Daily Mashriq


ہمارے بچپن کے دن۔۔

ہمارے بچپن کے دن۔۔

بچپن کسی نہ کسی حد تک سب کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی شرارتیں، معصومانہ دوستیاں، گلی محلے کا ماحول، کوئی پریشانی نہ کسی قسم کا غم، بچے گلیوں میں کھیلتے کھلتے تھک جائیں تو گھر کی طرف بھاگتے ہیں۔ شفیق ماں نے ان کی پیٹ پوجا کا بندوبست کر رکھا ہوتا ہے، بھوک لگی ہو تو کھانا ہمیشہ تیار ملتا ہے بچے یہ نہیں جانتے کہ سبزی کہاں سے آئی، گوشت کون لایا، بس بھاگتے ہوئے گھر آئے، کھانا کھایا اور پھر گلی میں بھاگ دوڑ شروع ہوگئی۔ وقت بدلتا ہے تو ساتھ چیزیں بھی بدلتی چلی جاتی ہیں اسی لئے کہتے ہیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ آج بچوں کے پاس سمارٹ فون ہے، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کی سہولت ہے، وہ گھنٹوں ان مشینی عجوبوں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں اس حوالے سے انہیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ سائنس کی ترقی نے ان سے جسمانی کھیل کود بھی چھین لئے، اسی لئے اب جس طرف دیکھئے بچے ناک پر عینک سجائے چھوٹے چھوٹے فلسفی نظر آتے ہیں۔ کتاب پڑھنے کا وقت نہیں سارا وقت سمارٹ فون جو لے لیتا ہے؟ کتاب اور علم کا چولی دامن کا ساتھ ہے قصے کہانیوں کی کتابوں سے شروع ہونے والا سفر پھر سنجیدہ مطالعے کی طرف لے آتا ہے ایک مرتبہ کتاب سے دوستی ہو جائے تو تعلیم حاصل کرنے کے مرحلے آسان سے آسان تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اب جسے دیکھئے وقت کی کمی کا رونا روتا نظر آتا ہے آپس کا ملنا جلنا میل ملاپ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے جب آپ اپنی ذات میں مگن ہو جائیں، تن تنہا مصروف رہا جا سکے تو پھر دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کی ضرورت کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ اب والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بچہ باہر گلی میں نہ کھیلے اسے گھر میں ہی مصروف رکھا جائے گلی میں کھیلنے سے بچوں کی عادتیں بگڑتی ہیں باہر کا ماحول اچھا نہیں ہے۔ ہم دانشور تو نہیں ہیں شاید وہ ٹھیک کہتے ہوں لیکن گلی محلے میں کھیل کود کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے بچپن میں بچے سکول سے آتے ہی کھانا کھا کر تھوڑی دیر آرام کرتے اور پھر گلی میں کھیلنے کے لئے باہر نکل جاتے۔ گلی میں کرکٹ بھی کھیلی جاتی، گلی ڈنڈا اور پیٹو گرم بھی! آنکھ مچولی اور چور سپاہی کے کھیل بھی ساتھ ساتھ چلتے یہ سارے کھیل زبردست قسم کی ورزشیں ہیں جن میں بچوں کو اچھا خاصہ بھاگنا پڑتا ہے آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں انہی چھوٹی موٹی لڑائیوں سے خوف ختم ہو جاتا ہے بچے دلیر ہو جاتے ہیں بعد میں جب وہ زندگی کے کارزار میں قدم رکھتے ہیں ان کا واسطہ زندگی کے تلخ حقائق سے پڑتا ہے تو یہ بہادری اور جرأت ان کے بہت کام آتی ہے۔گھر کی طرف سے یہ حکم تھا کہ شام کی اذان سے پہلے گھر واپس آنا ہے بچے کھیل کود کے بعد گھر آتے مغرب کی نماز کے بعد سکول کا ہوم ورک کیا جاتا اس کے بعد کھانا کھا کر جب بستر پر گرتے تو انہیں اپنے تن بدن کا ہوش نہ ہوتا، صبح سکول کے لئے آنکھ کھلتی! سکول جانا اور گھر آکر سکول سے ملا ہوا ہوم ورک کرنا بس یہی تعلیم تھی، اس وقت سرکاری سکول ہوتے یا دوچار عیسائی مشنریوں کے سکول تھے جیسے شہر کے اندر کوہاٹی گیٹ کے پاس سینٹ جانز ہائی سکول اور ایڈورڈ ز ہائی سکول! کنٹونمنٹ کے علاقے میںسینٹ میریز اور ایڈورڈ کالج بس پرائیویٹ سکولوں کا یہی اثاثہ تھا۔ بچپن اسی وقت یاد آتا ہے جب بچپن کے کسی دوست سے اچانک ملاقات ہوجاتی ہے پرانی باتیں دہرائی جاتی ہیں پرانے دوستوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے ان شرارتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو بچپن کا اٹوٹ انگ ہوتی ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا بچپن کے دوست صاحبزادہ جمیل نور جسے ہم سب جمی کہا کرتے تھے نے راولپنڈی سے فون کیا کہ آپا کی قبر بنوائی ہے تم قبر جاکے دیکھ لو اور ٹھیکیدار کو فارغ کردو، جب میں قبرستان پہنچا تو مسز اقبال نور جو ہم سب کی آپا تھیںکی قبر دیکھ کر میرے ذہن کے نہاں خانوں میں نجانے کتنے دریچے کھل گئے۔ آپا کی قبر کے پہلو میں ان کی پیاری بیٹی نیلوفر اقبال کی قبر تھی جو کچن میں گیس کا چولہا پھٹ جانے سے نوجوانی ہی میں انتقال کر گئی تھیں، میں فاتحہ پڑھتے ہوئے کھو سا گیا جمی کی امی جان جو ہم سب کی آپا تھیں کتنی شفیق ہستی تھی! لیڈی گرفتھ سکول پشاور میں ہیڈ مسٹرس تھیں محلے کے سب بچے ان سے بہت مانوس تھے ٹی وی سب سے پہلے ان کے گھر آیا تھا ہم بہت سارے بچے ٹی وی دیکھنے ان کے گھر جمع ہوجاتے جہاں دو چار بچے اکٹھے ہوجائیں وہاں شور تو ضرور مچتا ہے لیکن آپا نے ہمیں کبھی نہیں ڈانٹا کبھی اپنے گھر آنے سے منع نہیں کیا وہ سراپا پیار تھیں ہم وہاں کھانے بھی کھاتے اور چائے بھی پیتے! وہ ہم سے چھوٹے چھوٹے سوال بھی پوچھتیں اور باتوں باتوں میں ہمیں بہت کچھ سکھا دیتیں۔ ہمیں اس بات کا احساس اب ہوا ہے کہ ان کے گھر جانا، وہاں کھیلنا، ان کی باتیں سننا، ان کے گھر کے طور طریقے ہمارے لئے باقاعدہ ایک تہذیبی عمل تھا۔ ایک بھرپور تعلیم تھی اب بھی خیال آتا ہے کہ اگر ہمیں اپنے پڑوس میں اتنا اچھا ماحول نہ ملتا تو شاید ہم یہ تھوڑی بہت تعلیم بھی حاصل نہ کر پاتے! اس گھر کے ماحول کی یاد آتی ہے تو ان کی عالی ظرفی اور وسعت قلب حیران کر دیتی ہے۔ اب ہمارے گھر کی چھت پر گلی کے بچوں کا بال آجائے تو ہم انہیں کتنا ڈانٹتے ہیں، یقیناً دل تنگ ہوگئے ہیں آپا سرتا پا پیار تھیں، انہوں نے کبھی بچوں کو نہیں ڈانٹا، شور مچانے سے منع نہیں کیا، ہم گھنٹوں ان کے گھر میں کھیلتے رہتے انہوں نے کبھی منع نہیں کیا! کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہمیں آپا ہی کے گھر سے ہوا تعلیم وتربیت، بچوں کی دنیا، نونہال پڑھنے کا چسکا ہمیں وہیں سے لگا یوں کہئے ذہن کی وسعت اسی بچپن کے مطالعے کی عطا ہے! فاتحہ پڑھتے پڑھتے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی جب آنسو خشک کرکے آپا کی قبر سے واپس لوٹا تو اپنا بچپن وہیں چھوڑ آیا تھا۔

متعلقہ خبریں