Daily Mashriq


وزیراعظم دوسروں سے بھی اس کی پابندی کروائیں

وزیراعظم دوسروں سے بھی اس کی پابندی کروائیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان میں وزیراعظم ہاؤس کے بعد لندن میں بھی سرکاری پروٹوکول لینے سے انکار کر دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیگ پکڑ کر لندن کی ٹرین میں لوگوں کے ساتھ سفر کرنا ہمارے باقی وزراء حکمرانوں اور بیوروکریسی سب کے لئے مشعل راہ ہونا چاہئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب لندن پہنچے تو انہوں نے سرکاری پروٹوکول کی بجائے لوگوں کے درمیان سفر کو ترجیح دی اور وہ لندن کی لوکل ٹرین میں لوگوں کے درمیان سفر کرتے رہے۔ سادگی محض طبیعت اور فطرت کا حصہ ہونے کی بناء پر ہی اختیار نہیں کی جانی چاہئے ایسی فطرت یقیناً مالک حقیقی کا انعام ہوتا ہے اور اس سے اس بندے کی شخصیت میں کوئی جھول نہ ہونے اور شخصیت کی تکمیل ہونے کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ اگر سادگی اور فطرت کا تقاضہ نہ بھی ہو تب بھی اسے من حیث القوم اپنے روز مرہ مزاج کا حصہ بنانے کی سعی کرنی چاہئے۔ ہماری قومی پالیسی میں سادگی اور اپنے کام خود کرنے، اپنا بوجھ خود اٹھانے اور دوسروں پر انحصار کی بجائے اگر خود انحصاری کو ایک قومی ضرورت اور پالیسی قرار دے کر اختیار کی جائے تو یہ عین فطرت عین اسلامی تعلیمات کی پیروی اور قومی مفاد کے مطابق ہوگی۔ غیر ضروری نمود و نمائش اور پروٹوکول پر جتنے اخراجات اٹھتے ہیں اگر ان اخراجات میں کمی لائی جائے تو کتنے مریضوں کا علاج اور کتنے مزید بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا ممکن ہوگا اور خزانے پر بوجھ بھی ہلکا ہوگا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ذاتی زندگی میں مثال قائم کرنا کافی نہیں بلکہ اپنے کابینہ کے ممبران اور حکمرانوں کی اولادوں کو بھی اس طرح کے طرز عمل کی پابندی کروانا ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ حکمران اگر سادگی کا مظاہرہ کریں گے تو عوام کو ان کی تقلید کرنا فطری امر ہوگا۔ اگر بعد از اقتدار یا ملک سے باہر جا کر اس طرح کی طرز زندگی اختیار کرنے میں کوئی مشکل نہیں یا پھر طوعاً و کرہاً ہی ایسا کیا جاسکتا ہے تو پھر حکومت میں ہوتے ہی ایسا کرنا کیوں ممکن نہیں کہ بعد از مدت اقتدار عوام میں واپس آنے میں قباحت و ہچکچاہٹ اختیار کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

ڈینگی کی وباء پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت

صوبائی دارالحکومت پشاور میں ڈینگی کی وباء سے جاں بحق ہونے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک نوجوان جاں بحق ہوگیاجبکہ مزید ایک سو بارہ افراد کو علاج کے لئے ہسپتال لایا گیا جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ڈینگی کی وباء پر قابو پانے کی تمام کوششیں رائیگاں اور لاحاصل رہیں۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ڈینگی میں مبتلا مریضوں کے علاقوں سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ڈینگی کی وباء پشاور یونیورسٹی اور مضافاتی علاقوں تک آچکی ہے۔ حیات آباد میں بھی ڈینگی کے مریضوں کی موجودگی نوٹ کی گئی ہے لیکن ان کو مچھر کے کاٹنے کے مقام بارے وثوق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ حکومت کی طرف سے سپرے کا موثر نہ ہونا اور ڈینگی کا مسلسل پھیلائو تشویش ناک امر ہے۔ اب موسم سرما کی بارش اور اچانک تیز سردی کی آمد سے ہی اس وباء کے پھیلائو کی روک تھام کی توقع ہے۔ ڈینگی کے پھیلائو کی جہاں دیگر وجوہات ہیں اور ان وجوہات کے خاتمے کے لئے وقتاً فوقتاً اقدامات اور اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی مساعی بھی سامنے آتی رہی ہیں لیکن مجموعی طور پر دنیا میں جہاں جہاں بھی اس وباء کا ظہور ہوتا ہے گنجان آبادی اس کے پھیلائو کی سب سے بڑی وجہ گردانی جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل ہمارے جیسے ممالک کے پاس ممکن نہیں۔ ایشیائی اور لا طینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے ممالک میں ڈینگی وائرس کاپھیلائو اور دیکھتے ہی دیکھتے سو ممالک تک اس کاپھیل جانا اس وباء کے تیزی سے پھیلائو کا مظہر ہے ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صوبائی دارالحکومت پشاور میں تہکال سے شروع ہونے والی اس وباء پر اگر قابو نہیں پایا جاسکا تو اسے محدود کرنے کااعتراف کرنا درست نہ ہوگا۔ مگر دنیا کے بیشتر ممالک میں اس وباء پر جس طرح قابو پایا جا سکا ہے اس حد تک کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیاگیا۔ حکومت کو چاہئے کہ ان ممالک کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے۔ شہریوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کی ہدایات اور احتیاطی تدابیر کو ہر قیمت پر اختیار کریں اور حکومتی اداروں اور ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کا مظاہرہ کریں اور اپنے گھروں اور محلوں کو ڈینگی سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ذمہ داری سے ادا کریں۔

متعلقہ خبریں