور کسی ایسی حکومت کے قیام کی نوبت نہ آئے جس کی آئین اور قانون میں گنجائش نہ ہو۔ مسلسل اختیار کردہ پالیسیوں کے اگر نقصانات واضح ہوں تو سیاسی مصلحت اور حکمت عملی کے تحت وسیع تر سیاسی مفاد میں لچک ہی بہتر جمہوری اصول ہوگا تاکہ ملک کو بحران کی کیفیت سے بچایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں