Daily Mashriq


مروجہ سیاست کی اسیر پیپلز پارٹی

مروجہ سیاست کی اسیر پیپلز پارٹی

کڑوا سچ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی بھی 1988ء سے مروجہ سیاست کی ’’اسیر‘‘ ہے۔ مروجہ سیاست کیا ہے۔ فقط یہی کہ سمجھوتوں اور مصلحتوں سے وقت گزارا جائے۔ بالا دست طبقات کی ناز برداری کی جائے۔ مذہبی انتہا پسندی اور دیگر مسائل کا شکار پاکستان ایک ترقی پسند اور عوام دوست جماعت کی راہ تک رہا ہے۔ کیا گرد و غبار سے اٹے اس راستے سے پھر پیپلز پارٹی اپنے اصل میدان میں واپس آسکے گی؟ سوال بہت سادہ ہے لیکن جواب تلاش کرتے ہوئے دانتوں پسینہ آجائے گا۔ پیپلز پارٹی کا شاندار ماضی ہے۔ جمہوریت کے لئے قربانیاں بھی۔ بھٹو خاندان جن المیوں سے دو چار ہوا وہ المیے خون رلاتے ہیں لیکن کیا محض شاندار ماضی اور قربانیاں احیاء کی ضمانت ہیں؟ جی نہیں۔ معاف کیجئے گا پیپلز پارٹی کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار دو طرح کے لوگ ہیں۔ ا ولاً وہ جنہوں نے اس جماعت کو عوام دوست سیاسی جماعت سمجھ کر کچلے ہوئے طبقات کی سر بلندی کے لئے کردار ادا کرنے کی بجائے اسے سونے کا انڈہ دینے والی مرغی سمجھا اور اپنا الو سیدھا کیا۔ ثانیاً وہ جن کا خیال ہے کہ جناب زردای امام سیاست ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے شاندار انسان اور نا بغہ روزگار ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت آج جس دوراہے پر کھڑی ہے اس کی بنیادی وجہ پارٹی کے اندر جمہوری کلچر کا نہ ہونا ہے۔ استحصالی طبقات اور اداروں کو للکارتے ہوئے میدان سیاست میں اترنے والی پیپلزپارٹی پر کئی عشروں سے استحصالی طبقات قابض ہیں۔ بگاڑ اور خرابیوں کے باوجود پیپلز پارٹی نے اپنے پچھلے دور اقتدار میں چند اچھے کام کئے ان میں اہم ترین کام ان دستوری ترامیم کاخاتمہ تھا جو آمروں کے ادوار میں ہوئیں۔ چند اور کام بھی ہیں مگر اس کے میڈیا منیجرز نے رائے عامہ تک حقیقت حال پہنچانے میں کوتاہی کی۔ ایک ظلم یہ ہوا کہ جن اہل صحافت پر پانچ سال واری صدقے ہوئے وہی ان کے خون کے پیاسے بنے دکھائی دئیے۔ مگر اصل مسئلہ اب اور ہے وہ یہ کہ کیا آنے والے دنوں کی سیاست میں پی پی پی کا کوئی بھرپور کردار ہے۔ معاف کیجئے گا کیا خالی خولی دعوئوں سے کردار بن سکتاہے۔

پاکستانی سیاست میں مخصوص مقاصد کے لئے ہمہ قسم کی انتہا پسندی کے بیج بونے والے نچلے نہیں بیٹھے۔ حالات سخت تر ہیں۔ گالم گلوچ بریگیڈ اور چند دوسروں کی ڈوریں ایک ہی جگہ سے ہلائی جا رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان حالات میں پیپلز پارٹی عوام دوست سیاست سے رجوع کرے۔ وہ تو پھر سے ایک بار بڑے خاندانوں کے لاڈلوں کے پیچھے پیچھے ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ سازشوں اور جوڑ توڑ کے اس موسم میں پیپلز پارٹی سمیت دیگر جمہوریت پسندوں پر لازم ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھیں۔ لازم ہے کہ پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتیں اپنی پارٹیوں کے اندر جمہوری کلچر کو فروغ دیں۔ جمہوری کلچر ہی نئی نسل کے سیاسی کارکن پیداکرنے کا ذریعہ ہے۔ بد قسمتی سے اس وقت ملک میں جو سیاسی جماعتیں سرگرم عمل ہیں ان کی نچلی سطح تک کی قیادت دولت مندوں کے پاس ہے۔ کیا کسی کو اس بات سے انکار ہے کہ طبقاتی مفادات ہرطبقے کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں اگر نچلے طبقوں کے لوگوں کو حیثیت نہیں دی جائے گی تو کیسے وہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کی ترجمانی کریں گی۔ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت لا علم ہے کہ اسلام آباد میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ علم میں ہے تو پھر صاف سیدھے لفظوں میں بتائے کہ تدارک کے لئے کیا حکمت عملی وضع کی۔ ایک ایسی جماعت جو سامراج دشمن نظریات کی وجہ سے پاکستانی سماج کے کچلے ہوئے طبقات کی آواز بنی۔ آج اس کے علاقائی و عالمی سامراج اور خود ملک کے اندر موجود سامراج مزاج لوگوں بارے خیالات کیا ہیں۔ کہنے والی بات یہ ہے کہ مفاہمت کی جس سیاست نے بگاڑ پیدا کیا وہ چند تند و تیز بیانات سے اصلاح احوال میں مدد دے پائیں گے۔ لاریب سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں لیکن سیاسی نظریات بہر طور اہمیت رکھتے ہیں۔ سیاسی نظریات کی غذا جمہوریت ہے۔ پیپلز پارٹی میں اوپر سے نیچے تک تقرریوں سے کام چلایا جارہاہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں مستقبل کے حوالے سے جن تجربوں کے لئے آٹا گوندا جا رہا ہے وہ حیران کن نہیں بلکہ افسوسناک ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ کچھ ایسا تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ پیپلز پارٹی واپسی کے لئے ’’اصل مالکوں‘‘ کی خوشنودی کے حصول کے لئے سر گرم عمل ہے اور اس کے لئے رحمن ملک اور اعتزاز احسن کی جوڑی پر انحصار کیاجا رہا ہے۔ ہوسکتاہے کہ یہ محض افواہ ہو لیکن دن بدن پختہ ہوتے اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے پیپلز پارٹی نے کیا کیا؟

مکرر عرض ہے نصف صدی کی عمر رکھنے والی پیپلز پارٹی بہت ساری خرابیوں کے باوجود ملک گیر وجود رکھتی ہے (گو چند لوگ بڑے جلسوں کو ملک گیری کی علامت سمجھتے ہیں) اس وجود کو برقرار کیسے رکھنا ہے اور متحرک کردار کی پالیسی کیاہے۔ صاف سیدھے لفظوں میں یہ کہ پیپلز پارٹی کو محلاتی سازشوں سے فاصلے پر رہنا چاہئے۔ مفاہمتی سیاست نے جو کانٹے بوئے ہیں انہیں نکالنے کی ضرورت ہے۔ یہاں تو المیہ یہ ہے کہ جن میڈیا ہائوسز پر سندھ حکومت اشتہارات کی بارش فرما رہی ہے وہ بھی سندھ کا منفی چہرہ دکھانے میں پیش پیش ہیں۔ مربوط و منظم میڈیا سیل کا وجود نہیں۔ سیاسی جماعت اپنے کارکنوں کی تربیت کیلئے جو سٹڈی سرکلز کرتی ہے وہ ہوتے ہیں نہ ان کی ضرورت سمجھتی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انتخابی سیاست اب کاروبار ہے اور جب کاروبار ہی ہوتا ہے تو کا ہے کے نظریات اور کہاں کے کارکن۔ مروجہ سیاست سے محبت کے شوق نے پیپلز پارٹی کو کیا دیا اور پیپلز پارٹی کن کن خوبیوں سے محروم ہوئی ٹھنڈے دل سے اس کے تجزئیے کی ضرورت ہے۔ دو خطرات تیزی سے بڑھتے آرہے ہیں اولاً ہمہ قسم کی انتہا پسندی کے نئے ایڈیشنوں کا ظہور اور ثانیاً مالکوں کا شوق تجربہ ہے۔ دونوں خطروں کے تدارک کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی نیا تجربہ اس ملک کے گلے ڈال دیا جائے اس لئے بہت ضروری ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی پالیسی وضع کرے۔

متعلقہ خبریں